ہوم » نیوز » امراوتی

کرناٹک: راہل نہیں دوہرانا چاہتے میگھالیہ اور گوا کی غلطی، نتائج سے قبل ہی سینئرلیڈروں کو بھیجا بنگلور

بنگلور: کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں۔ کانگریس کرناٹک میں ان غلطیوں کو نہیں دوہرانا چاہتی ہے، جو میگھالیہ اور گوا اسمبلی الیکشن کے بعد کی تھی۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کرناٹک: راہل نہیں دوہرانا چاہتے میگھالیہ اور گوا کی غلطی، نتائج سے قبل ہی سینئرلیڈروں کو بھیجا بنگلور
راہل گاندھی ۔ فائل فوٹو

بنگلور: کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں۔ کانگریس کرناٹک میں ان غلطیوں کو نہیں دوہرانا چاہتی ہے، جو میگھالیہ اور گوا اسمبلی الیکشن کے بعد کی تھی۔


گوا اور میگھالیہ الیکشن سے سبق لیتے ہوئے کانگریس نے پلان بی بنالیا ہے۔ اس کے تحت راہل گاندھی نے کرناٹک الیکشن نتائج آنے کے پہلے ہی پارٹی کے دو سینئر لیڈروں غلام نبی آزاد اور اشوک گہلوت کو بنگلور بھیجا ہے۔  تاکہ وہ سیاسی حالات کو ٹھیک سے سمجھ سکیں۔


کرناٹک میں کانگریس انچارج کے سی وینوگوپال سمیت پانچ سکریٹریوں کو بھی وہاں بھیجا گیا ہے۔ ایگزٹ پول میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت ملتی نہیں نظرآرہی ہے۔ ایسے کانگریس کوئی رسک نہیں لینا چاہتی ہے۔


پارٹی ذرائع کے مطابق اکثریت سے دور رہنے کی حالت میں کانگریس جے ڈی ایس کو قریب لانے کے لئے کئی متبادل پر کام کررہی ہے۔ دلت وزیراعلیٰ کا کارڈ ایسا ہی ایک متبادل ہے۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد اس کے پہلے کرناٹک کے انچارج رہ چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کے ساتھ ان کے اچھے رشتے ہیں، اس لئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے انہیں کرناٹک بھیجا ہے تاکہ وہ جے ڈی ایس سے سیاسی اتحاد کرسکیں۔

دراصل میگھالیہ اور گوا میں کانگریس نے بہتر  مظاہرہ کیا تھا، لیکن عین وقت پر بی جے پی نے بازی مار لی۔ دونوں ریاستوں میں سرکار بنانے کے لئے بی جے پی نے پلان بی پہلے سے ہی تیار کرلیا تھا۔ دونوں اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کوواضح اکثریت نہیں ملی تھی۔ تو دیگر پارٹیوں کے ممبران اسمبلی کو ساتھ لانے کے لئے بی جے پی نے اپنے سپہ سالاروں کو متعلقہ ریاستوں میں بھیج دیا تھا۔، ایسے میں کانگریس پیچھے رہ گئی اور بی جے پی نے دونوں ریاستوں میں سرکار بنا لی۔ کانگریس اب کرناٹک میں ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اس بار کرناٹک کی لڑائی کافی الگ ہے۔ ایگزٹ پول میں بی جے پی اور کانگریس میں کوئی بھی اکثریت کا اعدادوشمار (112) تک نہیں پہنچ پارہا ہے۔ جے ڈی ایس کو کنگ میکر بتایاجارہا ہے۔ یعنی جے ڈی ایس جس کا ساتھ دے گی، کرناٹک میں اسی کی حکومت بنے گی۔

 

 
First published: May 14, 2018 10:47 PM IST