உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک اسمبلی انتخابات 2018: لنگایت کے ہندو دھرم سے الگ ہونے کی یہ ہے اصل وجہ

    کرناٹک کی سیاست جس طبقے پر گھوم رہی ہے، اس کانام ہے لنگایت۔ بی جے پی ہندتوا ایکتا کے نام پر لنگایت ووٹ لینے کی کوشش میں ہے تو وہیں کانگریس نے لنگایتوں کو ہندو مذہب سے الگ اقلیتی طبقہ کا درجہ دے کر ان کی ایک صدی سے زیادہ قدیم مطالبات کو پورا کردیا ہے۔

    کرناٹک کی سیاست جس طبقے پر گھوم رہی ہے، اس کانام ہے لنگایت۔ بی جے پی ہندتوا ایکتا کے نام پر لنگایت ووٹ لینے کی کوشش میں ہے تو وہیں کانگریس نے لنگایتوں کو ہندو مذہب سے الگ اقلیتی طبقہ کا درجہ دے کر ان کی ایک صدی سے زیادہ قدیم مطالبات کو پورا کردیا ہے۔

    کرناٹک کی سیاست جس طبقے پر گھوم رہی ہے، اس کانام ہے لنگایت۔ بی جے پی ہندتوا ایکتا کے نام پر لنگایت ووٹ لینے کی کوشش میں ہے تو وہیں کانگریس نے لنگایتوں کو ہندو مذہب سے الگ اقلیتی طبقہ کا درجہ دے کر ان کی ایک صدی سے زیادہ قدیم مطالبات کو پورا کردیا ہے۔

    • Share this:
      میسور: کرناٹک کی سیاست جس طبقے پر گھوم رہی ہے، اس کانام ہے لنگایت طبقہ۔ بی جے پی ہندتوا ایکتا کے نام پر لنگایت ووٹ لینے کی کوشش میں ہے تو وہیں کانگریس نے لنگایتوں کو ہندو مذہب سے الگ اقلیتی طبقہ کا درجہ دے کر ان کی ایک صدی سے زیادہ قدیم مطالبات کو پورا کردیا ہے۔

      کرناٹک الیکشن کی سیاست جیسے جیسے گرم ہورہی ہے، ویسے ویسے ملک کی آب وہوا میں یہ سوال اٹھنے لگے ہیں۔ نیوز 18 انڈیا کی ٹیم انہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لئے کرناٹک پہنچی۔ سوال یہ کہ کرناٹک کی سیاست میں لنگایت طبقہ کو کیا کانگریس اپنے فائدے کے لئے ہندو مذہب سے الگ اقلیتی طبقہ کا درجہ دے رہی ہے۔

      کرناٹک میں لنگایت طبقے کے 400 مٹھ ہیں۔ کرناٹک میں 14 فیصد آبادی لنگایت طبقے کی ہے۔ 100 سیٹوں پر لنگایت فیکٹری کا اثر مانا جاتا ہے۔

      لنگایت طبقے کے اتنے بڑے ووٹ بینک کو ساتھ لینے کے لئے ہی سدار میا سرکار نے اسے اقلیتی درجہ دینے کا داو کھیلا ہے۔ کانگریس کو لگتا ہے کہ اس کے اس داوں سے یک مشتلنگایت ووٹ اسے ملیں گے۔ کرناٹک میں لنگایت طبقہ کی سیاسی طاقت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ لنگایتوں کے جھکاو سے ہی 1983 میں جنتا دل کے رام کرشن میں جنتادل کے رام کرشن ہیگڑے کو وزیراعلیٰ کی کرسی ملی۔  2008 میں جب لنگایتوں نے یدی یورپا کے سرپر ہاتھ رکھا، تو بی جے پی کے لئے جنوب کے باب کھل گئے۔ 2013 میں بی جے پی سے لنگایت کیا دور ہوئے، اقتدار ہی چلی گئی، اس لئے ہر پارٹی چاہتی ہے کہ لنگایتوں کا ہاتھ ان کے ساتھ رہے۔

      کانگریس نے لنگایت طبقہ کے مطالبات کو پورا تو کردیا ہے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ لنگایت ہندو مذہب سے الگ کیوں ہونا چاہتے ہیں؟ دراصل لنگایت سماج کرناٹک میں بہت بڑے بڑے تعلیمی ادارے چلاتا ہے اور وہ ان اداروں میں سرکاری مداخلت نہیں چاہتے۔

      لنگایت طبقہ چاہتا ہے کہ ان تمام اداروں سے جڑی معیشت اور انتظامیہ صرف ان کے ہاتھ میں رہے، اس لئے اقلیتی درجہ کامطالبہ کیاجارہا ہے تاکہ ان اداروں سے سب سے زیادہ لنگایت طبقہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

      دراصل لنگایت طبقہ چاہتا ہے کہ وہ اقلیتوں سے ملنے والے مخصوص اختیار کا فائدہ اٹھاسکیں۔ آئین کے دفعہ 15 (5) اقلیتی تعلیمی اداروں کو مخصوص اختیار دیتا ہے۔ اقلیتی اداروں کو تعلیمی کے حقوق کے ضابطے سمیت کئی اور طرح کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ایسے ہی چھوٹ کا فائدہ اٹھانا لنگایت طبقہ چاہتاہے۔

      اقلیت کا درجہ ملنے پر لنگایت تعلیمی اداروں میں داخلہ پر ریزرویشن ختم ہوجائے گا۔ لنگایت طبقہ کے تعلیمی اداروں تعلیم کے اختیار ضابطے سے آزاد ہوجائیں گے۔ لنگایت طبقہ کو چھوٹ ہوگی کہ وہ اپنی مرضی سے اساتذہ تعینات کرسکے۔ کوٹے کی سیٹ یا پھر نوکری میں ریزرویشن دینے جیسے ضابطے لنگایت تعلیمی ادارے پر نافذ نہیں ہوں گے۔

      فی الحال کرناٹک میں لنگایتوں کو لے کر سیاست گرم ہے۔ یہ تو انتخابات کے نتیجے طے کریں گے کہ لنگایت کس کے ساتھ جاتے ہیں، لیکن لنگایت طبقہ کے اقلیتی درجہ کا مطالبہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

       

       
      First published: