اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اویسی بولے: مسلمانوں کیلئے اللہ کا حکم ہے کہ وہ سختی سے نماز، حجاب، روزہ وغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں لیکن اب لڑکیوں کو مجبور۔۔۔۔

    Youtube Video

    Karnataka Hijab Case: ٹویٹ میں اویسی نے لکھا کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ سختی سے (نماز، حجاب، روزہ وغیرہ) کی پیروی کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں۔ اب حکومت لڑکیوں کو انتخاب کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اب تک عدلیہ مسجد، داڑھی اور اب حجاب کو غیر ضروری قرار دے چکی ہے۔ مذہب کی آزادی کے لیے کیا رہ گیا ہے؟

    • Share this:
      Karnataka High Court: کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب کیس   (Hijab Row)  پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب اسلام  (Islam) کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ جس کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی  (Asaduddin Owaisi)   نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے اتفاق کرنے سے انکار کردیا۔ اویسی نے کہا کہ وہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔

      اسد الدین اویسی نے کیا کہا؟
      اسد الدین اویسی نے ٹویٹ کیا کہ میں حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔ فیصلے سے اختلاف کرنا میرا حق ہے اور مجھے امید ہے کہ درخواست گزار سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ نہ صرف AIMPLB بلکہ دیگر مذاہب کی تنظیمیں بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔
      یہ بھی پڑھیں: Karnataka Hijab row:کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گی طالبات


      حجاب اور روزے پر سختی سے عمل کرنے کا حکم ہے۔
      ایک اور ٹویٹ میں اویسی نے لکھا کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ سختی سے (نماز، حجاب، روزہ وغیرہ) کی پیروی کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں۔ اب حکومت لڑکیوں کو انتخاب کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اب تک عدلیہ مسجد، داڑھی اور اب حجاب کو غیر ضروری قرار دے چکی ہے۔ مذہب کی آزادی کے لیے کیا رہ گیا ہے؟


      خواتین کو ہراساں کرنا قانونی نہیں بنانا چاہیے۔
      اگلے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ مجھے امید ہے کہ یہ فیصلہ حجاب پہننے والی خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، جب بینکوں، اسپتالوں، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ میں حجاب پہننے والی خواتین کے ساتھ ایسا ہونا شروع ہو جائے  گا تو پھر کوئی امید ہی کر سکتا ہے اور آخر میں  مایوسی ہو سکتا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: