உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منگلورو میں کلاس کے اندر Hijab پہننے پر 6 طالبات معطل، صحافیوں کو پکڑ کر ڈلیٹ کرائیں ویڈیو

    Youtube Video

    karnataka Hijab Controversy: ۔ کلاس کے دوران حجاب پہننے پر 6 طالبات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ طالبات کو کلاس میں حجاب نہ پہننے کی تنبیہ کی گئی جسے وہ مسلسل نظر انداز کر رہی تھیں۔

    • Share this:
      karnataka Hijab Controversy: کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع کے منگلورو کے ایک سرکاری کالج میں حجاب کا تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔ کلاس کے دوران حجاب پہننے پر 6 طالبات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ طالبات کو کلاس میں حجاب نہ پہننے کی تنبیہ کی گئی جسے وہ مسلسل نظر انداز کر رہی تھیں۔ اس کے بعد پرنسپل شیکھر ایم ڈی، گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج، اپینا گڑی نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 6 طالبات کو معطل کر دیا۔ جب کچھ طالبات کا ایک گروپ حجاب پہن کر آنے کی مخالفت میں کالج میں بھگوا شالیں پہن کر کلاس میں آنا شروع کیا تو کالج انتظامیہ نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

      ٹی وی چینلز کے دو صحافی حجاب تنازعہ کی رپورٹنگ کرنے کالج پہنچے تو انہیں حجاب کی حامی طالبات نے پکڑ لیا۔ یہی نہیں ان کے موبائل فون سے ویڈیو کلپنگ بھی مٹا دی گئیں۔ کنڑ نیوز چینلز میں کام کرنے والے اجیت کمار اور پروین کمار نے شکایت درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق 20 کے قریب طلباء نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اسے ایک کلاس روم میں دھکیل دیا گیا اور وہاں قید کر دیا گیا۔ طلباء نے انہیں اپنے فون سے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے بعد ہی چھوڑ دیا۔

      طالبات کے گروپ نے دو اور صحافیوں کو کالج کے ااندر گھسنے تک نہیں دیا۔ اپیناگیڈی پولیس نے کالج کے 25 طالبات کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 143 (غیرقانونی تقریب)، 323 (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا)، 342 (غلط طریقے سے قید کرنا)، 506 (مجرمانہ دھمکی) اور 149 (ایک مقصد کو لے کر غیر قانونی تقریب) کے تحت معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔

      UP Ground Breaking Ceremony میں وزیر اعظم نریندر کی بڑی باتیں، جانئے یہاں




      منگلورو کے ہمپنکٹا یونیورسٹی کالج کی کچھ طالبات حجاب کے مسئلے کو لیکر مسلسل کلاس میں نہیں آ رہی ہیں۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر انوسویہ رائے کا کہنا ہے کہ کالج نے فیصلہ کیا ہے کہ جو طالبات کلاس میں نہیں آرہی ہیں، انہیں نوٹس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جب 11 طالبات کو حجاب پہن کر کلاس میں نہیں بیٹھنے دیا گیا تو وہ لائبریری میں بیٹھ گئیں اور پھر گھر واپس لوٹ گئیں۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: