ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: جے ڈی ایس نے کونسل میں دیا بی جے پی کا ساتھ، مسلم تنظیمیں ناراض

کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر نے کہا کہ ایک جانب جے ڈی ایس بی جے پی کا ساتھ دے رہی ہے تو دوسری طرف انسداد گئو کشی بل کی مخالفت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی ایس کا یہ دوہرا معیار سمجھ کے باہر ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے سید شاہد احمد نے کہا کہ جے ڈی ایس سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچانے کا کام انجام دے رہی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک: جے ڈی ایس نے کونسل میں دیا بی جے پی کا ساتھ، مسلم تنظیمیں ناراض
کرناٹک: جے ڈی ایس نے کونسل میں دیا بی جے پی کا ساتھ، مسلم تنظیمیں ناراض

بنگلورو۔ کرناٹک کی قانون ساز کونسل کے ایک روزہ خصوصی اجلاس  میں زبردست ہنگامہ آرائی کا منظر دیکھنے کو ملا۔ ریاست کی  اسمبلی کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ دو سیاسی جماعتوں کے ارکان کے درمیان دھکا مکی، کھینچ تان، تو تو میں میں، چیخ و پکار یہاں تک کہ توڑ پھوڑ کی کوششیں بھی دیکھنے کو ملیں۔حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی نے دو ایجنڈوں کو سامنے رکھتے ہوئے قانون ساز کونسل کا ایک روزہ ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ پہلا ایجنڈا تھا قانون ساز کونسل کے چیرمین پرتاپ چندرا شیٹی، جن کا تعلق کانگریس پارٹی سے، کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا۔ دوسرا ایجنڈا تھا گئو کشی پر پابندی کے متنازعہ بل کو منظوری حاصل کر لینا۔


واضح رہے کہ گئو کشی پر پابندی کا بل چند دنوں قبل ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں منظور ہوچکا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے بی جے پی نے جے ڈی ایس کا ساتھ لیا ہے۔ کیونکہ 75 رکنی قانون ساز کونسل میں بی جے پی کے پاس 31 ارکان، کانگریس کے پاس  28 اور جے ڈی ایس کے پاس 14 ارکان اور ایک آزاد رکن موجود ہیں۔ قانون ساز کونسل کے چیرمین کو ہٹانے کیلئے بی جے پی کو جے ڈی ایس کا ساتھ ضروری تھا۔ لہذا بی جے پی اور جے ڈی ایس نے مل کر کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے پرتاپ چندرا شیٹی کو چیرمین کے عہدے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کے بعد گئو کشی پر پابندی کے متنازعہ بل کو منظوری حاصل کرنے کا بی جے پی نے اعلان کیا تھا۔ حالانکہ جے ڈی ایس نے واضح کردیا تھا کہ وہ انسداد گئو کشی بل کی تائید نہیں کریگی۔


کرناٹک کی قانون ساز کونسل کے ایک روزہ خصوصی اجلاس میں زبردست ہنگامہ آرائی کا منظر دیکھنے کو ملا


بہرحال جب ان دو ایجنڈوں کے ساتھ جوں ہی قانون ساز کونسل کی کارروائی شروع ہوئی، کونسل کے نائب چیرمین دھرمے گوڈا جن کا تعلق جے ڈی ایس سے ہے فوری طور پر چیرمین کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ بی جے پی کا کہنا تھا کہ جب چیرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو تو ایوان کی کارروائی نائب چیرمین کو سنبھالنا چاہئے۔  اس دوران کانگریس کے ارکان نے نائب چیرمین دھرمے گوڈا کو گھیر لیا۔ دوسری جانب بی جے پی کے ارکان نے چیرمین پرتاپ چندرا شیٹی کو ایوان میں داخل ہونے سے روکنے کی پرزور کوشش کی۔ اس کے باوجود پرتاپ چندرا شیٹی کونسل کے ایوان میں داخل ہوئے۔ دوسری جانب کانگریس کے ارکان نے مل کر چیرمین کی کرسی پر بیٹھے نائب چیرمین کو زبردستی نیچھے گھسیٹا اور جوں توں کرکے پرتاپ چندرا اپنی کرسی پر جا بیٹھے۔

پرتاپ چندرا نے اس زبردست ہنگامہ آرائی کے درمیان قانون ساز کونسل کی کارروائی کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے ارکان زبردست احتجاج  اور نعرے بازی پر اتر آئے۔ کانگریس کے ارکان بھی ایوان میں ڈٹے رہے۔ یہ پورا ہنگامہ مانو ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ قانون ساز کونسل میں ہوئی اس ہنگامہ آرائی کی ہر جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طرح کا ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ عوام میں سیاسی بیداری کیلئے کام کرنے والے کرناٹک مسلم متحدہ محاذ اور آل انڈیا ملی کونسل نے اس واقعہ کے پرزور طریقہ سے مذمت کی ہے۔

کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر نے کہا کہ قانون ساز کونسل کو ایوان بالا کا درجہ حاصل ہے۔ اس ایوان کو دانشوروں کا گھر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج یہاں جو کچھ بھی ہوا یہ بے حد شرمندگی کی بات ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے جنرل سیکرٹری سید شاہد احمد نے کہا کہ اس واقعہ سے اسمبلی کے وقار کو ٹھیس پہونچی ہے۔ اس پورے معاملے میں جے ڈی ایس کے رویہ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم تنظیموں نے جے ڈی ایس کے تئیں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر نے کہا کہ ایک جانب جے ڈی ایس بی جے پی کا ساتھ دے رہی ہے تو دوسری طرف انسداد گئو کشی بل کی مخالفت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی ایس کا یہ دوہرا معیار سمجھ کے باہر ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے سید شاہد احمد نے کہا کہ جے ڈی ایس سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچانے کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں جب گئو کشی پر پابندی کا متنازعہ بل پیش ہوا تو جے ڈی ایس نے اس بل کی  مخالفت نہیں کی۔ اب قانون ساز کونسل میں بی جے پی کا ساتھ دینا اور انسداد گئو کشی بل کی مخالفت کی بات کرنا، جے ڈی ایس کا دوہرا معیار ہے۔ سید شاہد احمد نے کہا کہ کیا جے ڈی ایس اقلیتوں کو گمراہ کررہی ہے؟

سینئر صحافی صدیق آلدوری نے کہا کہ جے ڈی ایس ہمیشہ دو گھوڑوں پر سواری کرنے کا کام انجام دیتی ہوئی آرہی ہے۔ کبھی یہ پارٹی کانگریس کے ساتھ نظر آتی ہے تو کبھی بی جے پی کے ساتھ ۔ انہوں نے کہا کہ جنتا دل سیکولر پارٹی نظریات پر نہیں موقع اور مفاد کو دیکھ کر کام کرنے والی پارٹی بن چکی ہے جو افسوس کی بات ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 15, 2020 10:53 PM IST