ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان، سیاسی پارٹیوں اپنی۔اپنی جیت کا کررہی ہیں دعوی

کرناٹک کے 226 تعلقہ جات کے 5728 دیہی پنچایتوں کے انتخابات کے نتائج منظر عام پر آئے ہیں۔ ان انتخابات میں ریاست کی تین بڑی سیاسی پارٹیاں کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس اپنی اپنی جیت کا دعوٰی کررہی ہیں۔

  • Share this:
کرناٹک: گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان، سیاسی پارٹیوں اپنی۔اپنی جیت کا کررہی ہیں دعوی
کرناٹک کے 226 تعلقہ جات کے 5728 دیہی پنچایتوں کے انتخابات کے نتائج منظر عام پر آئے ہیں۔

کرناٹک کے 226 تعلقہ جات کے 5728 دیہی پنچایتوں کے انتخابات کے نتائج منظر عام پر آئے ہیں۔ ان انتخابات میں ریاست کی تین بڑی سیاسی پارٹیاں کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس اپنی اپنی جیت کا دعوٰی کررہی ہیں۔ دوسری جانب مسلم سیاسی جماعتیں ایس ڈی پی آئی اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی تائید کردہ کئی امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ کرناٹک ریاستی الیکشن کمیشن کے تحت 22 اور 27 دسمبر 2020 کو دو مرحلوں میں گرام پنچایتوں کیلئے انتخابات منعقد کئے گئے تھے۔ 30 دسمبر صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا۔ ان انتخابات میں کل 91339 نشستوں کیلئے تقریبا 2,22,814 امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔

دیہی پنچایتوں کے انتخابات میں راست طور پر سیاسی پارٹیاں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ انتخابات غیر سیاسی ہوتے ہیں لیکن پنچایتوں کی تشکیل میں سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ضرور رہتا ہے۔ آزاد امیدواروں کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کی تائید کردہ امیدوار ان انتخابات میں حصہ لیا کرتے ہیں۔ اسطرح دیہی پنچایتوں کے انتخابات غیر سیاسی رہنے کے باوجود سیاسی رنگ میں ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کانگریس پارٹی کے لیڈر سدارامیا نے کہا کہ دیہاتوں کے ووٹر ہمیشہ کانگریس کے ساتھ رہے ہیں۔ یہ روایت آج بھی جاری ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ سب سے زیادہ کانگریس کی تائید کردہ امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی کسان مخالف پالیسیوں کا اثر پنچایت انتخابات پر دیکھنے کو ملا ہے۔ ووٹروں نے بی جے پی کو سبق سکھایا ہے۔ دوسری جانب گرام پنچایت انتخابات میں بی جے پی اپنی جیت کا دعوٰی کررہی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نلین کمار کٹیل نے کہا کہ دیہاتوں کے ووٹروں نے بی جے پی کی ترقیاتی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔ بی جے پی کی سینئر لیڈر اور اڈپی چکمگلورو کی رکن پارلیمان شوبھا کارندلاجے نے انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زعفران کو مسلسل کامیابی مل رہی ہے۔ چاپلوسی کے بجائے ترقی کی جیت ہورہی ہے۔


علاقائی سیاسی جماعت جے ڈی ایس نے بھی اپنی جیت کا دعوٰی کیا ہے۔ میسور خطہ میں جے ڈی ایس کی تائید کردہ کئی امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔

دیہی پنچایتوں کے انتخابات میں مسلم سیاسی پارٹیوں کی تائید کردہ کئی امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI ) نے کہا کہ دکشن کنڑا، اڈپی، مڈکیری، گلبرگہ، ہاسن، بلاری، شمالی کینرا میں پارٹی کے تائید کردہ 224 امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے کہا کہ 125 سیٹوں پر پارٹی کے تائید کردہ امیدواروں نے الیکشن لڑا تھا ان میں 44 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ کرناٹک ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق کئی نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا جانا باقی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 31, 2020 12:46 PM IST