ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

جمعیۃ علماء ہند نے بلا تفریق مذہب کیرالہ سیلاب متاثرین کو فراہم کیا چھت، مولانا ارشد مدنی کے تئیں عقیدت کا اظہار

گھرکی چابیاں وصول کرنےکے بعد کیرالہ سیلاب متاثرین کا مجموعی تاثرظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دلاسہ تو سب نے دیا مگرکام جمعیۃعلماء ہند نےکیا۔

  • Share this:
جمعیۃ علماء ہند نے بلا تفریق مذہب کیرالہ سیلاب متاثرین کو فراہم کیا چھت، مولانا ارشد مدنی کے تئیں عقیدت کا اظہار
جمعیۃ علما ہند کے ذریعہ تعمیرکئےگئے گھروں کو مولانا سید ارشد مدنی کیرالہ سیلاب متاثرین کے حوالے کرتے ہوئے۔

نئی دہلی / کنورکیرالہ: لوگ آئے دلاسہ دے کرچلےگئے، مگرکام جمعیۃعلماء ہند نے کیا، یہ مجموعی تاثرکیرالہ کے ان سیلاب متاثرین کا ہے جنہیں گزشتہ روزصدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے خود اپنے دست مبارک سے نوتعمیرشدہ گھروں کی چابیاں سپردکیں، چابیاں پاکریہ لوگ کچھ اس قدرجذباتی ہوچکے تھےکہ جب ان سے ان کےتاثرات جاننے کی کوشش کی گئی تو وہ زبان سے توکچھ نہ کہہ سکے، البتہ ان کی آنکھیں مارے خوشی کے چھلک پڑیں۔


ایک عمررسیدہ بیوہ عیسائی خاتون سروجنی نے سسکیوں کے درمیان اپنی مقامی زبان میں کہا، گاڈ مدنی صاحب کو سلامت رکھےکہ انہوں نے ہمارے درد کو محسوس کیا اورہمیں ایک چھت فراہم کی، اس بیوہ خاتون کی کہانی بہت دردناک ہے، اکلوتابیٹا شوگرکا مریض ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف اپنے دونوں پیروں سے محروم ہوچکا ہے بلکہ اس کے گردے بھی خراب ہوچکے ہیں، کسی طرح محنت مزدوری کرکے یہ حوصلہ مندخاتون دووقت کی روٹی کابندوبست کرتی ہے اوربیٹے کا حسب استطاعت علاج بھی کراتی ہے، سال بھرپہلے سیلاب کی شکل میں یہاں جوقیامت صغریٰ نازل ہوئی اس میں اس کا گھربھی بہہ گیاتھا، اب اس کے سامنے روزی روٹی اوربیٹےکےعلاج کے ساتھ ساتھ سرپرایک عددچھت کا بھی مسئلہ آن کھڑاہواتھا۔


جمعیۃعلماء ہند کوئی کام ہندومسلم دیکھ کرنہیں کرتی: مولانا ارشد مدنی


اس موقع پرمولانا ارشد مدنی نے حاضرین کے بے حد اصرارپرایک مختصرمگرپراثرخطاب بھی کیا۔ ابتدا میں آپ نے جمعیۃعلماء ہند کےاغراض ومقاصد اوراس کی تاریخ پرروشنی ڈالی اورکہا کہ جمعیۃعلماء ہند کا پارلیمنٹ یا اسمبلی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کےلئےعلماء کی جماعت ڈیڑھ سوبرس تک قربانی دیتی رہی جب ملک آزادہوا تو ہمارے اکابرین نے فیصلہ کیا کہ ہماراسیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اب ہم مسلمانوں کی دینی خدمت کریں گے اورمذہب سے اوپراٹھ کرلوگوں کے لئے کام کریں گے۔ مولانا مدنی نےکہا کہ جہاں کہیں کوئی مصیبت آتی ہے یا قدرتی آفات نازل ہوتی ہیں ہم مذہب سے اوپراٹھ کراپنی بساط بھرلوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتےکہ یہ کام بس ہم ہی کرتے ہیں اورلوگ بھی کام کرتے ہیں، لیکن جمعیۃعلماء ہند کی خصوصیت یہ ہے کہ ہندومسلم اورعیسائی کی تفریق کئے بغیرجو بھی مصیبت کا شکارہوتا ہے اس کی مددکرتی ہیں۔

مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کوئی کام ہندومسلم دیکھ کرنہیں کرتی۔
مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کوئی کام ہندومسلم دیکھ کرنہیں کرتی۔


جمعیۃعلماء ہند ہرموڑپرسنبھالتی ہے ذمہ داری 
مولانا ارشد مدنی نے بتایا کہ اس سے پہلے بہار، آسام، اور کشمیر میں جب سیلاب آیا توکس طرح جمعیۃعلماء ہند نے لوگوں کی مددکی، انہوں نے مزیدوضاحت کی کہ مصیبتیں صرف آسمانوں سے ہی نازل نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانوں کے ذریعہ بھی دوسرے انسانوں پر نازل کردی جاتی ہیں اس حوالہ سے انہوں نے کئی واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ آسام میں بوڈو قبائل اورغیربوڈوقبائل میں جب نسلی جنگ ہوئی توتقریبا ساڑھے تین لاکھ لوگ بےگھر ہوگئےتھے، اس میں ہندواورمسلمان دونوں تھے۔ جمعیۃعلماء ہند نے وہاں 500سوسے زائد مکانات تعمیرکروائے اوراس کی تقسیم میں کوئی مذہبی تفریق نہیں کی۔

آسام شہریت معاملہ میں قانونی جدوجہد

انہوں نےمختصرلفظوں میں جمعیۃعلماء ہند کی حالیہ کارکردگی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح آسام شہریت معاملہ میں اس نے کامیاب قانونی جدوجہدکی اورجس کی وجہ سےلاکھوں خواتین کی شہریت پرمنڈلانے والا خطرہ ٹل گیا، اس میں بڑی تعداد میں ہندو خواتین بھی شامل تھیں، اسی طرح دہشت گردی کے الزام میں بند بےگناہ مسلم نوجوانوں کو قانونی امدادفراہم کرنے کا جوازبھی انہوں نے پیش کیا اور بتایا کہ جمعیۃعلماء ہند کی طویل قانونی امدادکے نتیجہ میں کس طرح سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے اوررہاہونے میں مددملی۔

جمعیۃ علماء ہند قتل وغارت گری کے خلاف

مولانا سید ارشد مدنی نےکہا کہ قتل وغارت گری کہیں بھی ہوجمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص کسی بے قصورکو قتل کرتاہے تو وہ انسان نہیں شیطان ہے اس لئے کہ اللہ کو ماننے اور اس کے بھیجے ہوئے مذہب کی پیروی کرنے والا کسی بے قصورکوقتل نہیں کرسکتا۔ مولانا مدنی نےآگےکہا کہ ہم سب ایک ہی ماں باپ سے پیداہوئے ہیں سب اللہ کی مخلوق ہیں اوردنیا کا کوئی بھی مذہب ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے قرآن کی آیات اوراحادیث کا حوالہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ اسلام کا ماننے والا کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا اوریہ کہ اسلام کا دہشت گردی سے دورکا بھی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اسلام سے ڈرتی ہے اس لئے اس کی تصویر خراب کرکے پیش کرنے کی منظم کوشش ہورہی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر تاسف کا اظہارکیا کہ ہم دنیاکے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کرپائے، انہوں نے آگے کہا کہ جمعیۃعلماء جو کچھ کررہی ہے اس میں اللہ کی نصرت اور تائید شامل ہے ورنہ ہمارے پاس کیا ہے ہم تو ایک ہاتھ سے لیتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے خرچ کردیتے ہیں۔  انہوں نے آخرمیں کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے ملک بھرمیں ایک کروڑسے زائد ممبرہیں اوریہ اپنی انسانی خدمت کی بنیادپرہی جانی اورپہچانی جاتی ہے۔




جمعیۃ علماء ہند نےاس طرح سے لگایا متاثرین کی زخموں پرمرہم

واضح ہوکہ کیرالہ میں آئے تاریخ کے اس بھیانک سیلاب سے ہزارہاگھروں کا نام ونشان مٹ گیا تھا، قیامت گزرگئی توکچھ لوگوں نے کسی مددکے بغیراپنے گھرکی تعمیرکروالی تھی لیکن بڑی تعداد میں ایسے لوگ تھے جوکسی مددکےبغیرایسا نہیں کرسکتے تھے، جمعیۃ علماء ہند کوجب اس صورت حال کا علم ہوا تواس نے مولانا سید ارشد مدنی کی نگرانی میں وہاں ایک تعمیراتی منصوبہ شروع کیا، اس کی کئی ٹیموں نے مل کرسیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکےایک سروے رپورٹ تیارکی جس کی بنیادپرپہلے مرحلہ میں 66مکانوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا ان میں سے 40 تیارشدہ مکانوں کی چابیاں گزشتہ روزمتاثرین کے حوالہ کی جاچکی ہیں جبکہ 90مکانوں کی مرمت کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ واضح رہےکہ ان مکانات کی تعمیرکیرالہ کےمعیارزندگی کوسامنے رکھ کرکی گئی ہے، جن پرلاگت بھی زیادہ آئی ہے، متاثرین کوچابیاں سپردکرنےکے تعلق سے ضلع کنورکے پلم پرمبا کے بابل گرینس کنونشن سینٹرمیں ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں علماء، مقتدرشخصیات اورسماجی کارکنان نےشرکت کی۔

جمعیۃ علما ہند کےذریعہ تعمیرکئے گئےگھر۔
جمعیۃ علما ہند کےذریعہ تعمیرکئے گئےگھر۔


قابل ذکرہے کہ قدرتی آفات ہو یا فسادات جب یہ وقوع پزیر ہوتے ہیں توسب بے چین ہوجاتے ہیں۔ غیرسرکاری تنظمیں بھی سرگرم ہوجاتی ہیں اورامداد کی یقین دہانیوں کا لاامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے لوگوں کے بیانات اخبارات کی سرخیاں بنتےہیں، مگر پھریہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ ساراجوش ٹھنڈا ہوجاتاہے، اس کے بعد متاثرین کی خبرگیری کوئی نہیں کرتا کوئی یہ جاننےکی کوشش نہیں کرتا کہ اب متاثرین کس حال میں ہیں، مظفرنگرفسادمتاثرین اورکیرالہ سیلاب زدگان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ابتدامیں توہرکسی نے مدد کےلئے ہاتھ بڑھایا، طرح طرح کے اعلانات سامنےآئے، مگروقت گزرنےکےساتھ سب نے متاثرین کو فراموش کردیا، لیکن جمعیۃعلماء ہند نے متاثرین کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا۔ اس تقریب میں  مولانا عبدالشکور کیرالہ، مولانا اسحاق ، صدرجمعیۃعلماء کیرالہ، مولانا سفیان، مہتمم الجامعۃ الحسینی، پی پی حاجی ابراہیم، مفتی غیاث الدین، صدرجمعیۃعلماء تلنگانہ وآندھرا، حافظ ارشد احمد میسور، محب اللہ امین بنگلورکرناٹک وغیرہ نےخصوصی طورپرشرکت کی۔

First published: Apr 28, 2019 08:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading