உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سدارمیا نہیں ، سیدھا روپیہ سرکار ہے کرناٹک میں : بی جے پی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کرناٹک کی سدھارمیا حکومت کو آج ’سیدھا روپیہ سرکار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے ’بانٹو اور راج کرو‘ کی پالیسی اپناکر ریاست کو ذات پات میں تقسیم کردیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      میسورو: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کرناٹک کی سدھارمیا حکومت کو آج ’سیدھا روپیہ سرکار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے ’بانٹو اور راج کرو‘ کی پالیسی اپناکر ریاست کو ذات پات میں تقسیم کردیا ہے۔بی جے پی کی ترجمان میناکشی لیکھی نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہاکہ ریاست کی کانگریس حکومت سب سے زیادہ بدعنوان ہے اور یہ کئی سطح پر بدعنوانی کے مختلف الزامات میں گھری ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ’سیدھا روپیہ‘ سرکار ہے۔ ریاست میں امن وقانون کی صورتحال مکمل طورپر بگڑ چکی ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کی جانیں بھی جاچکی ہیں۔ سدھا رمیا حکومت نے ووٹ بنک کے لئے دلتوں کااستعمال کیا ہے لیکن ان کی ترقی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
      دلتوں اور اقلیتوں کو درکنار کئے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ بی جے پی ہی ہے جس نے عبدالکلام اور رامناتھ کووند کو ملک کا صدر بنایا اور ملک میں اس وقت دلت اور اقلیتی اراکین پارلیمنٹ کی تعداد 131ہے۔محترمہ لیکھی نے کہاکہ ملک میں 2014تک صرف 14کروڑ بنک اکاونٹ تھے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے جن دھن یوجنا شروع کئے جانے کے بعد اب بنک اکاونٹوں کی تعداد 32کروڑ ہوگئی ہے۔ بی جے پی حکومت نے پانچ کروڑ گیس کنکشن دیکر دیہی خواتین کو مدد کی ہے۔
      انہوں نے کہا کہ کانگریس بچوں کو غذا دستیاب کرانے کی آڑ میں سیاست کررہی ہے۔ انہیں مندروں میں پیسے جمع کرنے کے لئے اکاونٹ نہیں دےئے گئے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی اور عصمت دری کے واقعات پر ہنگامہ کرنے والی سدھا رمیا حکومت نے کرناٹک میں نویدیتا عصمت دری معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ جہادی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی ملے گی۔
      First published: