ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک : حج و عمرہ کے تربیتی پروگراموں کی بنیاد رکھنے والے مشہور عالم دین مولانا لطف اللہ رشادی اب نہیں رہے

بنگلورو میں واقع جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے احاطہ میں ان کی نماز جنازہ اور تدفین عمل میں آئی ۔ ظہر کی نماز کے بعد کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔

  • Share this:
کرناٹک : حج و عمرہ کے تربیتی پروگراموں کی بنیاد رکھنے والے مشہور عالم دین مولانا لطف اللہ رشادی اب نہیں رہے
کرناٹک : حج و عمرہ کے تربیتی پروگراموں کی بنیاد رکھنے والے مشہور عالم دین مولانا لطف اللہ رشادی اب نہیں رہے

شہریان بنگلورو نے اپنے چہیتے عالم دین ، مسجد قادریہ کے خطیب و امام مولانا محمد لطف اللہ رشادی کو آج نم آنکھوں سے الوداع کہا ۔ بنگلورو میں واقع جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے احاطہ میں ان کی نماز جنازہ اور تدفین عمل میں آئی ۔ ظہر کی نماز کے بعد کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ کورونا کی وبا کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے دارالعلوم سبیل الرشاد پہنچ کر ان کا آخری دیدار کیا اور نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ اس موقع پر سنیٹائزر اور دیگر احتیاطی انتظامات کئے گئے تھے۔ تمام لوگ ماسک پہن کر اور قطار میں کھڑے ہوکر ایک کے بعد ایک مولانا کا آخری دیدار کیا ۔ مختصر سی علالت کے بعد 26 جون 2020 بروز جمعہ رات تقریبا 9:30 بجے شہر کے نجی اسپتال میں مولانا لطف اللہ رشادی نے آخری سانس لی ۔


70 سالہ مولانا محمد لطف اللہ رشادی آخری دم تک منصب امامت و خطابت پر فائز رہے ۔ وہ  تقریبا 22 سال تک بنگلورو کی ایک بڑی مسجد ، مسجد قادریہ کے خطیب و امام رہے ۔ لاک ڈاؤن کے بعد جب دوبارہ مسجدوں کے دروازے عوام کیلئے کھلے ، تو انہوں نے اسی ماہ یعنی  12 جون 2020 کو مسجد قادریہ میں جمعہ کی نماز کا خطبہ دیا اور امامت بھی کی ۔ اس طرح آخری سانس تک ان کی دینی ، علمی اور اصلاحی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ جمعہ کا موقع ہو یا رمضان کی طاق راتیں ہوں یا پھر کوئی اور موقع ، ان کے خطبوں اور تقریروں سے ہزاروں لوگ استفادہ کرتے رہے ہیں۔ اردو اور بنگلورو کی دکنی زبان میں بڑے ہی موثر طریقہ سے وہ دینی تعلیمات کو عوام کے سامنے رکھتے تھے ۔


منصب امامت و خطابت پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے عازمین حج اور عمرہ کی تربیت اور رہنمائی کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیا ۔  نہ صرف بنگلورو بلکہ کرناٹک کے مختلف شہروں میں ہونے والے حج تربیتی پروگراموں میں وہ شرکت کرتے تھے اور عازمین کی رہنمائی کرتے تھے  ۔ریاست میں انہوں نے حج تربیتی پروگراموں کی باقاعدہ بنیاد رکھی ۔ حج اور عمرہ کے عازمین کی تربیت کے کام کو ایک منظم شکل دی ۔ انہوں نے فورم فار انڈین حج پلگرمز کی بنیاد رکھی ۔


بنگلورو میں واقع جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے احاطہ میں ان کی نماز جنازہ اور تدفین عمل میں آئی ۔
بنگلورو میں واقع جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے احاطہ میں ان کی نماز جنازہ اور تدفین عمل میں آئی ۔


فورم سے وابستہ سابق کے اے ایس افسر اور مشہور حج ٹرینر سید اعجاز احمد نے کہا کہ 19 سالوں میں اس فورم نے 100 سے زائد حج تربیتی پروگرام منعقد کئے ہیں ۔ نہ صرف کرناٹک بلکہ ملک کی چند دیگر ریاستوں بشمول جموں و کشمیر میں فورم کے تربیتی پروگرام ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد لطف اللہ  کی صدارت میں فورم نے تربیتی پروگراموں کے ذریعہ لاکھوں عازمین حج و عمرہ کی تربیت اور رہنمائی کا کام انجام دیا ہے ۔

مولانا محمد لطف اللہ رشادی کی رحلت پر کرناٹک کے سابق وزیر برائے حج آر روشن بیگ ، سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان ، نصیر احمد ، سابق مرکزی وزرا کے رحمن خان ، سی ایم ابراہیم ، راجیہ سبھا کے موجودہ رکن ڈاکٹر ناصر حسین اور دیگر سیاسی لیڈروں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ کے ارکان نے بھی گہرے دکھ اور درد کا اظہار کیا ہے ۔ کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا کہ مولانا لطف اللہ رشادی کا انتقال ملک اور ملت کیلئے ایک بڑا  صدمہ اور شدید نقصان ہے ۔ انہوں نے اپنے خطبوں کے ذریعہ ہمیشہ نوجوانوں کی اصلاح کی اور انہیں دین کی جانب راغب کیا ۔

مولانا محمد لطف اللہ رشادی دارالعلوم سبیل الرشاد کے بانی و مہتمم ، کرناٹک کے پہلے امیر شریعت مولانا ابوالسعود احمد رحمت اللہ علیہ کے چوتھے اور آخری فرزند تھے ۔ دارالعلوم سبیل الرشاد سے فراغت کے بعد میسور میں دارالعلوم صدیقیہ میں استاد اور منڈیا میں جامعہ فخرالعلوم کے مہتمم رہے۔ بنگلورو کی مسجد لبابین کے بھی امام و خطیب رہے۔
First published: Jun 27, 2020 10:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading