உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انٹرویو : پنجاب نیشنل بینک کو ایشو بنائیں گے ، وزیر اعظم مودی کو جواب دینا ہوگا : وزیر اعلی سدا رمیا

    سدا رمیا :فائل فوٹو

    سدا رمیا :فائل فوٹو

    کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کچھ مہینے ہی باقی رہ گئے ہیں ، ایسے میں کرناٹک کے وزیر اعلی سدا رمیا نے کہا ہے کہ انتخابی تشہیر کے دوران وہ پنجاب نیشنل بینک کے گھوٹالہ کو ایشو بنائیں گے ۔

    • Share this:

      بنگلور : کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کچھ مہینے ہی باقی رہ گئے ہیں ، ایسے میں کرناٹک کے وزیر اعلی سدا رمیا نے کہا ہے کہ انتخابی تشہیر کے دوران وہ پنجاب نیشنل بینک کے گھوٹالہ کو ایشو بنائیں گے ۔ سی این این - نیوز 18 کی دیپا بال کرشنن سے بات چیت کے دوران وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ ان کی تشہیری مہم میں ہندتو ایشو نہیں ہوگا۔
      اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سیاست میں آتے ہوئے آپ نے جو بھی ہدف مقرر کیا تھا وہ حاصل ہوگیا ۔ تو وزیر اعلی نے کہا کہ ہماری حکومت کے پاس وزن ہے ، لیکن ہمیں ایک زندہ کرناٹک بنانا ہے ، اس لئے ہماری سبھی ٹھوس اسکیمات ، جنہیں ہم نے نافذ کیا ہے ، وہ سبھی کرناٹک کی ترقی کیلئے کارگر ثابت ہوئی ہیں۔ ہماری ساری اسکیمیں جیسے انیہ بھاگیہ ، خوشی بھاگیہ اور ودیاسری ، ہر سمارج کے غریب طبقہ کیلئے لائی گئی ہیں ۔ ہم نے 2025 کیلئے بھی اپنا وزن تیار کرلیا ہے اور اس لئے ہمیں اسی سمت میں آگے بڑھنا ہے۔
      جب آپ نے ایک نوجوان لیڈر کے طور پر سیاست میں قدم رکھا تھا تب ایک الگ جوش رہا ہوگا ، کیا آپ اپنے ان سبھی خوابوں کو پورا کیا ؟
      جی ہاں ہمارے سبھی نوجوان لیڈروں میں سماج کے تئیں عہد اور ایک نظریہ ہونا چاہئے اور اس میں کوئی تذبذب نہیں ہونا چاہئے ۔ جہاں تک نظریہ ، اصول اور اسکیموں کی بات ہے ، عہد اور اس کو پورا کرنے کیلئے واضح ہونا چاہئے ، اس کے بعد ہی وہ سماج کے چیلنجز کا سامنا کرسکتے ہیں۔
      گزشہ کچھ مہینوں میں آپ ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں ، جو براہ راست وزیر اعظم مودی سے ٹکر لیتا ہے ، کیا یہ انتخابی سیاست ہے ؟ کیا یہ الیکشن سدا رمیا بمقابلہ مودی ہونے والا ہے؟
      میں کسی وجہ کے بغیر وزیر اعظم مودی اور ان کی سرکار کی تنقید نہیں کرتا ہوں ، جب مودی جی بنگلورو آئے تو انہوں نے ہماری سرکار کے خلاف الزامات لگائے ، جو کہ پوری طرح سے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ تھے ، اس لئے میں نے کہا کہ ایک وزیر اعظم کے ناطے انہیں اس طرح کے جھوٹے الزامات نہیں لگانے چاہئیں اور اس طرح سے انہیں ایک وزیر اعظم کے طور پر آگے رہنا بھی نہیں چاہئے۔
      انہوں نے آپ کو 10 فیصد وزیر اعلی کہا ...۔
      کیا ان کے پاس کوئی دستاویز ہے ؟ مودی اور یدی یورپا میں کیا فرق ہے ؟ مودی اس ملک کے وزیر اعظم ہیں ، انہیں اس طرح سے یدی یورپا کے لگائے ہوئے الزامات کو دوہرانا نہیں چاہئے اور مودی ، یدی یورپا کی کی موجودگی میں اس طرح کے بیان دے رہے ہیں ، وہ وزیر اعظم کے ایک دم ساتھ بیٹھے ہوئے جب یدی یورپا وزیر اعلی تھے تب انہیں جیل جانا پڑا تھا ۔
      کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس الیکشن کیلئے کانگریس کو باضابطہ طور پر اپنے وزیر اعلی امیدوار کیلئے آپ کے نام کا اعلان کردینا چاہئے ، ابھی تک ایسا کیوں نہیں ہوا ؟
      نہیں ، کانگریس اعلی کمان نے اس الیکشن کو میری قیادت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جہاں تک وزیر اعلی کی بات ہے تو جب پارٹی کو اکثریت ملے گی ، تبھی اس بابت فیصلہ کیا جائے گا اور اعلی کمان اسے منظوری دیں گے ، یہی کارروائی ہے ، جسے کانگریس فالو کرتی ہے۔
      آپ کو یہ بات ماننی ہوگی کہ کانگریس پارٹی میں ہی کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو نہیں چاہتے ہیں کہ آپ پھر وزیر اعلی بنیں؟
      کانگریس پارٹی میں امیدوار ہیں ، کیونکہ کانگریس ایک بہت قدیم پارٹی ہے ۔ اس جمہوریت میں کانگریس 133 سال پرانی پارٹی ہے اور اس لئے یہاں کئی امیدوار ہیں ۔ آخر میں اعلی کمان کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔
      کیا راہل گاندھی اور کانگریس اعلی کمان کو علاقائی لیڈروں کو اکیلے چھوڑنا چاہئے ؟ جیسا کہ انہوں نے پنجاب میں کیا تھا ۔ کیا راہل گاندھی کی انتخابی مہم سے آپ کو کسی طرح کی کوئی مدد مل رہی ہے ؟
      بالکل ، راہل گاندھی کی انتخابی مہم سے کرناٹک میں ہماری پارٹی کو ضرور مدد مل رہی ہے ۔ کرناٹک میں انتخابی ماحول اور سیاسی حالات اب تک ہمارے حق میں ہی ہیں ، کیونکہ کوئی اقتدار مخالف لہر نہیں ہے ۔ میں نے پورا ایک مہینہ 13 دسمبر سے لے کر 13 جنوری تک سبھی اضلاع کا دورہ کیا اور گھوم گھوم کر لوگوں کے موڈ اور ان کے رد عمل کو دیکھا ۔ صاف طور پر ظاہر ہے کہ کرناٹک میں حالات کانگریس کے حق میں ہیں ۔ پارٹی اپنے دم پر اقتدار میں واپسی کرے گی۔

      First published: