ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک اسمبلی انتخابات: دو سیٹ کے چکر میں بری طرح پھنس گئے ہیں سدارمیا

میسور: کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا سیاسی کیریئر کے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایک سیٹ سے الیکشن لڑا جائے یا پھر دو سیٹ سے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کرناٹک اسمبلی انتخابات: دو سیٹ کے چکر میں بری طرح پھنس گئے ہیں سدارمیا
میسور: کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا سیاسی کیریئر کے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایک سیٹ سے الیکشن لڑا جائے یا پھر دو سیٹ سے۔

میسور: کرناٹک  کے وزیراعلیٰ سدارمیا سیاسی کیریئر کے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ انہیں سمجھ  نہیں آرہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایک سیٹ سے الیکشن لڑا جائے یا پھر دو سیٹ سے۔ چامنڈیشوری سے الیکشن لڑنے کا انہوں نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے، لیکن بدامی سے الیکشن لڑنے کو لے کر اب بھی پس وپیش ہے۔ کانگریس میں بھی اس کو لے کر اتحاد نہیں بن پارہا ہے جبکہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی سدارمیا کی امیدواری کو لے کر کچھ بھی واضح نہیں ہے۔


جمعہ کو سدارمیا نے بدامی کے کانگریس کارکنان کوامید دلائی کہ وہ وہاں سے بھی الیکشن لڑیں گے، لیکن کچھ دیر بعد ہی انہوں نے اس فیصلے پر یو ٹرن لے لیا۔ سدار میا نے میڈیا سے کہا کہ وہ صرف میسور ضلع کے چامنڈیشوری سے الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے جمعہ کو چامنڈیشوری سے اپنی پرچۂ نامزدگی بھی کی ہے۔


کانگریس نے بدامی کے لئے ڈاکٹر دیو راج کا نام اعلان کیاہے۔ لیکن پارٹی نے فی الحال انہیں نامزدگی داخل کرنے سے روک دیا ہے۔ دراصل پارٹی کو لگتا ہے کہ سدا رمیا آخری موقع پر وہاں سے الیکشن لڑسکتے ہیں۔


بدامی کے موجودہ ممبراسمبلی بی بی چمان کٹی نے وزیراعلیٰ کو دھمکی دی ہے کہ یا تو وہ خود وہاں سے الیکشن لڑیں یا پھر انہین ٹکٹ دیاجائے۔ بی بی چمان کٹی نہیں چاہتے ہیں کہ دیو راج پاٹل ان کی سیٹ سے الیکشن لڑیں۔

اتنا ہی نہیں چمان کٹی نے پارٹی کے کچھ لیڈروں کو یہ بھی کہا ہے کہ اگر ٹکٹ پاٹل کو دیاگیا تو وہ "خودکشی" کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف پاٹل نے بھی کانگریس کو دھمکی دی ہے کہ اگر سدارمیا وہاں سے الیکشن نہیں لڑتے ہیں تو ٹکٹ صرف انہیں ہی ملنا چاہئے۔

وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل کے ساتھ ساتھ مقامی کانگریسی لیڈروں نے بھی سدارمیا کو بادامی سے الیکشن لڑنے کی گزارش کی ہے۔ نیوز 18سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سدارمیا کے وہاں سے الیکشن لڑنے سے پارٹی کے کارکنان کافی پرجوش ہوں گے، جس سے کانگریس کو باقی سیٹیں  جیتنے میں مدد ملے گی۔

میسور میں سدارمیا کے خیر خواہ بھی انہیں بدامی سے الیکشن لڑنے کے لئے روک رہے ہیں۔ دراصل سدارمیا کو کچھ لوگوں نے متنبہ کیا تھا کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان ڈیل کے سبب چامنڈیشوری میں ان پرشکست کا خطرہ ہے۔

چامنڈیشوری سے سدارمیا پانچ بار جیت چکے ہیں۔ سال 2008میں وہ ورونا سے الیکشن لڑنے پہنچ گئے، لیکن اب انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے ورونا کی سیٹ خالی کردی ہے۔ فی الحال چامنڈیشوری کی سیٹ پر جے ڈی ایس کے جی ٹی دیوگوڑا کا قبضہ ہے۔ دیوگوڑا نے یہاں سے سدارمیا کو شکست دینے کے لئے پوری طاقت جھونک دی ہے۔

ریاست میں جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی کمار سوامی نے پہلے سے ہی وزیراعلیٰ کو شکست دینے کے لئے جے ڈی ایس نے بی جے پی سے ڈیل کی ہے۔ بی جے پی نے ابھی تک یہاں سے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیاہے۔

 

 

چامنڈیشوری میں 72،000ووکّالیگا اور 40،000ویرشیو/لنگایت ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ ان دو ذات کے ووٹ سے سدارمیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن مقامی کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ 60فیصد سے زیادہ ووٹرا سدارمیا کے "اہندا" )اقلیت، پسماندہ طبقات، دلتوں کا کنڑ میں شارٹ فارم( سے ہیں اور وہ انہیں حمایت دیں گے۔

دوسری طرف قدیم چالوکیہ سلطنت کی راجدھانی بدامی ایک کروبا کے دبدبے والی سیٹ ہے اور وزیراعلیٰ کو لگتا ہے کہ وہاں سے جیتنا بہت آسان ہوگا۔ سدارمیا کروبا برادری سے ہیں۔ کرناٹک میں کل آبادی کا 7فیصد  کروبا برادری کے ہیں۔

پارٹی کی اندرونی سروے نے بھی سدا رمیا کو دو سیٹون سے الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے لیڈروں کے مطابق راہل گاندھی نے سدارمیا کو جلدی فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔ نامزدگی کی آخری تاریخ 24اپریل ہے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیراعلیٰ سدا رمیا کو منفی تشہیر سے بچنے کےلئے ایک سیٹ سے الیکشن لڑنے کو کہا۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس نے ابھی سے ہی سدارمیا کو ڈرپوک کہنا شروع کردیا ہے۔

 
First published: Apr 20, 2018 05:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading