ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو : وقف آمدنی کے ذریعہ مسلم خواتین کو خود مختار بنانے کی کوشش

اسلامی بیت المال کے صدر مختار احمد نے کہا کہ اب تک ایک ہزار لڑکیاں اس ادارے سے فارغ ہوچکی ہیں ۔ کئی لڑکیوں کو نجی کمپنیوں میں ملازمت مل چکی ہے تو کئی لڑکیاں کپڑوں کی سلائی کے ذریعہ گھر بیٹھے روزی روٹی کما رہی ہیں۔

  • Share this:
بنگلورو : وقف آمدنی کے ذریعہ مسلم خواتین کو خود مختار بنانے کی کوشش
بنگلورو : وقف آمدنی کے ذریعہ مسلم خواتین کو خود مختار بنانے کی کوشش

بنگلورو میں اسلامی بیت المال کے تحت قائم کمپیوٹر، فیشن ڈیزائننگ اور ٹیلرنگ انسٹی ٹیوٹ کا سالانہ جلسہ برائے 2020 منعقد ہوا۔ اس موقع پر لڑکیوں کے ہنر اور talent کا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا۔ صرف تین ماہ کا کورس مکمل کرنے والی لڑکیوں نے کمپیوٹر اور ٹیلرنگ کورس سیکھ کر اپنے علم و ہنر کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ فیشن ڈیزاننگ اور ٹیلرنگ کا کورس مکمل کرنے والی لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں سے ملبوسات کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے تیار کئے جو نمائش میں توجہ کا مرکز بنے رہے۔وہیں کمپیوٹر کورس مکمل کرنے والی طالبات نے بھی اپنے اپنے  پروجیکٹ پیش کرتے ہوئے خوب پذیرائی حاصل کی۔اسلامی بیت المال کے ہی شادی محل میں منعقدہ سالانہ جلسہ میں کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے ایڈشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر معاذ الدین خان کے ہاتھوں تین ماہی کورس مکمل کرنے والی لڑکیوں کو سرٹیفکیٹ اور انعامات سے نوازا گیا۔


اسلامی بیت المال کے صدر مختار احمد نے کہا کہ اب تک ایک ہزار لڑکیاں اس ادارے سے فارغ ہوچکی ہیں ۔ کئی لڑکیوں کو نجی کمپنیوں میں ملازمت مل چکی ہے تو کئی لڑکیاں کپڑوں کی سلائی کے ذریعہ گھر بیٹھے روزی روٹی کما رہی ہیں۔ مختار احمد نے کہا کہ شہر کے بزرگوں نے جس مقصد کے تحت ادارے کو قائم کیا تھا اسے پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ بنگلورو کے شیواجی نگر میں 1951 میں شہر کے بزرگوں نے مل کر اسلامی بیت المال قائم کیا تھا۔ بیت المال کے ذریعہ غریبوں، یتیموں، بیواؤں کی مدد کرنے کا سلسلہ اس وقت سے باقاعدہ جاری رہا۔


بنگلورو میں اسلامی بیت المال کے تحت قائم کمپیوٹر، فیشن ڈیزائننگ اور ٹیلرنگ انسٹی ٹیوٹ کا سالانہ جلسہ برائے 2020 منعقد ہوا۔
بنگلورو میں اسلامی بیت المال کے تحت قائم کمپیوٹر، فیشن ڈیزائننگ اور ٹیلرنگ انسٹی ٹیوٹ کا سالانہ جلسہ برائے 2020 منعقد ہوا۔


اسلامی بیت المال کی ملکیت پر دو شادی محل تعمیر کئے گئے۔ ان شادی محلوں کی آمدنی دو مد پر خرچ ہوتی ہوئی آ رہی ہے۔ پہلا تعلیم اور دوسرا طب۔  چند سال قبل اس اوقافی ادارے کی کمیٹی نے یہ اہم فیصلہ کیا کہ ضرورت مندوں میں انفرادی طور پر مدد فراہم کرنے کے بجائے کیوں نہ ایک ایسا قدم اٹھایا جائے کہ ملت کی لڑکیاں کچھ سیکھ کر اپنے پیروں پر خود کھڑی ہوجائیں، خود کفیل اور خود مختار بن جائیں۔لہذا 6 سال قبل اسلامی بیت المال کے ہی نام سے آئی بی ایم کمپیوٹر ، فیش ڈیزائننگ اور ٹیلرنگ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی۔

اسلامی بیت المال کے صدر مختار احمد نے کہا کہ جو رقم تعلیم کیلئے مختص کی جاتی تھی ، اس رقم کو اکھٹا کرتے ہوئے لڑکیوں کیلئے یہ تربیتی ادارہ قائم کیا گیا ۔ جس کے مثبت نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طبی مقصد کیلئے مختص کی جانی والی  رقم آج بھی مستحق مریضوں کے علاج پر ہی خرچ کی جارہی ہے ۔ مختار احمد نے کہا کہ اسلامی بیت المال کے شادی محل مناسب قیمت پر شادیوں کی تقریبات کیلئے دئے جاتے ہیں۔ اس ادارے سے دو ٹیچرز، ایک منیجر سمیت 10 ملازمین کی تنخواہوں بھی ادا کی جاتی ہیں ۔  کمپیوٹر اور ٹیلرنگ کی اس مفت تربیت سے نہ صرف مسلم لڑکیاں بلکہ دیگر مذاہب کی لڑکیاں بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔

بہرحال وقف کی آمدنی کا استعمال موثر طریقے سے کیسے کیا جائے، کسطرح ایک وقف ادارہ تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کسطرح وقف کی آمدنی سے سماج کی بدحالی کو دور کیا جاسکتا ہے؟ اس کی ایک عمدہ مثال بنگلورو کے اس قدیم اوقافی ادارے نے پیش کی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 15, 2020 11:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading