ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو تشدد : اترپردیش کی طرز پر کرناٹک حکومت تشدد میں ملوث افراد سے کرے گی املاک کو پہنچے نقصان کی تلافی

ریاستی حکومت نے فسادات کی جانچ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گزشتہ روز ہوئے فسادات کے دوران کم از کم تین افراد کی موت ہوگئی تھی اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔

  • Share this:
بنگلورو تشدد : اترپردیش کی طرز پر کرناٹک حکومت تشدد میں ملوث افراد سے کرے گی املاک کو پہنچے نقصان کی تلافی
بنگلورو تشدد : اترپردیش کی طرز پر کرناٹک حکومت تشدد میں ملوث افراد سے کرے گی املاک کو پہنچے نقصان کی تلافی

بنگلورو تشدد کو لے کر کرناٹک کے وزیر سی ٹی راو نے کہا ہے کہ تشدد منصوبہ بند طریقہ سے کیا گیا تھا ۔ املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے پیٹرول بم اور پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا ۔ تین سو سے زیادہ گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا ۔ ہمارے پاس مشتبہ ہیں ، لیکن جانچ کے بعد ہی اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے ۔ ہم اترپردیش کی طرز پر تشدد میں ملوث افراد سے املاک کو پہنچے نقصانات کی وصولی کریں گے ۔


ادھر ریاستی حکومت نے فسادات کی جانچ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گزشتہ روز ہوئے فسادات کے دوران کم از کم تین افراد کی موت ہوگئی تھی اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔ تشدد کے دوران متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا ۔




دیوگوڑا نے سخت کارروائی کا کیا مطالبہ

ادھرسابق وزیراعظم و جنتا دل (سیکیولر) کے قومی صدر ایچ ڈی دیوگوڑہ نے ریاستی حکومت سے بنگلور میں ہوئے تشدد میں شامل لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ دیوگوڑا نے بدھ کو یہاں جاری بیان میں کہا کہ کل شب ہوئے فسادات کا مقصد امن وامان کو خراب کرنا تھا اور اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پولیس کو تشدد کے لیے ذمے دار اور اسے اکسانے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ریاستی حکومت سے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

اس درمیان کرناٹک کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر ڈی کے شیو کمار نے بھی پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ تشدد کے دوران تھانوں پر حملے ،پ تھراو اور آگ زنی کرنے والی پرتشدد بھیڑ کو پرسکون کرنے کے لیے انتباہ کے طور پر کی گئی پولیس کی گولی باری میں تین افراد کی موت ہوگئی ہے۔

کانگریس رکن اسمبلی اکھنڈ سری نواس مورتی کے ایک قریبی رشتہ دار کی جانب سے فیس بک پر ایک خاص مذہب کے تعلق سے مبینہ توہین آمیز تبصرہ کیے جانے کے بعد بنگلور میں تشدد شروع ہوا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق معاملے میں  150 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ شہر کے پولیس کمشنر نے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔

نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 12, 2020 08:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading