ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: اسمبلی اجلاس کا آغاز، گورنر نے حکومت کی تھپ تھپائی پیٹ

گورنر نے کہا کہ اس وبائی دور میں ٹیکس کے حصول میں حکومت کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ کمرشل ٹیکس کے ذریعہ 30,467 کروڑ روپئے اور ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ 16,788 کروڑ روپئے آمدنی حکومت کو حاصل ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں ترقیاتی پروگراموں کو مالی مدد فراہم کرنے میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک: اسمبلی اجلاس کا آغاز، گورنر نے حکومت کی تھپ تھپائی پیٹ
28 جنوری سے 5 فروری تک جاری رہنے والا اسمبلی کا یہ اجلاس کافی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے۔

سال 2021 کا کرناٹک اسمبلی کا پہلا اجلاس آج سے شروع ہوا۔ ودھان سبھا میں گورنر واجو بھائی والا کے مشترکہ خطاب کے ساتھ اجلاس کا آغاز ہوا ہے۔ ودھان سبھا میں جیسے ہی گورنر کا خطاب شروع ہوا اپوزیشن جماعت کانگریس نے چند منٹوں کیلئے پلے کارڈز کے ساتھ احتجاج درج کیا۔ اپوزیشن لیڈر سدارامیا اور دیگر ارکان نے کھڑے ہو کر شمالی کرناٹک کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ریاست کے شمالی شہر بلگام میں اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ کرنے پر کانگریس نے اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ گورنر واجو بھائی والا نے اپنے خطاب کے دوران مختلف اسکیموں پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت کی پیٹ تھپ تھپائی۔ واجو بھائی والا نے کہا کہ کورونا وبا کی مشکلات کے باوجود حکومت کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ گورنر نے کہا کہ انکی حکومت نے کورونا کے منفی اثرات کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ کورونا کے ہنگامی حالات کو موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہیلتھ انفراسٹرکچر کو بڑھایا ہے، طبی آلات کے پیداوار میں اضافہ کرنے کی طاقت بڑھی ہے ۔

گورنر نے کہا کہ اس وبائی دور میں ٹیکس کے حصول میں حکومت کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ کمرشل ٹیکس کے ذریعہ 30,467 کروڑ روپئے اور ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ 16,788 کروڑ روپئے آمدنی حکومت کو حاصل ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں ترقیاتی پروگراموں کو مالی مدد فراہم کرنے میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ گورنر نے کہا کہ انکی حکومت نے منشیات کے خلاف جنگ کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ سماج کو خاص طور پر نوجوانوں کو منشیات کے جال سے بچانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ سیلاب سے نمٹنے میں حکومت کے اقدامات پر بھی گورنر نے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو راحت کے طور پر 1345 کروڑ روپے کی مالی امداد جاری کی گئی ہے ۔

صنعتکاری کو فروغ دینے کیلئے حکومت کے مختلف اقدامات کا گورنر نے تذکرہ کیا۔ صنعت کاری کیلئے آسانی کے ساتھ زمین دستیاب ہو، اس کیلئے لینڈ ریفارم ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے۔ نئی سیاحتی پالیسی کے ذریعہ ریاست میں سیاحت کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس طرح گورنر واجو بھائی والا نے اپنے 40 منٹ کے خطاب میں حکومت کی کارکردگی کی خوب ستائش کی۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے گورنر کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطاب سچائی سے دور ہے۔ ترقی کے لحاظ سے ریاست 10 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ گورنر کے خطاب میں کوئی دور اندیشی کی بات نہیں تھی۔ ریاست کی معاشی حالت کا ذکر نہیں تھا۔ گورنر کے خطاب میں وضاحت ہونی چاہئے، حکومت کے ارادوں، منصبوں کا ذکر ہونا چاہئے، اس خطاب میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ اسمبلی اجلاس کے پہلے دن تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے حال ہی میں انتقال کر جانے والی چند اہم شخصیات کو خراج پیش کیا گیا۔ قانون ساز کونسل کے نائب چیرمین ایس ایل دھرمے گوڈا، ایم ایل اے منگوڑی سابق مرکزی وزیر بوٹا سنگھ اور چند دیگر شخصیات کے انتقال پر تعزیت پیش کی گئی۔


28 جنوری سے 5 فروری تک جاری رہنے والا اسمبلی کا یہ اجلاس کافی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے۔ ریاست کی کابینہ میں مکمل توسیع کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے جاری کسانوں کے احتجاج کے معاملے میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو گھیرنے کی تیاری کی ہے۔ گئو کشی پر پابندی کے معاملے پر بھی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے گزشتہ اجلاس کے دوران قانون ساز کونسل میں انسداد گئو کشی بل 2020 کو منظوری حاصل کرلی ہے۔ اس متنازعہ بل کو اب قانون ساز کونسل میں پیش کیا جانا ہے۔ حکومت نے چند دنوں قبل انسداد گئو کشی بل کو آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کردیا ہے۔ اس پورے معاملے پر کرناٹک اسمبلی میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 28, 2021 11:03 PM IST