ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل ، 10 نومبر کو نتائج کا اعلان

سرا اسمبلی حلقہ میں 82.31 فیصد پولنگ درج ہوئی جو گزشتہ اسمبلی انتخابات سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب بنگلورو کے آر آر نگر (راج راجیشوری نگر) میں ووٹروں کا رد عمل مایوس کن رہا۔ آر آر نگر میں صرف 45.24 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے ۔

  • Share this:
کرناٹک: دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل ، 10 نومبر کو نتائج کا اعلان
کرناٹک: دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل ، 10 نومبر کو نتائج کا اعلان

کرناٹک کے دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کیلئے آج پولنگ عمل آئی ۔ سرا اور آر آر نگر میں صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک رائے دہندگان نے اپنے حق کا استعمال کیا۔ کورونا وبا کے درمیان پرامن طریقے سے ووٹنگ کی کارروائی انجام پائی۔  ٹمکور ضلع کے سرا اسمبلی حلقہ میں ووٹنگ فیصد چونکہ دینے والا رہا۔ اس حلقے کے لوگوں نے کورونا کو مات دیتے ہوئے مانو جمہوریت کا جشن منایا۔ سرا اسمبلی حلقہ میں 82.31  فیصد پولنگ درج ہوئی جو گزشتہ اسمبلی انتخابات سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب بنگلورو کے آر آر نگر (راج راجیشوری نگر) میں ووٹروں کا رد عمل مایوس کن رہا۔ آر آر نگر میں صرف 45.24 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے ۔ اس لحاظ سے سرا اسمبلی حلقہ اور  آر آر نگر اسمبلی حلقہ کی ووٹنگ میں زمین و آسمان کا فرق دیکھنے کو ملا ۔ بہرحال ریاست بھر میں دلچسپی کا مرکز بنے ان دونوں اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان 10 نومبر 2020 بروز منگل کو ہوگا۔


ٹمکور ضلع کے سرا اسمبلی حلقہ میں جے ڈی ایس کے ایم ایل اے ستیہ نارائن کے انتقال کی وجہ سے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ جبکہ آر آر نگر میں دل بدل کی سیاست ضمنی الیکشن کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ آر آر نگر میں کانگریس ایم ایل اے منی رتنا کے بی جے پی میں شامل ہونے کی وجہ سے ضمنی الیکشن طے پایا ۔ سرا اور آر آر نگر اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ سے قبل سیاسی پارٹیوں کی مہم زور دار رہی ہے ۔ حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی، حزب اختلاف کانگریس اور جے ڈی ایس نے اپنے اپنے امیدواروں کی جیت کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ سرا میں کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان سہ طرفہ مقابلہ دکھائی دیا ہے ۔ جبکہ بنگلورو کے آر آر نگر میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان راست مقابلہ ہے ۔


سرا اسمبلی حلقہ میں 82.31 فیصد پولنگ درج ہوئی جو گزشتہ اسمبلی انتخابات سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب بنگلورو کے آر آر نگر (راج راجیشوری نگر) میں ووٹروں کا رد عمل مایوس کن رہا۔ آر آر نگر میں صرف 45.24 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے ۔
سرا اسمبلی حلقہ میں 82.31 فیصد پولنگ درج ہوئی جو گزشتہ اسمبلی انتخابات سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب بنگلورو کے آر آر نگر (راج راجیشوری نگر) میں ووٹروں کا رد عمل مایوس کن رہا۔ آر آر نگر میں صرف 45.24 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے ۔


سرا اسمبلی حلقہ میں گزشتہ الیکشن میں شکست کھانے والے کانگریس کے سینئر لیڈر ٹی بی جئے چندرا دوبارہ اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ جے ڈی ایس پارٹی نے یہاں مرحوم ایم ایل اے  ستیہ نارائن کی اہلیہ اماں جماں  کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی نے یہاں ڈاکٹر راجیش گوڑا کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔ دوسری جانب بنگلورو کے آر آر نگر یعنی راج راجیشوری نگر میں کانگریس کے باغی ایم ایل اے منی رتنا جو اب بی جے پی کے امیدوار بن کر الیکشن لڑ رہے ہیں ، اپنی جیت کیلئے ہر ممکن کوشش کئے ہوئے ہیں ۔ ان کا راست مقابلہ کانگریس کی خاتون امیدوار کسما سے ہے ۔ یہاں جے ڈی ایس کے امیدوار وی کرشنا مورتی بھی میدان میں ہیں ۔ بہرحال ان دونوں اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات ریاست کی بڑی سیاسی پارٹیوں کیلئے انا کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں ۔ خاص طور پر حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی اور حزب اختلاف کانگریس کیلئے انتہائی اہم ہیں ۔ چونکہ ریاست میں وزیر اعلی یدی یورپا کی حکومت سادہ اکثریت پر قائم ہے ۔ اسمبلی کے چار پانچ ارکان اگر ادھر اُدھر ہو جائیں تو ریاست کی سیاست کا نقشہ ہی بدل سکتا ہے ۔

آج ہوئے دو اسمبلی حلقوں کے انتخابات کے بعد مزید دو اسمبلی حلقوں کیلئے بائی الیکشن کا اعلان ہونے والا ہے ۔ بیدر ضلع کے ماسکی اور بسوکلیان اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات  آنے والے دنوں میں منعقد ہوں گے ۔ آج ہوئے دو حلقوں کے انتخابات اور آنے والے دنوں میں مزید دو حلقوں کے انتخابات میں اگر حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو ریاست میں ایک بار پھر سیاسی اتھل پتھل دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔ کل 224 نشستوں پر مشتمل کرناٹک کی اسمبلی میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے 113 ایم ایل ایز کی ضرورت ہوتی ہے ۔  فی الوقت بی جے پی اپنے  117 اور تین آزاد امیدواروں کی تائید کے ساتھ اقتدار میں ہے ۔ جبکہ کانگریس کے پاس  67 اور جے ڈی ایس کے پاس  33 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ لہذا ضمنی انتخابات تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے اہمیت کے حامل بنے ہوئے ہیں۔

ایک جانب بی جے پی اپنے اقتدار کو بچانے کی کوشش میں ہے تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کی فراق میں ہیں ۔ ان انتخابات کے نتائج کا اثر سیاسی لیڈروں کی پوزیشن پر بھی ہوسکتا ہے ۔ وزیر اعلی یدی یورپا کیلئے پارٹی میں اپنے اثر و رسوخ کو ثابت کرنے کیلئے یہ بائی الیکشن کافی اہم سمجھا جارہا ہے۔ دوسری طرف پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے صدر ڈی کے شیو کمار کیلئے بھی یہ ضمنی انتخابات کسی امتحان سے کم نہیں ہیں۔ ڈی کے شیوکمار کو پارٹی میں اپنی قیادت ثابت کرنے کیلئے یہ ایک بہترین موقع مانا جارہا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 03, 2020 10:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading