ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں آرڈیننس کے ذریعہ نافذ ہوگا گئو کشی پر پابندی کا بل

انسداد گئو کشی بل 2020 میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مویشی کی تعریف گائے اور گائے کی نسل سے وابستہ تمام جانوروں کے طور پر بتائی گئی ہے۔ اس لحاظ سے گائے، بیل، سانڈ، بچھڑے، بھینس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہوگی۔ نئے بل سے صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کو مستشنی رکھا گیا ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں آرڈیننس کے ذریعہ نافذ ہوگا گئو کشی پر پابندی کا بل
یدی یورپا ۔ فائل فوٹو ۔ اے این آئی ۔

کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ انسداد گئو کشی بل 2020 کو نافذ کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے۔ بنگلورو میں وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کی صدارت میں آج ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں گئو کشی پر پابندی کے آرڈیننس کو منظوری دی گئی ہے۔ ریاست کے وزیر قانون مدھو سوامی نے کہا کہ کابینہ میں حاصل ہوئی منظوری کے بعد آرڈیننس گورنر کے پاس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر واجو بھائی والا جلد سے جلد اس آرڈیننس پر اپنے دستخط کریں گے۔ بہرحال گورنر کی منظوری کے بعد ریاست بھر میں گئو کشی پر پابندی کا آرڈیننس نافذ ہوگا ۔


انسداد گئو کشی بل 2020 میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مویشی کی تعریف گائے اور گائے کی نسل سے وابستہ تمام جانوروں کے طور پر بتائی گئی ہے۔ اس لحاظ سے گائے، بیل، سانڈ، بچھڑے، بھینس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہوگی۔ نئے بل سے  صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کو مستشنی رکھا گیا ہے۔ یعنی صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کے ذبیحہ کی اجازت ہوگی ۔


نئے بل میں سزا کے سخت ترین دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے کو Cognizable offence یعنی قابل شناخت جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس نئے ترمیم شدہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کم سے کم 3 سال کی سزا ہوگی اور  زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ قانون کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 50 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ دوسری مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ سے 10 روپے تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔ سب انسپکٹر کو چھان بین کرنے کی اجازت ہوگی۔ نہ صرف دکانوں ، گھروں میں بھی چھان بین کا اختیار ہوگا۔


گائے، بیل کی حفاظت کیلئے ریاست کے مختلف شہروں میں گئو شالہ قائم کرنے کی تجویز اس نئے قانون میں پیش کی گئی ہے۔ گائے اور گائے کی نسل سے جوڑے تمام جانوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بات قانون میں کہی گئی ہے۔ کرناٹک کے وزیر قانون مدھو سوامی نے کہا کہ ریاست میں موجود 1964 کے قانون میں چند اہم تبدیلیاں لاتے ہوئے اس نئے بل کو تیار کیا گیا ہے۔ وزیر مویشی پالن، حج اور وقف پربھو چوہان نے حکومت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت مویشی پالن نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے ۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں کانگریس اور جے ڈی ایس نے آرڈیننس کے ذریعہ انسداد گئو کشی بل نافذ کرنے کے حکومت کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ نئے قانون سے کسانوں کو نقصان ہوگا۔ موجودہ بی جے پی حکومت ایک کے بعد ایک کسان مخالف قانون منظور کررہی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر سلیم احمد نے کہا کہ حکومت چور دروازے کے ذریعہ اس بل کو نافذ کررہی ہے۔ بغیر کسی بحث کے اس متنازع بل کو پہلے قانون ساز اسمبلی  میں منظور کیا گیا ہے۔ قانون ساز کونسل میں منظوری نہ ملنے کے بعد حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ بل کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سلیم احمد نے کہا کہ انسداد گئو کشی کا بل جب دوبارہ کونسل میں پیش کیا جائے گا تو کانگریس پارٹی اسے منظور ہونے نہیں دے گی۔

پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے صدر وائی سعید احمد نے کہا کہ بی جے پی اس بل کے ذریعے ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیف غریب عوام کی غذا ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت میں  ایک جانب بیف کے ایکسپورٹ کو اجازت دی گئی ہے تو دوسری طرف ملک میں بیف پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وائی سعید احمد نے کہا کہ حکومت کی نیت عوام کو گمراہ اور پریشان کرنا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 28, 2020 10:43 PM IST