உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فلائٹ چھوٹنے پر Airlines کو دینا پڑا 1 لاکھ روپئے کا ہرجانہ، جانیں کیا ہے معاملہ

    سریشم نے ایئر لائنز کے خلاف شکایت درج کرائی اور فلائٹ پر خرچ کی گئی رقم کی واپسی کی درخواست دی۔ انڈیگو Indigo flight  نے ان کی درخواست کو خارج کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔

    سریشم نے ایئر لائنز کے خلاف شکایت درج کرائی اور فلائٹ پر خرچ کی گئی رقم کی واپسی کی درخواست دی۔ انڈیگو Indigo flight نے ان کی درخواست کو خارج کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔

    سریشم نے ایئر لائنز کے خلاف شکایت درج کرائی اور فلائٹ پر خرچ کی گئی رقم کی واپسی کی درخواست دی۔ انڈیگو Indigo flight نے ان کی درخواست کو خارج کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔

    • Share this:
      حیدرآباد سے کولکاتہ جا رہے ڈیڈوگو سریشام اور ان کی بیٹی کی فلائٹ اس لیے چھوٹ گئی کیونکہ ان کے بورڈنگ پاس کو پرنٹ ہونے میں وقت لگ گیا تھا۔ حالانکہ انہیں ایک سیٹ دی گئی تھی لیکن اس کی وجہ سے کولکاتہ سے جورہاٹ کے لئے ان کی کنیکٹنگ فلائٹ نے بھی نکل گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ کولکاتہ سے جورہاٹ کے لیے صرف ایک فلائٹ تھی۔ اور اگلے دن سریشام کی بیٹی کو کالج میں داخلہ لینا تھا۔ اس کے بعد سریشم نے انڈیگو کی دو اور پروازیں بک کروائیں۔ ایک حیدرآباد سے کولکاتہ اور پھر کولکاتہ سے گوہاٹی۔ وہاں سے انہیں رات بھر بس سے سفر کرنا تھا اور صبح جورہاٹ جانا تھا۔ سریشم نے ایئر لائنز کے خلاف شکایت درج کرائی اور فلائٹ پر خرچ کی گئی رقم کی واپسی کی درخواست دی۔ انڈیگو Indigo flight  نے ان کی درخواست کو خارج کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔

      سریشام کو عدالتی کارروائی کے دوران 15 سماعتوں میں پیش ہونا پڑا، جس میں دو سال لگے کیونکہ ایئر لائنز اپنے کاغذات پیش کرنے کے لیے وقت مانگتی رہی۔ حالانکہ، شکایت کنندہ کو کسی وکیل کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ معاملہ سادہ تھا۔

      Dhoni Left Captaincy: ایم ایس دھونی نے CSK کی کپتانی پر لیا بڑا فیصلہ، Ravindra Jadeja کو سونپی کمان

      مقدمے بازی میں خرچ کی گئی رقم دینے کا حکم بھی دیا گیا۔
      آخر میں، اپنا فیصلہ سناتے ہوئے، عدالت نے درخواست گزار کو ہونے والی مشکلات کے لیے ایک لاکھ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی IndiGo کو سفر کے لیے کی گئی اضافی ادائیگی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کے لیے 20000 روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: