اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پی ایف آئی پر جاری رہے گی پابندی، کرناٹک ہائی کورٹ نے خارج کی مرکز کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضی

    پی ایف آئی پر جاری رہے گی پابندی، کرناٹک ہائی کورٹ نے خارج کی مرکز کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضی

    پی ایف آئی پر جاری رہے گی پابندی، کرناٹک ہائی کورٹ نے خارج کی مرکز کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضی

    Karnataka High Court PFI Ban: کرناٹک ہائی کورٹ نے بدھ کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر مرکزی حکومت کے ذریعہ پابندی لگائے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کردی ہے ۔ یہ عرضی پی ایف آئی کے ریاستی صدر ناصر پاشا نے دائر کی تھی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka | Bangalore
    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے بدھ کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر مرکزی حکومت کے ذریعہ پابندی لگائے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کردی ہے ۔ یہ عرضی پی ایف آئی کے ریاستی صدر ناصر پاشا نے دائر کی تھی ۔ ملک میں تخریبی سرگرمیاں انجام دینے اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعلقات کی وجہ سے انسداد دہشت گردی ایکٹ یو اے پی اے کے تحت پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں پر گزشتہ 28 ستمبر کو پابندی عائد کردی گئی تھی ۔

      پی ایف آئی کی آٹھ ایسوسی ایٹ تنظیموں ریہیب انڈیا فاونڈیشن، کیمپس فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا امام کونسل، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، نیشنل ویمن فرنٹ، جونیئر فرنٹ، امپاور انڈیا فاونڈیشن اور ریہیب فاونڈیشن کیرالہ کے نام بھی یو اے پی اے کے تحت ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں ۔

      یہ بھی پڑھئے: وارانسی: شادی پروگرام کے دوران ڈانس کرتے کرتے ہوگئی موت، ڈاکٹر نے کہا: پوسٹ کووڈ افیکٹ


      یہ بھی پڑھئے: گجرات : امت شاہ نے اے اے پی کو لے کر کیا بڑا دعوی، انتخابی نتائج سے پہلے بتائی من کی بات


      حکام کے مطابق یہ تنظیم ملک کے فرقہ وارانہ اور سیکولر تانے بانے کو 'نقصان پہنچانے' میں ملوث تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تنظیم اپنے بنیاد پرست نظریے کو آگے بڑھا کر اور ہندوستان میں 'اسلامی غلبہ' قائم کرنے کی کال دے کر قومی سلامتی کے لئے 'سنگین خطرہ' پیدا کر رہی تھی ۔

      سال 2006 میں بننے والی یہ تنظیم 2010 سے سیکورٹی ایجنسیوں کے رڈار پر تھی، جب کیرالہ میں ایک پروفیسر کا ہاتھ کاٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس معاملہ میں قصوروار قرار دئے گئے کئی ملزمین تنظیم کے رکن تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: