ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: کسانوں نے مسلمانوں سے کی درخواست، 26 جنوری کے احتجاج کو بنائیں کامیاب

مسلم تنظیموں کی جانب سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے سکریٹری اکبر علی اڈپی نے کہا کہ احتجاجی ریلی میں شرکت کیلئے بنگلورو آنے والے تمام کسانوں کا مسلم تنظیمیں گرم جوشی کے ساتھ استقبال کرینگی۔ انہوں نے کہا کہ کسان تنظیموں کی درخواست پر مسلم تنظیمیں احتجاجی ریلی کے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینگی۔

  • Share this:
کرناٹک: کسانوں نے مسلمانوں سے کی درخواست، 26 جنوری کے احتجاج کو بنائیں کامیاب
کرناٹک: کسانوں نے مسلمانوں سے کی درخواست، 26 جنوری کے احتجاج کو بنائیں کامیاب

بنگلورو۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی زرعی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ کرناٹک میں بھی وقت وقت پر کسان تنظیمیں احتجاجی مظاہرے، اجلاس منعقد کررہی ہیں۔ اسی کڑی کے تحت کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں کسانوں نے 26 جنوری کو بڑے پیمانے پر ٹریکٹر ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر برآمد ہونے والی اس احتجاجی ریلی میں ریاست کے کونے کونے سے کسان ٹریکٹروں میں سوار ہو کر بنگلورو پہونچنے والے ہیں۔ اس احتجاجی مظاہرے کو کامیاب بنانے کیلئے کسان تنظیموں کے نمائندے ان دنوں مختلف ذاتوں اور طبقوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ اسی سلسلے کے تحت بنگلورو میں کسان تنظیموں کے ایک وفد نے مسلم تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔


کرناٹک راجیہ رعیت سنگھ کے صدر بڈگل پورہ ناگیندر کی قیادت میں کسان تنظیموں کے وفد نے شہر کے کوئنس روڈ پر واقع دارالسلام پہونچ کر مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں فریقین کے درمیان طویل گفتگو ہوئی۔ کسان تنظیموں کے نمائندوں نے دہلی اور کرناٹک میں جاری کسانوں کے احتجاج، حکومت کا ردعمل، سپریم کورٹ کے معاملات،  آئندہ کے منصوبوں سے مسلم تنظیموں کو واقف کروایا۔ خاص طور پر 26 جنوری کو نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کرنے، کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی درخواست کی۔


نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کرناٹک راجیہ رعیت سنگھ کے نمائندے چامراج پاٹل نے کہا کہ مرکزی حکومت کے تین قوانین کے خلاف ریاست کے تمام کسان مل کر 26 جنوری بروز منگل  2021 کو ٹریکٹر ریلی نکال رہے ہیں۔ اس ریلی کو کامیاب بنانے کیلئے مسلم بھائیوں سے ملاقات کی گئی ہے۔ مسلم تنظیموں کی جانب سے انہیں اچھا رسپانس ملا ہے اور  مسلم طبقہ نے بھرپور ساتھ دینے کا بھروسہ دیا ہے۔ کرناٹک راجیہ رعیت سنگھ کے نمائندے نور شریدھر نے کہا کہ کسانوں کا وفد مختلف طبقوں سے ملاقاتیں کررہا ہے۔ خاص طور پر 26 جنوری کے احتجاج میں کسانوں کے ساتھ عام لوگ بھی شامل ہوں اس کیلئے یہ ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل نے یہ بیان دیا ہے کہ کرناٹک اور کیرلا کے کسان مرکزی حکومت کے بلوں کی حمایت میں ہیں جبکہ یہ بیان حقیقت سے کافی دور ہے۔ لہذا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ایک سخت پیغام دینے کیلئے بڑے پیمانے پر احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔


مسلم تنظیموں کی جانب سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے سکریٹری اکبر علی اڈپی نے کہا کہ احتجاجی ریلی میں شرکت کیلئے بنگلورو آنے والے تمام کسانوں کا مسلم تنظیمیں گرم جوشی کے ساتھ استقبال کرینگی۔ انہوں نے کہا کہ کسان تنظیموں کی درخواست پر مسلم تنظیمیں احتجاجی ریلی کے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینگی۔ اکبر علی نے کہا کہ مسلم طبقہ کسانوں کے اس احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کسانوں کا نہیں پورے عوام کا ہے۔

معروف عالم دین مولانا محمد یوسف کنی نے کہا کہ کسانوں کی اس تحریک کو کامیاب بنانے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے مسلم تنظیموں نے میٹنگ میں کئی اہم مشورے پیش کئے ہیں۔ یہ بات بھی کہی کہ صرف 26 جنوری کا احتجاج ہی نہیں، اس پوری تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے مسلمان کسانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کسانوں کو ان کے حقوق دلوانے، انکے جائز مطالبات کے پورے ہونے تک مسلم تنظیمیں اپنا تعاون فراہم کرینگی۔ کسانوں کے وفد کے ساتھ ہوئی اس اہم میٹنگ میں جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماء ہند، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، کرناٹک مسلم متحدہ محاذ اور چند دیگر مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے حصہ لیا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 16, 2021 08:44 AM IST