اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Karnataka bandh: آج کرناٹک میں پرامن رضاکارانہ بند کا اہتمام، اسٹیٹ بینک و مرکزی بازار ویران

    امارت شریعہ کرناٹک کے امیرِ شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے حجاب سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو ریاست گیر بند کی کال دی تھی۔ جس کے بعد ریاست کی تنظیموں نے مسلم کمیونٹی کے ہر طبقے سے بند میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

    امارت شریعہ کرناٹک کے امیرِ شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے حجاب سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو ریاست گیر بند کی کال دی تھی۔ جس کے بعد ریاست کی تنظیموں نے مسلم کمیونٹی کے ہر طبقے سے بند میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

    امارت شریعہ کرناٹک کے امیرِ شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے حجاب سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو ریاست گیر بند کی کال دی تھی۔ جس کے بعد ریاست کی تنظیموں نے مسلم کمیونٹی کے ہر طبقے سے بند میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

    • Share this:
      جمعرات 17 مارچ 2022 کو کرناٹک میں پرامن رضاکارانہ بند کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اسی دوارن اسٹیٹ بینک اور مرکزی بازار ویران نظر آئے کیونکہ بہت سے دکانداروں نے حجاب کیس میں ریاستی ہائی کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کے خلاف مسلم تنظیموں کے بلائے گئے بند کی پرزور حمایت کی ہے۔

      امارت شریعہ کرناٹک کے امیرِ شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے حجاب سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو ریاست گیر بند کی کال دی تھی۔ جس کے بعد ریاست کی تنظیموں نے مسلم کمیونٹی کے ہر طبقے سے بند میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ جس کا اثر آج ریاست کے کئی علاقوں میں دیکھنے میں آرہا ہے۔



      مزید پڑھیں: Hijab Row: مسلم تنظیموں نے 17 مارچ کو کرناٹک بند کی دی کال، ایک روزہ پرامن بند کا ہوگا اہتمام

      واضح رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے حجاب کے فیصلے کے بعد کئی ریاستی مسلم تنظیموں نے 17 مارچ بروز جمعرات 2022 کو کرناٹک بند کی کال دی ہے۔ جس میں پیش پیش امارت شریعہ کرناٹک ہے۔ امارت شریعہ کرناٹک کو کرناٹک میں تمام مسلم تنظیموں کا سربراہ مانا جاتا ہے۔


      امارت شریعہ کرناٹک کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ریاست کرناٹک میں ایک دن کے مکمل پرامن بند کا اعلان حجاب کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کے حالیہ افسوسناک فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوۓ ہم تمام علماء تنظیمیں ، ملی فلاحی ادارے، خواتین تنظمیں ، ذمہ داران مساجد وعما ئدین ملت اور وکلاء کل بروز جمعرات بتاريخ 17/03/2022 پوری ریاست کرناٹک میں مکمل ایک دن کے پرامن بند کا اعلان کرتے ہیں-


      وہیں صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی Syed Arshad Madni نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب karnataka hijab controversy کے سلسلہ میں دئے گئے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کا فیصلہ حجاب کے سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور شرعی حکم کے مطابق نہیں ہے، جو احکام فرض یا واجب ہوتے ہیں وہ ضروری ہوتے ہیں، ان کی خلاف ورزی کرنا گناہ ہے۔

      مزید پڑھیں: Hijab Row: حجاب معاملہ پر سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار، ہولی کے بعد ہوگی سماعت

      انھوں نے کہا کہ اس لحاظ سے حجاب ایک ضروری حکم ہے۔ اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اسلام سے خارج نہیں ہوتاہے لیکن وہ گنہگار ہوکر اللہ کے عذاب اور جہنم کا مستحق ہوتا ہے ضرور ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ کہنا پردہ اسلام کا لازمی جزنہیں ہے شرعاغلط ہے، یہ لوگ ضروری کامطلب یہ سمجھ رہے ہیں کہ جو آدمی اس کا حکم نہیں مانے گا، وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، حالانکہ ایسانہیں ہے۔

      ’’اگر واجب اورفرض ہے تو ضروری ہے اس کے نہ کرنے پر کل قیامت کے دن اللہ کے عذاب کا مستحق ہوگا‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: