اپنا ضلع منتخب کریں۔

    18 سال سے کم عمر کی دلہن کی شادی کیا غیر قانونی ہے؟ کرناٹک ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

    18 سال سے کم عمر کی دلہن کی شادی کیا غیر قانونی ہے؟ کرناٹک ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

    18 سال سے کم عمر کی دلہن کی شادی کیا غیر قانونی ہے؟ کرناٹک ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

    Karnataka High Court: کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر دلہن کی عمر 18 سال سے کم ہو تب بھی ہندو میرج ایکٹ کے تحت شادی کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi
    • Share this:
      بنگلورو : کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر دلہن کی عمر 18 سال سے کم ہو تب بھی ہندو میرج ایکٹ کے تحت شادی کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست کی ایک نچلی عدالت نے ایکٹ کے سیکشن 11 کے تحت شادی کو کالعدم قرار دیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے یہ ذکر کیا کہ اس دفعہ میں یہ شرط شامل نہیں ہے کہ دلہن کی عمر 18 سال ہونی چاہئے ۔

      فیملی کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے ہائی کورٹ میں جسٹس ایس وشواجیت شیٹی کی بینچ نے اپنے 12 جنوری کے فیصلے میں کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 11 باطل شادیوں سے متعلق ہے۔

      ایکٹ یہ بندوبست کرتا ہے کہ اس کے نافذ ہونے کے بعد کی گی کوئی بھی شادی منسوخ ہو جائے گی اور عدالت کسی بھی فریق کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے یہ ایکٹ کی دفعہ 5 کے سیکشن 1، 4 اور 5 کی خلاف ورزی کرتا ہو ۔'

      یہ بھی پڑھئے: 26 جنوری پر ممبئی میں ہوائی حملے کا اندیشہ! پولیس نے شیواجی پارک کو نو فلائی زون قرار دیا



       یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے 2019 اور 2021 کے انعامات کا اعلان، جانئے کن کن کو ملا



      ہائی کورٹ نے 8 جنوری 2015 کو نچلی عدالت کی طرف سے دئے گئے حکم کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ نچلی عدالت کا حکم معاملہ کے مذکورہ پہلو کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: