உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سدارمیا ، جگدیش شیٹار اور آر وی دیش پانڈے کی اسمبلی کی رکنیت ختم کئے جانے کا مطالبہ

    رائچور : جے ڈی یو کرناٹک کے ریاستی سکریٹری نور محمد نے رائچور آئی آئی ٹی معاملے میں دستور کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدا رمیا ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شیٹر اور وزیر دیش پانڈے کو اسمبلی کی رکنیت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاستی گورنر اور اسمبلی اسپیکر سے شکایت کریں گے۔

    رائچور : جے ڈی یو کرناٹک کے ریاستی سکریٹری نور محمد نے رائچور آئی آئی ٹی معاملے میں دستور کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدا رمیا ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شیٹر اور وزیر دیش پانڈے کو اسمبلی کی رکنیت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاستی گورنر اور اسمبلی اسپیکر سے شکایت کریں گے۔

    رائچور : جے ڈی یو کرناٹک کے ریاستی سکریٹری نور محمد نے رائچور آئی آئی ٹی معاملے میں دستور کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدا رمیا ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شیٹر اور وزیر دیش پانڈے کو اسمبلی کی رکنیت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاستی گورنر اور اسمبلی اسپیکر سے شکایت کریں گے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      رائچور : جے ڈی یو کرناٹک کے ریاستی سکریٹری نور محمد نے رائچور آئی آئی ٹی معاملے میں دستور کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدا رمیا ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شیٹر اور وزیر دیش پانڈے کو اسمبلی کی رکنیت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاستی گورنر اور اسمبلی اسپیکر سے شکایت کریں گے۔


      رائچور میں ایک پریس کانفرنس میں ریاستی سکریٹری نور محمدنے کہا کہ وہ عنقریب ریاستی گورنر واجو بھائی والا اور اسمبلی اسپیکر سے شکایت کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ جگدیش شیٹر جب وزیر اعلیٰ تھے ، تو انہوں نے اسمبلی میں رائچور میں ہی آئی آئی ٹی قائم کرنے کا یقین دلایا تھا۔جبکہ وزیر اعلیٰ سدارمیا بھی کئی بار رائچور میں آئی آئی ٹی کے قیام کے تعلق سے بیان دے چکے ہیں۔اس علاوہ سدارمیا نے ننجنڈپا کمیشن کی رپورٹ کو نظر انداز کرکے دستور کی خلاف ورزی کی ہے۔


      ادھر رائچور میں آئی ٹی آئی شاخ قا ئم نہ کئے جانے کو لیکر مقامی لوگوں میں بھی کافی غصہ ہے جبکہ اس معاملہ پر سبھی سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی سیاست کر رہی ہیں۔

      First published: