ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک کے تحقیق کاروں نے تیار کئے کورونا کے خلاف یہ ہتھیار

کرناٹک میں کورونا سے لڑنے کیلئے چھ ایسے ہتھیار کئے گئے ہیں ، جس کو اپنا کر بر وقت کورونا کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اور اس کی سرکوبی بھی کی جا سکتی ہے ۔

  • Share this:
کرناٹک کے تحقیق کاروں نے تیار کئے کورونا کے خلاف یہ ہتھیار
کرناٹک کے تحقیق کاروں نے تیار کئے کورونا کے خلاف یہ ہتھیار

کورونا وائرس کی ویکسن تیار کرنے کیلئے دنیا بھر میں تجربے کئے جا رہے ہیں ، تاہم ابھی تک کوئی دوا سامنے نہیں آسکی ہے ۔ اسی درمیان کرناٹک میں کورونا سے لڑنے کیلئے چھ ایسے ہتھیار کئے گئے ہیں ، جس کو اپنا کر بر وقت کورونا کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اور اس کی سرکوبی بھی کی جا سکتی ہے ۔ فی الحال کورونا کا ٹسٹ کرانے اور اس کا نتیجہ جاننے کیلئے 48 گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور اس کیلئے خرچ بھی ہزاروں میں آر ہا ہے ۔ وہیں اگر کورونا کا ٹیسٹ کم وقفے اور کم قیمت میں ہو جائے اور پھر آپ کو اپنا لعاب یا خون بھی دینے کی ضرورت نہ پڑ ے ، تو آپ کیا کہیں گے ۔


جی ہاں کرناٹک میں ایک ایسی ہی ایکسرے مشین ایجاد کی گئی ہے ، جس سے صرف  ڈھائی سو روپے میں کورونا ٹیسٹ کیا جا سکے گا ۔ آدرش نٹراجن نامی ایک شخص نے ایسی ایک ایکسرے مشین تیار کی ہے ، جس سے سینے کا ایکسرے نکال کر کورونا  کا نتیجہ بتایا جا سکے گا ۔ یہی نہیں شیلڈڈکس کے نام سے کرناٹک میں ایک ایسا مائیکرو ویو لائک ڈیوائس بھی تیار کیا گیا ، جو اشیا پر بیٹھے ہوئے کورونا کے چراثیم کو اپنے الٹرا وائیلیٹ شعاعوں سے مار دے گا ۔ اس ڈیوائس کو ائیرپورٹس ، دفتروں ، مکانوں اور ریلوے اسٹیشنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ جہاں وائرس کے غیر محسوس طریقے سے موجود ہونے کے امکانات رہتے ہیں ۔


ڈی کانٹو کے نام سے بھی کرناٹک کے تحقیق کاروں نے ایک ایسا سستا آلہ یا ٹرانسپورٹ تیار کیا ہے ، جس سے با آسانی زندہ وائرس کو ٹرانسپورٹ کیا جا سکے گا ۔ ایسا ٹرانسپورٹ میڈیا ابھی امپورٹ کر کے منگایا جا سکتا ہے ، جو کہ کافی مہنگا ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ پولیو وائرس کو ایک مخصوص درجہ حرارت میں محفوظ کیا جاتا ہے ، جبکہ اس کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کیلئے بھی پولیو وائرس کو ایکٹیو رکھنے کیلئے اس کا درجہ حرارت مطلوبہ مقدار میں رکھنے کیلئے ایک ڈیوائس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح کا ڈیوائس منجوناتھ اور دنیش نامی دو تحقیق کاروں نے تیار کیا ہے ، جو کہ انسٹی ٹیوٹ آف بائیوانفارمیٹکس اینڈ اپلائیڈ بائیو ٹکنالوجی میں زیر تعلیم ہیں ۔


کووڈ ٹیسٹ کٹس کی تیاری میں بھی کرناٹک کے محققین نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ کووڈ ٹیسٹنگ کٹس آر ٹی پی سی آر میں استعمال ہونی والی فلوریسنس پروبس کو ڈیولپ کیا ہے۔  فلوریسنس پروبس کو فی الحال دوسرے ممالک بالخصوص چین سے امپورٹ کرکے منگایا جاتا ہے ۔ اس کی ایجاد بھی کووڈ ٹسٹنگ کٹس تیار کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں کیلئے کافی سود مند ثابت ہو گی ۔ ٹی گووند راجو اور مہر پرکاش نامی دو محققین نے یہ تیار کیا ہے ۔ ارون اگروال نامی ایک اور نوجوان نے دکش کے نام سے ایک آلہ تیار کیا ہے ، جس کی مدد سے ڈاکٹرس حاملہ خواتین کے پیٹ کو ہاتھ لگائے بغیر ہی ریموٹ کے ذریعہ بچے کی ہارٹ بیٹ اور اس کی حرکات و سکنات جان سکیں گے۔ اس کے لئے حاملہ خاتون کو یہ آلہ اپنے پیٹ پر رکھنا ہوگا ۔

یہی نہیں کرناٹک کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ایک ایسا ہر بل فیس واش بھی تیار کیا ہے ، جس کو چہرے پر لگانے کے صرف چند سکنڈوں میں کورونا وائرس مر سکتا ہے ۔ کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ کے مطابق تمام چھ پروڈکٹس کو انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ نے منظوری دے دی ہے ۔ تمام چھ پروڈکٹس بازار میں کمرشیل طور پر دستیاب بھی ہیں ۔ ڈاکٹر نارائن کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے پروڈکٹس تیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہمیشہ تیار ہے ۔ نائب وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرناٹک کیلئے یہ باعث فخر ہے کہ اس کے شہری ایسے اختراعی مصنوعات تیار کر رہے ہیں ، جس سے انسانیت کو فائدہ مل رہا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 10, 2020 10:10 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading