உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    "سونیا گاندھی کا نریندر مودی پرزبردست حملہ، "تقریر اچھی کرنے سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔

     یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے دو سال کے وقفے کے بعد منگل کو کرناٹک کے وجے پور میں ایک انتخابی جلسے کو  کانگریس کے زیراقتدار ریاست کرناٹک کے ساتھ بھید بھاو کرنے کا الزام لگایا۔

    یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے دو سال کے وقفے کے بعد منگل کو کرناٹک کے وجے پور میں ایک انتخابی جلسے کو کانگریس کے زیراقتدار ریاست کرناٹک کے ساتھ بھید بھاو کرنے کا الزام لگایا۔

    یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے دو سال کے وقفے کے بعد منگل کو کرناٹک کے وجے پور میں ایک انتخابی جلسے کو کانگریس کے زیراقتدار ریاست کرناٹک کے ساتھ بھید بھاو کرنے کا الزام لگایا۔

    • Share this:
      میسور: یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے دو سال کے وقفے کے بعد منگل کو کرناٹک کے وجے پور میں ایک انتخابی جلسے کو خطاب کیا۔ یہاں انہوں نے مرکز کی مودی حکومت پر کانگریس کے زیراقتدار ریاست کرناٹک کے ساتھ بھید بھاو کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے "سب کا ساتھ ، سب کا وکاس" کے نعرے پر سوال اٹھائے۔

      سونیا گاندھی نے کہاکہ وجے پور اور کرناٹک کی ترقی کے لئے وزیراعلیٰ سدارمیا نے خوب کام کیا ہے۔ کانگریس کی سدارمیا سرکار نے کرناٹک کو نمبر ون بنایا۔ سدارمیا حکومت نے غریبوں کو سستا کھانا دستیاب کرانے کے لئے اندرا کینٹین شروع کیا ۔ کیونکہ سستا اور غذائی کھانا ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اور مودی نے ہمارے ذریعہ شروع کئے گئے منریگا پروگرام کا مذاق اڑایا۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اور مودی نے ہمارے ذریعہ شروع کئے گئے منریگا پروگرام کا مذاق اڑایا۔ کرناٹک میں قحط سالی ہوئی تو وزیراعلیٰ سدارمیا نے مودی سے ملنے کا وقت مانگا، لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مودی سرکار کرناٹک میں ہماری سرکار کے ساتھ بھید بھاو کررہی ہے۔ کیا یہی آپ کا  "سب کا ساتھ ، سب کا وکاس" ہے۔

      انہوں نے وزیراعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے مودی جی اچھی تقریر کرتے ہیں، ایک اداکار کی طرح تقریر کرتے ہیں، لیکن صرف تقریرسے لوگوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا اور لوگوں کا فلاح وبہبود نہیں ہوسکتا۔

      سونیا گاندھی نے کہاکہ مودی جہاں جاتے ہیں، جھوٹ ہی بولتے ہیں۔ تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں، وہ اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کے لئے تاریخی ہستیوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کبھی آپ نے پہلے ایسا وزیراعظم دیکھا جو صرف بات ہی کرتا ہو، کام نہیں۔

      انہوں نے یہ بھی کہاکہ مودی جی  پر کانگریس مکت بھارت کا جنون ہے۔ انہیں اس کا بھوت لگاہے۔ کانگریس مکت بھارت تو چھوڑیئے، وہ اپنے سامنے کسی کو برداشت نہیں کرسکتے۔

      سونیا نے بدعنوانی کو لے کر مسلسل سدارمیا سرکار پر حملہ کررہے وزیراعظم مودی پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہاکہ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ بدعنوانی مخالف نگرانی ادارہ لوک پال کا کیا ہوا، جس کی تشکیل کی تجویز تھی۔

      سونیا گاندھی نے سوال کیا کہ بدعنوانی ہٹانے کے وزیراعظم کا وعدہ کیا ہوا؟ چار سال تک لوک پال کی تقرری کیوں نہیں ہوئی؟

      واضح رہے کہ لوک پال بل کو جنوری 2014 میں صدر جمہوریہ سے منظوری مل گئی تھی، جس سے بدعنوانی مخالف نگرانی ادارہ کی تشکیل کا راستہ صاف ہوگیا تھا۔ لوک پال کے دائرے میں کچھ تحفظ کے معیار پر وزیراعظم بھی آئیں گے۔ حالانکہ اب تک لوک پال کی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔

       

       

       

       
      First published: