ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک : شادی محل کی بجائے تعلیم کا محل تعمیر ، ٹمکور کے افضل شریف کی نمایاں کوشش

ملک کے ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ وہ قوم بھلا کیسے ترقی کرسکتی ہے جو اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت سے زیادہ رقم شادیوں پر خرچ کرتی ہو۔ مسلم سماج کو آج اعلی سے اعلی شادیوں کی نہیں بلکہ اعلی تعلیم کی ضرورت ہے ۔

  • Share this:
کرناٹک : شادی محل کی بجائے تعلیم کا محل تعمیر ، ٹمکور کے افضل شریف کی نمایاں کوشش
کرناٹک : شادی محل کی بجائے تعلیم کا محل تعمیر ، ٹمکور کے افضل شریف کی نمایاں کوشش

تعلیم سے قوموں کی بدل جاتی ہے حالت ، تعلیم سے قوموں میں نیا رنگ جما دو، جی ہاں علم کی شمع کے ذریعہ قوم و ملت کی  بدحالی کو خوشحالی میں بدلا جاسکتا ہے۔  اس ضمن میں ایک نمایاں کوشش بنگلورو کے قریب ٹمکور شہر میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ یہاں کی سماجی شخصیت افضل شریف نے شادی محل کی بجائے تعلیم کو عام کرنے کیلئے خوبصورت محل بنایا ہے ۔ افضل شریف نے شادی محل تعمیر کرنے کیلئے ٹمکور شہر کے مضافات میں سال 2017 میں جگہ خریدی تھی ۔ شادی محل  تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ لیکن اس دوران ان کے سامنے ایک ایسا مشورہ پیش کیا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے شادی محل تعمیر کرنے کا اپنا منصوبہ ہی ترک کر ڈالا۔


افضل شریف نے کہا کہ بیدر کے شاہین تعلیمی ادارہ جات کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے انہیں شادی محل کی بجائے تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا مشورہ دیا۔ نہ صرف مشورہ دیا بلکہ ان کی مدد اور رہنمائی بھی کی۔ افضل شریف نے کہا کہ انہوں نے اپنا تعلیمی ادارہ شروع کرنے سے قبل بیدر میں واقع شاہین کیمپس کا دورہ کیا۔ وہاں ہزاروں طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوششوں کو دیکھ کر ان میں بھی ایک جذبہ پیدا ہوا۔ لہذا فوری طور پر انہوں نے کالج قائم کرنے کی جانب قدم بڑھایا۔ افضل شریف نے کہا کہ خاص طور پر لڑکیوں کیلئے انہوں نے کالج شروع کرنےکا فیصلہ لیا ۔ لہذا گلوبل شاہین پی یو کالج کے نام سے سال 2018 میں باقاعدہ ادارہ قائم ہوا۔  فی الوقت یہاں 250 کے قریب لڑکیاں تعلیم پارہی ہیں ۔ سائنس اور کامرس کے شعبہ میں تعلیم دی جارہی ہے۔


گلوبل شاہین کالج میں حال ہی میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی ۔ تقریب میں ٹمکور ضلع کے سر قاضی مولانا شیخ محمود، ٹمکور شہر کی مئیر فریدہ بیگم اور ملک کے ممتاز ماہر تعلیم اور بیدر کے شاہین تعلیمی ادارہ جات کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے شرکت کی۔ سبھوں نے تعلیمی ترقی کیلئے افضل شریف کی کوششوں کی خوب ستائش کی۔


گلوبل شاہین پی یو کالج کے نام سے سال 2018 میں باقاعدہ ادارہ قائم ہوا۔  فی الوقت یہاں 250 کے قریب لڑکیاں تعلیم پارہی ہیں ۔
گلوبل شاہین پی یو کالج کے نام سے سال 2018 میں باقاعدہ ادارہ قائم ہوا۔ فی الوقت یہاں 250 کے قریب لڑکیاں تعلیم پارہی ہیں ۔


اس موقع پر ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ وہ قوم بھلا کیسے ترقی کرسکتی ہے جو اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت سے زیادہ روپیہ پیسہ شادیوں پر خرچ کرتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں اور گھروں کی تعمیر پر بے جا خرچ سے گریز کرتے ہوئے تعلیم کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ بہترین نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم پیسہ خرچ ہو۔ بدترین نکاح وہ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ مال و دولت خرچ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں تعلیم پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ مسلمان موجودہ حالات میں اعلی سے اعلی شادیوں کے بجائے اعلی سے اعلی تعلیم دلوانے کی فکر کریں۔

ٹمکور شہر کی مئیر فریدہ بیگم نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی ملک اور ملت کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی وجہ سے ہی وہ آج مئیر کے عہدے پر فائز ہیں۔ فریدہ بیگم نے کہا کہ ٹمکور شہر میں مسلم لڑکیوں کیلئے علاحدہ کالج کی اشد ضرورت تھی۔ اب اس ضرورت کو افضل شریف نے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹمکور کی مئیر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی شادیوں پر فضول خرچی سے گریز کریں۔ شادیوں کی بے جا رسومات سے اللہ تعالٰی بھی ناراض ہوتے ہیں۔

گلوبل شاہین کالج میں حال ہی میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی ۔
گلوبل شاہین کالج میں حال ہی میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی ۔


گلوبل شاہین کالج کے چیئرمین افضل شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم معاشرے کو شادی خانوں سے زیادہ تعلیمی اداروں کی  ضرورت ہے۔ تاریخی شہر بیدر میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی کوششوں سے کئی نوجوان ڈاکٹرز اور انجینئر بن رہے ہیں۔ بیدر کے شاہین تعلیمی ادارے سے ترغیب حاصل کرتے ہوئے انہوں نے شادی محل کے بجائے تعلیمی ادارہ قائم کیاہے۔

انہوں نے کہا کالج سے پہلی بیچ حال ہی میں فارغ ہوئی ہے۔ 50 فیصد لڑکیوں نے سائنس اور کامرس کے شعبہ میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بیچ میں سائنس میں ایک طالبہ نے 96 فیصد مارکس حاصل کئے ہیں۔ نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو مذہب کے لڑکیاں بھی یہاں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کررہی ہیں
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 05, 2021 09:38 AM IST