உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت کرناٹک کواسکول یونیفارم لازمی کرنے کااختیارحاصل، حجاب کیس میں سپریم کورٹ کاموقف

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    SC in Hijab case: بنچ نے جواب دیا کہ ایسی کوئی درخواستیں ہائی کورٹ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں اور نہ ہی کوئی مستند ڈیٹا پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ لڑکیاں حجاب پر پابندی کی وجہ سے ڈراپ آؤٹ ہوئی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Jammalamadugu
    • Share this:
      SC in Hijab case: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے بدھ کے روز کہا ہے کہ کرناٹک حکومت کو تعلیمی اداروں میں یونیفارم لازمی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ جب کہ حجاب پر پابندی (Hijab ban) کو چیلنج کرنے والے ایک درخواست گزار نے دلیل دی کہ ریاست کے پاس یونیفارم نافذ کرنے یا حجاب پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

      جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیا کی بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جو اختیارات ان کے پاس ہیں، اس کو اپنایا جائے۔ آپ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ان کا سرکلر کسی بھی قانونی شق کی خلاف ورزی کر سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ ان کے پاس طاقت نہیں ہے درست نہیں ہو سکتا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے درخواستوں پر سماعت جاری رکھی۔ ان درخواستوں کے تحت کرناٹک میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

      احمدی نے استدلال کیا کہ ریاستی حکومت کے فروری کے حکم میں قانون میں اتھارٹی کی کمی تھی، انھوں نے مزید کہا کہ ایجوکیشن ایکٹ کے حجاب پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، بلکہ مذہبی اختلافات کو جگہ دی جاسکتی ہے۔ سینئر وکیل نے یہ بھی کہا کہ کئی طالبات پہلے مدارس تک محدود تھیں۔ سیکولر تعلیمی اداروں میں شامل ہونے کے لیے دقیانوسی تصورات کو توڑ کر انھوں نے جدید تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا۔ اب اگر حجاب پر پابندی لگے گی تو یہ لڑکیاں دوبارہ مدرسوں میں واپس آنے پر مجبور ہوں گی۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستان کا وہ کرکٹر جس کے کھیلنے پر پی سی بی نے لگادی پابندی، کیوں کرنا پڑا اتنا سخت فیصلہ؟

      بنچ نے مزید ریاست میں فروری 2022 کے سرکلر میں ہدایات جاری کرنے کے لیے کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ یا ایجوکیشن رولز کی غلط شق کی درخواست کی تھی۔ جس نے سرکاری تعلیمی اداروں میں یونیفارم کو لازمی قرار دیا تھا۔ بنچ نے سینئر وکیل حذیفہ احمدی کو بتایا کہ اگرچہ سرکلر میں ایک غلط سیکشن کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد قانونی حکم اور ایگزیکٹو آرڈر کے درمیان فرق ختم ہو گیا ہے۔ ایک بار جب ان کے پاس کچھ کرنے کا اختیار ہو جاتا ہے، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب کہ حکومت کے پاس اختیارات ہیں۔
      یہ بھی پڑھیں: 

      شاہین باغ بلڈوزر معاملے میں عارفہ خانم ایڈوکیٹ اور امانت اللہ خان کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت

      بنچ نے جواب دیا کہ ایسی کوئی درخواستیں ہائی کورٹ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں اور نہ ہی کوئی مستند ڈیٹا پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ لڑکیاں حجاب پر پابندی کی وجہ سے ڈراپ آؤٹ ہوئی ہیں۔ یہ نکات ہائی کورٹ کے سامنے بالکل نہیں اٹھائے گئے تھے۔ آپ اب ڈراپ آؤٹ کی شرح وغیرہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہائی کورٹ میں آپ نے صرف یہ دلیل دی کہ یہ (حجاب) ایک ضروری مذہبی عمل ہے اور عدالت نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: