ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک : دوسرے مذہب کی لڑکی کے ساتھ سفر کررہے نوجوان کی دبنگوں نے پٹائی ، مارا چاقو

پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس معاملہ میں آٹھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ پکڑے گئے ملزمین سے ملی جانکاری کے بعد بجرنگ دل سے وابستہ چار دیگر لوگوں کو بھی جلد گرفتار کیا جائے گا ۔ زخمی لڑکے کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے ۔

  • Share this:
کرناٹک : دوسرے مذہب کی لڑکی کے ساتھ سفر کررہے نوجوان کی دبنگوں نے پٹائی ، مارا چاقو
کرناٹک : دوسرے مذہب کی لڑکی کے ساتھ سفر کررہے نوجوان کی دبنگوں نے پٹائی ، مارا چاقو

منگلورو : کرناٹک (Karnataka)  کے منگلورو (Mangaluru) میں ایک نوجوان کی دوسرے مذہب کی لڑکی ساتھ گھومنے پر نہ صرف پٹائی کی گئی بلکہ اس پر چاقو سے بھی حملہ کیا گیا ۔ نوجوان پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ لڑکی کے ساتھ بس میں سفر کررہا تھا ۔ منگلورو کے پولیس کمشنر ششی کمار نے واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ منگلورو شہر کے باہری علاقہ میں رات تقریبا ساڑھے نو بجے کچھ لوگوں نے بس کو روکا اور لڑکے اور لڑکی جوکہ ساتھ میں پڑھائی کرتے ہیں اور دوست ہیں ، انہیں بس سے نیچے اتارا ۔ اس کے بعد لڑکے کی پٹائی کی گئی ۔ لڑکی نے جب لڑکے کو بچانے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی ۔


پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس معاملہ میں آٹھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ پکڑے گئے ملزمین سے ملی جانکاری کے بعد بجرنگ دل سے وابستہ چار دیگر لوگوں کو بھی جلد گرفتار کیا جائے گا ۔ پولیس سے ملی جانکاری کے مطابق چار لوگ پہلے کار سے آئے تھے ، انہوں نے بس کو رکوایا اور لڑکے کی پٹائی شروع کردی ۔ اس کے بعد لڑکے پر چاقو سے حملہ کیا گیا ۔ زخمی حالت میں لڑکے کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے ۔


پولیس نے بتایا کہ لڑکی بنگلورو جارہی تھی اور اس کا دوست اس کی مدد کیلئے اس کے ساتھ جارہا تھا ۔ لڑکی نے بتایا کہ وہ متاثرہ لڑکے کو گزشتہ کئی سالوں سے جانتی ہے ۔ پولیس نے اس معاملہ میں ملزمین کے خلاف قتل کی کوشش کا معاملہ درج کیا ہے ۔


اس کے ساتھ ہی اسسٹنٹ پولیس کمشنر کی قیادت میں اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے ، جو اس پورے معاملہ کی جانچ کرے گی ۔ پولیس اب اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ حملہ آوروں کو یہ کس نے بتایا کہ لڑکا اور لڑکی بس سے بنگلورو جارہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 03, 2021 10:19 AM IST