உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک اسمبلی انتخابات : ریاست میں تھم گیا انتخابی شور ، 12 مئی کو ڈالے جائیں گے ووٹ

    کرناٹک اسمبلی کی 223سیٹوں کے لئے انتخابی تشہیر آج شام ختم ہوگئی جے نگر اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار بی این وجے کمار کے اچانک انتقال کی وجہ سے اس سیٹ پر الیکشن منسوخ کردیا گیا ہے۔

    کرناٹک اسمبلی کی 223سیٹوں کے لئے انتخابی تشہیر آج شام ختم ہوگئی جے نگر اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار بی این وجے کمار کے اچانک انتقال کی وجہ سے اس سیٹ پر الیکشن منسوخ کردیا گیا ہے۔

    کرناٹک اسمبلی کی 223سیٹوں کے لئے انتخابی تشہیر آج شام ختم ہوگئی جے نگر اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار بی این وجے کمار کے اچانک انتقال کی وجہ سے اس سیٹ پر الیکشن منسوخ کردیا گیا ہے۔

    • Share this:
      بنگلور: کرناٹک اسمبلی کی 223سیٹوں کے لئے انتخابی تشہیر آج شام ختم ہوگئی جے نگر اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار بی این وجے کمار کے اچانک انتقال کی وجہ سے اس سیٹ پر الیکشن منسوخ کردیا گیا ہے۔ وہ حال ہی میں انتخابی تشہیر کے دوران بے ہوش ہوکر گر گئے تھے اور بعد میں علاج کے دوران کا انتقال ہوگیا۔
      ریاست میں انتخابی تشہیر کے دوران کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی جماعتوں کے قومی سطح کے لیڈروں نے رائے دہندگان کو لبھانے کے لئے پورا زور لگا دیا۔ مرکز میں حکمراں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی پوری کابینہ نے تشہیر کی ذمہ داری سنبھالی۔ وزیراعظم نریندر مودی آخری مرحلہ کی تشہیر کے لئے ایک ہفتہ سے زائد وقت سے کرناٹک میں ہیں۔ انہوں نے اس دوران کانگریس راہل گاندھی اور وزیراعلی سدا رمیا پر حملے کئے۔ انہوں نے مسٹر سدارمیا کو ’سدو روپیہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ہر کام کے بدلہ دس فیصد کمیشن لیتے ہیں۔گزشتہ برس بی جے پی میں شامل ہوئے سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے آخری دور میں پارٹی امیدواروں کے حق میں زور دار تشہیر کی۔
      مسٹر مودی نے ایک عوامی اجلاس میں مسٹر گاندھی کے اس بیان کی تنقید کی کہ اگر 2019میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کو اکثریت ملتی ہے تو وہ وزیراعظم بننے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر مسٹر گاندھی نے کہاکہ میں مسٹر مودی پر کبھی حملہ نہیں کروں گا کیونکہ وہ ملک کے وزیراعظم ہیں، میری دادی اور ماں نے مجھے تہذیب سکھائی ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے بھی پارٹی کے حق میں تشہیر کے لئے پوری ریاست کا دورہ کیا۔ انہوں نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسٹر مودی اور مسٹرشاہ نے بوتھ سطح کے کارکنوں کے ساتھ بھی بات چیت کی اور رائے دہندگان کو راغب کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کی اپیل کی۔
      مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور کچھ دیگر لیڈروں کو چھوڑکر بیشتر بی جے پی لیڈروں نے کرناٹک میں انتخابی تشہیر میں حصہ لیا۔ پارٹی کے لئے اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی تشہیر کی۔ کانگریس نے بھی اپنے تمام قدآور لیڈروں کو انتخابی تشہیر میں لگایا۔ مسٹر گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم، وزیراعلی سدا رمیا اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ایم ملک ارجن کھڑگے سمیت کئی لیڈروں نے انتخابی تشہیر کی ذمہ داری سنبھالی۔
      کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی نے وجے پورہ میں اپنی واحد عوامی ریلی میں مسٹر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف تقاریر سے غریبوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا اور بیما ر لوگوں کو دوائیں بھی دستیاب نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر مودی ایک اچھے مقرر ہیں اور لوگوں کو بے وقوف بنانا اچھی طرح جانتے ہیں۔ اترپردیش کی سابق وزیراعلی مایاوتی نے بھی انتخابی تشہیر میں حصہ لیا۔ ان کی بہوجن سماج پارٹی نے جنتادل( سیکولر) کے ساتھ اتحاد کرکے 20امیدوار اتارے ہیں۔
      ریاست میں مجموعی طورپر 2654امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ بیشتر اسمبلی حلقوں میں اہم مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس نے 2013کے انتخابات میں 120سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی اور اس بار اس نے 222اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ پارٹی نے میلوکوٹ میں میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے اور آنجہانی کسان لیڈر کے ایس پتانیا کے بیٹے کو حمایت دے رہی ہے۔ وزیراعلی سدا رمیا چامنڈیشوری اور بادامی سیٹ سے میدان میں ہیں۔ بی جے پی نے تمام 224سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ مسٹر کماراسوامی رام نگرم اور چناپٹنا سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) مہاراشٹر ایکی کرن سیتی کو حمایت دے رہی ہیں۔ شیو سینا نے چالیس سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔
      First published: