உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijabs: کرناٹک کے کالج کیمپس کے اندر حجاب اور زعفرانی اسکارف پر پابندی، ’نفرت کو لگے گی روک‘

    ڈگری کالج میں تقریباً 850 طلبہ ہیں جن میں سے ایک چوتھائی مسلمان ہیں۔ ایک فیکلٹی ممبر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں زیادہ تر سرکاری ڈگری کالجز میں یونیفارم نہیں ہے حالانکہ بالاگاڑی کا کالج اس سے مستثنیٰ ہے۔

    ڈگری کالج میں تقریباً 850 طلبہ ہیں جن میں سے ایک چوتھائی مسلمان ہیں۔ ایک فیکلٹی ممبر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں زیادہ تر سرکاری ڈگری کالجز میں یونیفارم نہیں ہے حالانکہ بالاگاڑی کا کالج اس سے مستثنیٰ ہے۔

    ڈگری کالج میں تقریباً 850 طلبہ ہیں جن میں سے ایک چوتھائی مسلمان ہیں۔ ایک فیکلٹی ممبر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں زیادہ تر سرکاری ڈگری کالجز میں یونیفارم نہیں ہے حالانکہ بالاگاڑی کا کالج اس سے مستثنیٰ ہے۔

    • Share this:
      کرناٹک میں پچھلے مہینے کچھ طلبہ نے زعفرانی اسکارف پہن کر کیمپس میں اپنی مسلم ہم جماعتوں سے کہا کہ وہ کلاسیز کے دوران حجاب نہ پہنیں۔ پرنسپل اننت مورتی نے میڈیا کو بتایا کہ کئی افسران میٹنگ کا حصہ ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہندو طالبات زعفرانی اسکارف نہیں پہنیں گی اور مسلمان طالبات حجاب نہیں پہنیں گی لیکن وہ اپنے سر کو ڈھانپنے کے لیے شال پہن سکتی ہیں۔ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے کالج سے نکال دیا جائے گا۔

      ڈگری کالج میں تقریباً 850 طلبہ ہیں جن میں سے ایک چوتھائی مسلمان ہیں۔ ایک فیکلٹی ممبر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں زیادہ تر سرکاری ڈگری کالجز میں یونیفارم نہیں ہے حالانکہ بالاگاڑی کا کالج اس سے مستثنیٰ ہے۔

      سال 2018 میں کالج کو اسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور قاعدہ اس پر بات ہوئی تھی۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں کام کرنے والے ایک افسر نے کہا کہ ڈریس کوڈ کا مسئلہ حالیہ برسوں میں پیدا ہوا ہے۔ کیمپس فرنٹ آف انڈیا (کرناٹک) کے ریاستی سکریٹری سید سرفراز گنگاوتی نے کالج حکام کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین حجاب یا زعفرانی شال پہننے کی اجازت دیتا ہے لیکن اسے کسی کی طرف سے اکسایا یا سیاسی طور پر محرک نہیں ہونا چاہیے۔

      اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے سابق قومی سکریٹری ہرشا نارائن نے کہا کہ اسکولز اور کالجز کو مذہبی رسومات سے دور رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی تنظیم (بشمول کیمپس فرنٹ آف انڈیا) میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں تاکہ اسکولوں اور کالجوں سے مذہبی رسومات کو دور رکھا جا سکے۔

      حال ہی میں ضلع اڈوپی میں ایک سرکاری پی یو کالج کے پرنسپل نے مسلم لڑکیوں کو حجاب پہن کر کیمپس میں داخل ہونے سے روک دیا۔ تاہم مؤخر الذکر کو داخلے کی اجازت اس وقت دی گئی جب انہوں نے اڈوپی کے ڈپٹی کمشنر کرما راؤ سے رابطہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: