உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک کے وزیر اعلی پر چوری کی گھڑی پہننے کا الزام

    بنگلورو : سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کی قیمتی گھڑی کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدا رمیا پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدا رمیا کو کسی نے چوری کی گھڑی تحفہ میں دی ہے ، ـ اور اسی کو وزیر اعلیٰ سدا رمیا اپنے ہاتھ میں باندھے پھر رہے ہیں ۔ ـ اس سلسلے میں جانچ کرانی چاہئے تاکہ گھڑی کی حقیقت سامنے آجائے۔

    بنگلورو : سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کی قیمتی گھڑی کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدا رمیا پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدا رمیا کو کسی نے چوری کی گھڑی تحفہ میں دی ہے ، ـ اور اسی کو وزیر اعلیٰ سدا رمیا اپنے ہاتھ میں باندھے پھر رہے ہیں ۔ ـ اس سلسلے میں جانچ کرانی چاہئے تاکہ گھڑی کی حقیقت سامنے آجائے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بنگلورو : سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کی قیمتی گھڑی کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔


      میڈیا سے گفتگو کے دوران ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدا رمیا پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدا رمیا کو کسی نے چوری کی گھڑی تحفہ میں دی ہے  ـ اور اسی کو وزیر اعلیٰ سدا رمیا اپنے ہاتھ میں باندھے پھر رہے ہیں ۔  اس سلسلے میں جانچ کرانی چاہئے تاکہ گھڑی کی حقیقت سامنے آجائے۔


      سوامی کے مطابق اطلاع ملی ہے کہ وزیر اعلیٰ سدا رمیا کے پاس جو قیمتی گھڑی ہے ، وہ ڈاکٹر سُدھاکر نامی شخص کی ہے ۔ ـ ایچ ڈی کمار سوامی نے بتایا کہ 7 مئی 2015 کو اس گھڑی کے چوری ہوگئی تھی اور اس بابت سُدھاکر شیٹی نے بنگلورو کے کبن پارک پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی ۔


      ادھر وزیراعلی سدا رمیا نے کماراسوامی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایچ ڈی کماراسوامی کوجھوٹ بولنے میں مہارت حاصل ہے۔ سدرامیا نےکہا کہ گھڑی کے سلسلے میں وہ پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں۔ اپنی قیمتی گھڑی کے سلسلے میں وزیراعلی نے کہا کہ اُن کے دوست گریش چندرورما نےیہ ان کو تحفہ میں دی تھی۔ جولائی میں گھڑی اُن کو تحفہ میں ملی، چونکہ انکم ٹیکس ریٹرن مارچ میں داخل کرنا ہے۔ اس لئےاُنہوں اپنے اثاثہ جات میں گھڑی کی معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔

      First published: