ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو تشدد : علما نے دلت ایم ایل اے کے گھر کو از سر نو تعمیر کرنے کی پیشکش کی

Bengaluru Violence : تشدد میں خاکستر ہوئے ایم ایل اے کے گھر کا علما کرام نے دورہ کیا ۔ علما کی پیشکش پر ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کافی جذباتی ہوئے۔ صرف دعا کرنے کی درخواست کی .

  • Share this:
بنگلورو تشدد : علما  نے دلت ایم ایل اے کے گھر کو از سر نو تعمیر کرنے کی پیشکش کی
بنگلورو تشدد : علما نے دلت ایم ایل اے کے گھر کو از  سر نو تعمیر کرنے کی پیشکش کی

بنگلورو کے تشدد زدہ علاقوں میں امن و اتحاد برقرار رکھنے کیلئے علما کرام نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی کی قیادت میں علما کرام کے وفد نے آج شہر کے متاثرہ علاقے ڈی جے ہلی اور کاول بیسندرا کا دورہ کیا ۔ سب سے پہلے علما کرام نے ڈی جے ہلی پولیس اسٹیشن پہنچ کر یہاں شر پسندوں کی جانب کی گئی تباہی کاجائزہ لیا ۔ 11 اگست 2020 کی رات پیش آئے تشدد کے دوران شر پسند عناصر نے اس پولیس اسٹیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے عمارت کے ایک حصہ کو آگ لگا دی تھی ۔ ڈی جے ہلی کے بعد امیر شریعت کی صدارت میں علما کا وفد مقامی ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کے گھر پہنچا۔ 11 اگست کو ایک جانب پولیس اسٹیشن کے اندر اور باہر پر تشدد احتجاج ہوا تھا ، تو دوسری طرف ایک گروہ نے کاول بیسندرا پہنچ کر وہاں موجود ایم ایل اے کے گھر، ملزم نوین کے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور ان گھروں کو نذر آتش کردیا۔


سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان کی موجودگی میں علما کرام نے جل کر خاکستر ہوئے ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کے گھر کے اندرونی حصہ کا معائنہ کیا ۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر کس طرح تباہی مچائی گئی ، اس کی جانکاری اکھنڈ سرینواس مورتی نے علما کرام کو دی ۔ ان تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی اور دیگر علما کرام نے میڈیا سے خطاب کیا ۔ مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ملزم نوین کو حکومت سخت سے سخت سزا دے ۔ انہوں نے کہا کہ  مسلمان نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا ، ملزم نوین کی حرکت ایک بڑے نقصان اور تشدد کا سبب بنی ہوئی ہے ۔


علما کرام نے ڈی جے ہلی پولیس اسٹیشن پہنچ کر یہاں شر پسندوں کی جانب کی گئی تباہی کاجائزہ لیا ۔
علما کرام نے ڈی جے ہلی پولیس اسٹیشن پہنچ کر یہاں شر پسندوں کی جانب کی گئی تباہی کاجائزہ لیا ۔


مولانا صغیر احمد رشادی نے تشدد کے واقعہ کی بھی پرزور طریقہ سے مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے گئے توہین آمیز پیغام کے رد عمل میں ہوا تشدد بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ امیر شریعت نے کہا کہ تشدد کے دوران پولیس اسٹیشن کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ مقامی ایم ایل اے کے گھر کو بھی تباہ و برباد کردیا گیا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ اس تشدد کو دیکھ کر علما کرام کو کافی تکلیف ہوئی ہے ، قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اس طرح کا فساد اور تشدد برپا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ کرناٹک کے امیر شریعت نے دلت ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ تمام علما کرام ان کے دکھ اور تکلیف میں برابر کے شریک ہیں ۔

اس موقع پر میڈیا کے سامنے ریاست کے امیر شریعت نےایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی اجازت دیں ، تو تشدد میں تباہ ہوئے ان کے گھر کی از سر نو تعمیر علما کرام اپنے خرچ سے کریں گے ۔ امیر شریعت کی اس پیشکش پر ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کافی جذباتی ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ علما کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ایم ایل اے نے کہا کہ انہیں کچھ نہیں چاہئے بس علما کرام  کی دعائیں ان کے لئے کافی ہیں ۔ ریاست کے ایک اور بڑے عالم دین آل انڈیا ملی کونسل کے قومی معاون جنرل سیکرٹری مولانا مصطفی رفاعی جیلانی نے کہا کہ علما کرام نے ایم ایل اے کو تسلی دی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہیں اور ایم ایل اے نے بھی یقین دلایا ہے کہ وہ پہلے ہی کی طرح مسلم طبقے کے ساتھ اپنے روابط اور تعلقات کو قائم رکھیں گے۔

سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان کی موجودگی میں علما کرام نے جل کر خاکستر ہوئے ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کے گھر کے اندرونی حصہ کا معائنہ کیا ۔
سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان کی موجودگی میں علما کرام نے جل کر خاکستر ہوئے ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کے گھر کے اندرونی حصہ کا معائنہ کیا ۔


بنگلورو کی مسجد حضرت بلال کے خطیب و امام مولانا ذوالفقار علی رضا نوری نے کہا کہ ڈی جے ہلی ، کے جے ہلی علاقوں میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی مل جل کر رہتے ہوئے آئے ہیں ، چند طاقتیں لوگوں کو آپس میں لڑوانا چاہتی ہیں ۔ خاص طور پر دلتوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ علما کرام ایسی کوششوں کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان نے کہا کہ علما کرام نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ علاقے میں امن و امان ، پیار و محبت کو قائم و دائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

دوسری جانب فیس بک میں  اہانت آمیز پیام پوسٹ کرنے والے ملزم نوین نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرلیا ہے ۔ اس پورے معاملہ میں سینٹرل کرائم برانچ نے 200 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ ان میں 81 ملزمین کو بنگلورو سے بلاری منتقل کیا گیا ہے ۔ آج صبح 81 ملزمین کو تین بسوں کے ذریعہ بلاری جیل لایا گیا ہے ۔ بنگلورو میں فرحان نامی ایک نوجوان کی گرفتاری کے بعد اس کے والد کی ہارٹ اٹیک سے موت کا واقعہ بھی پیش آیا ہے ۔ یہ بات کہی جارہی ہے کہ اس پورے معاملہ میں مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں ۔

پولیس کی اس طویل کارروائی کے بعد مقامی لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ تشدد زدہ علاقوں میں دفعہ 144 کے نافذ رہنے کے سبب یہاں کی تمام مساجد جمعہ کے دن بھی عوام کیلئے بند تھیں ۔ مسجد میں صرف پیش امام اور مسجد کے عملہ نے جمعہ کی نماز ادا کی ۔ لوگوں کو گھر پر ہی نماز ظہر ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 14, 2020 11:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading