ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن کا بڑا فیصلہ، بنگلور۔میسور روڈ پر قائم ہوگی یونیورسٹی

اس ادارے کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں تقریبا 5 ہزار طلباء تعلیم پارہے ہیں۔ اب اس ادارے کی نومنتخب مجلس منتظمہ نے یونیورسٹی قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا ہے۔

  • Share this:
کرناٹک: سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن کا بڑا فیصلہ، بنگلور۔میسور روڈ پر قائم ہوگی یونیورسٹی
اس ادارے کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں تقریبا 5 ہزار طلباء تعلیم پارہے ہیں۔ اب اس ادارے کی نومنتخب مجلس منتظمہ نے یونیورسٹی قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا ہے۔

بنگلورو: سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن( سی ایم اے) ریاست کرناٹک کے مسلمانوں کا ایک نمائندہ اور قدیم ادارہ ہے۔ اس ادارے کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں تقریبا 5 ہزار طلباء تعلیم پارہے ہیں۔ اب اس ادارے کی نومنتخب مجلس منتظمہ نے یونیورسٹی قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا ہے۔ بنگلورو کے عباس خان کالج میں سی ایم اے کی نئی 30 رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اتفاق رائے سے معروف صنعتکار ضیاء اللہ شریف کو دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔ فاروق محمود اور یونس محمد سیٹھ کو نائب صدور، ڈاکٹر ظہیر الدین کو جنرل سیکرٹری، حسین شریف اور ریاض احمد شریف کو جوائنٹ سیکرٹری، عطار سید مرتضی حسین کو خازن کے عہدے کیلئے منتخب کیا گیا۔

مسلسل دوسری مرتبہ سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہونے والے ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ پہلے اجلاس میں کمیٹی نے کئی اہم فیصلے لئے ہیں۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ بنگلورو۔ میسور روڈ پر رام نگرم کے قریب تقریبا 22 ایکڑ اراضی خریدی گئی ہے۔ اس اراضی پر یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کام کو برق رفتار سے انجام دینے کیلئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سی ایم اے کے تحت نیا شاپنگ کمپلیکس تعمیر کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ شاپنگ کامپلیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی یونیورسٹی کے قیام پر خرچ کی جائے گی۔

ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ سی ایم اے کا دفتر عباس خان کالج میں موجود ہے۔ چونکہ عباس خان کالج لڑکیوں کا ادارہ ہے یہاں سی ایم اے کے دفتر کی موجودگی پر کئی بار اعتراض جتایا گیا ہے۔ لہذا اس دفتر کو بنگلورو کے جئے نگر میں موجود لڑکوں کے سی ایم اے ہاسٹل کی عمارت میں منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد دفتر ہی کیلئے ایک علیحدہ عمارت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جائے گا۔


ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ اردو ہال کی تعمیر کرنے کا بھی اہم فیصلہ پہلی میٹنگ میں لیا گیا ہے۔اس سلسلے میں کرناٹک ریاستی وقف بورڈ سے زمین فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ بنگلورو کے ڈبل روڈ پر کئی سالوں سے وقف کی اراضی خالی پڑی ہوئی ہے۔ وقف بورڈ یہ زمین اگر سی ایم اے کے حوالے کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اپنے صرف خاص سے اردو ہال کی عالیشان عمارت تعمیر کرینگے۔انہوں نے کہا کہ بنگلورو ملک کا مشہور شہر ہے۔ یہاں ایک اردو ہال کا نہ ہونا افسوس کی بات ہے۔ مجوزہ اردو ہال میں اردو لائبریری، اردو سکھانے کا انتظام، اردو کے مشاعرے، دیگر تقریبات، ریسرچ سینٹر، ملک بھر سے بنگلورو آنے والے شعراء و ادباء کیلئے قیام و طعام کا انتظام اس طرح کئی سہولیات موجود رہیں گی۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ اگر وقف بورڈ زمین نہ بھی دے تب بھی وہ کسی نہ کسی طرح اردو ہال تعمیر کرنے کے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم اے بھی ایک وقف کا ادارہ ہے، ملت کا ادارہ ہے لہذا اردو ہال کیلئے جگہ فراہم کرنے میں وقف بورڈ کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ سب کو ملکر اردو زبان و ادب کی ترقی کیلئے قدم اٹھانے چاہیں۔


اردو کے زبردست شیدائی ضیاء اللہ شریف شعر و شاعری سے کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو زبان کیلئے انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں کرناٹک اردو اکیڈمی کے ایوارڈ سے تفویض کیا گیا ہے۔ اب انکی جانب سے اردو ہال کی تعمیر کا اعلان ریاست کرناٹک کے اردو داں طبقہ کیلئے کسی خوش خبری سے کم نہیں۔ سی ایم اے کی میٹنگ میں اقامتی اسکول قائم کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ اقامتی اسکول کیلئے سی ایم اے کے نئے نائب صدر فاروق محمود نے بنگلورو کے مضافات میں موجود اپنی 7 ایکڑ اراضی سی ایم اے کو عطیہ کے طور پر دینے کا ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ وہ فاروق محمود کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جلد ہی اقامتی اسکول قائم کرنے کیلئے سی ایم اے کی جانب سے پہل کی جائے گی۔
ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ موجودہ تعلیمی اداروں کو بھی مضبوط کرنے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس کیلئے بھی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
اسطرح سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن کی نئی کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں تعلیمی ترقی کیلئے کئی اہم فیصلے لئے ہیں۔ سی ایم اے 113 سال قدیم ادارہ ہے۔ اس کے تعلق سے یہ بات عام ہے کہ ادارہ کے ذریعہ جیسی ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوپائی ہے۔ سی ایم اے کے طرز پر قائم لنگایت، وکلیگا طبقوں کے اداروں نےتعلیم کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔
ضیاء اللہ شریف کو مسلسل دوسری مرتبہ سی ایم اے کی قیادت کرنے کا موقع ملا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کا یہ قدیم ادارہ اپنے ماضی کی شہرت اور مقام کو دوبارہ حاصل کرتے ہوئے، ملک اور ملت کی ترقی میں ایک بار پھر نمایاں کردار ادا کریگا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 19, 2021 09:27 AM IST