ہوم » نیوز » No Category

کرناٹک کے چکمنگلور میں بیف کھانے والے دلتوں پر بجرنگ دل کے کارکنان کا حملہ

چکمنگلور کے کوپا تعلقہ کے کندور نامی دیہات میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ دیہات کے دلتوں کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے20سے 25 کارکنوں نے گھر میں گھس کر بیف کھانے والے پانچ افراد پرحملہ کیا۔

  • ETV
  • Last Updated: Jul 25, 2016 08:54 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کرناٹک کے چکمنگلور میں بیف کھانے والے دلتوں پر بجرنگ دل کے کارکنان کا حملہ
چکمنگلور کے کوپا تعلقہ کے کندور نامی دیہات میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ دیہات کے دلتوں کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے20سے 25 کارکنوں نے گھر میں گھس کر بیف کھانے والے پانچ افراد پرحملہ کیا۔

بنگلورو۔ کرناٹک کے چکمنگلور ضلع میں بیف کھانے والے دلتوں پر حملے کا واقعہ  تاخیر سے منظر عام پر آیا ہے۔ چکمنگلور کے کوپا تعلقہ کے کندور نامی دیہات میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ دیہات کے دلتوں کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے20سے 25 کارکنوں نے گھر میں گھس کر بیف کھانے والے پانچ افراد پرحملہ کیا۔ دلت گھرانے کے افراد نے الزام عائد کیا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے تلوار اورچاقوؤں کے ساتھ اُن پرجان لیوا حملہ کیا۔


  اسی ماہ کی گیارہ  تاریخ کو یہ واقعہ پیش آیا۔ زخمی دلت نے بتایا کہ  بجرنگ دل کے کارکن ہمارے پاس دوست بن کرآئے۔ کیا آپ کا یہی کام ہے پوچھنے لگے۔ میں خاموش تھا۔ کچھ دیر میں تلوار باہر نکال کر حملہ کرنے لگے۔ ہم پانچ افراد تھے۔ دو افراد بچ کرنکل گئے۔ ہم نے بچھڑے کو گوشت کو فروخت کرنے کے لئے نہیں، کھانے کیلئے کاٹا تھا۔ پولیس اسٹیشن میں بھی ہم نے یہی بات کہی ہے۔20 سے25 لوگوں نے ہم پر حملہ کیا۔


دراصل کالراج  نامی شخص نے سُریش نامی کسان سے گائے کا بچھڑا خرید کر کاٹا تھا۔ متاثرہ شخص کالراج کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے کھانے کے لئے بچھڑا خریدا تھا۔ دوسری جانب بجرنگ دل کے کارکنان اُن پرلگائے گئے الزامات کی تردید کررہے ہیں۔ بجرنگ دل کا کہنا ہےکہ غیر قانونی طور پربیف کا کاروبار کرنے کی خبرملنے کے بعد ہم پولیس کے ساتھ وہاں گئے تھے۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج ہوئی ہے۔ ادھر گجرات میں ایک گائے کی چمڑی اتارنے والے تین دلت نوجوانوں کی پٹائی کا معاملہ وہاں کی ریاست اور بی جے پی کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے۔

First published: Jul 25, 2016 08:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading