ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

توہین رسالت کے معاملات اور مسلمانوں کا ردعمل کے موضوع پر بنگلورو میں اہم اجلاس

فرانس میں گستاخانہ کارٹون کی نمائش کے بعد پوری دنیا میں پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر یہ اہم اجلاس منعقد کیا گیا ۔ نہ صرف فرانس بلکہ کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں بھی سوشل میڈیا میں گستاخانہ کارٹون کے خلاف مسلم نوجوانوں کے ردعمل کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ۔

  • Share this:
توہین رسالت کے معاملات اور مسلمانوں کا ردعمل کے موضوع پر بنگلورو میں اہم اجلاس
توہین رسالت کے معاملات اور مسلمانوں کا ردعمل کے موضوع پر بنگلورو میں اہم اجلاس

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کے واقعات اور مسلمانوں کا رد عمل اس اہم موضوع پر بنگلورو کی مسجد ام الحسنین میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ۔ فیڈریشن آف مساجد بنگلورو ایسٹ اور امام اعظم فقہ اکیڈمی کے تحت ہوئے اجلاس میں علما کرام اور مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔ فرانس میں گستاخانہ کارٹون کی نمائش کے بعد پوری دنیا میں پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر یہ اہم اجلاس منعقد کیا گیا ۔ نہ صرف فرانس بلکہ کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں بھی سوشل میڈیا میں گستاخانہ کارٹون کے خلاف مسلم نوجوانوں کے ردعمل کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ۔


واضح رہے کہ بنگلورو میں 11 اگست 2020 کو پیغمبر اسلام  کی شان میں گستاخی کے معاملے میں زبردست تشدد بھڑک اٹھا تھا ۔ اس تشدد پر قابو پانے کیلئے کی گئی پولیس فائرنگ میں 4 مسلم نوجوان ہلاک ہوئے تھے ۔ تشدد کے واقعہ کے بعد 400 سے زائد مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوئیں ہیں اور آج بھی یہ نوجوان جیلوں میں قید ہیں ۔ اجلاس کے  منتظم اور معروف عالم دین مولانا شبیر احمد ندوی نے کہا کہ توہین رسالت کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارموں کے ذریعہ مذہبی رہنماؤں کی توہین کرنا اور فرقہ پرست طاقتوں کا ایجنڈا بن چکا ہے ۔ لہذا اس طرح کے واقعات بار بار پیش آرہے ہیں ۔ مولانا شبیر احمد ندوی نے کہا کہ ان معاملات میں مسلمان حکمت کے ساتھ کام کریں۔ نہ خاموش بیٹھیں اور نہ ہی مشتعل ہو کر سڑکوں پر اتر آئیں ۔ بلکہ شرعی حدود اور ملک کے قانون کے حدود میں رہ کر اس طرح کے واقعات کی مذمت کریں ۔


اجلاس کے آخر میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کا پروگرام ترتیب دیا گیا ۔
اجلاس کے آخر میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کا پروگرام ترتیب دیا گیا ۔


اجلاس میں یہ بات کہی گئی کہ توہین رسالت کے واقعات کی آڑ میں مسلمانوں کو بھڑکانے ، مسلمانوں کو اکسانے ، مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوششیں ہورہی ہے ۔ اسلام دشمن عناصر بد ظنی پھیلا کر مواقع کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں کا ردعمل کس طرح کا ہونا چاہئے ، خاص طور پر مسلم نوجوان کس طرح اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں ، ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کی حفاظت کیلئے کیا کیا قدم اٹھائے جائیں  ، ان تمام پہلوؤں پر اجلاس میں غور و خوض کیا گیا ۔ آپس میں تبادلہ خیال کے بعد کئی اہم تجاویز اجلاس میں پیش کی گئیں ۔ اجلاس کے آخر میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کا پروگرام ترتیب دیا گیا ۔ امام اعظم فقہ اکیڈمی کے سرپرست مفتی شفیق احمد قاسمی نے اجلاس میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم پروگرام کے نکات پڑھ کر سنائے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

مسجد وار واٹس ایپ گروپ بنایا جائے۔

جمعہ کے خطبہ میں اخیر دس منٹ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم پر بات عوام کے سامنے پیش کی جائے۔

ہر مسجد میں نوجوان کیلئے خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں جس میں توہین رسالت کے واقعات کے بعد مثبت طریقے سے جواب دینے اور جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے، مشورے سے کام کرنے کی ذہن سازی کی جائے۔

برادران وطن سے خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کی مسلمانوں کو ترغیب دی جائے۔

برادران وطن کو اپنی خوشی اور انکے غم میں (شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ) انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شریک کیا جائے۔

برادران وطن کو سیرت پاک صلی اللہ علیہ و سلم پروگرام کے تحت مسجد کے صحن میں یا محلہ کی مناسب جگہ پر بلایا جائے اور انکی زبان میں بات پیش کی جائے۔

اسلامی تعلیمات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق و کردار پر کتابچے اور رسائل برادران وطن میں بطور تحفہ پیش کئے جائیں۔

برادران وطن میں اسلامی کتابوں کی تقسیم کیلئے مسجدوں کے باہر ہفتہ میں ایک بار کاونٹر لگائے جائیں۔

فرانس میں گستاخانہ کارٹون کی نمائش کے بعد پوری دنیا میں پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر یہ اہم اجلاس منعقد کیا گیا ۔
فرانس میں گستاخانہ کارٹون کی نمائش کے بعد پوری دنیا میں پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر یہ اہم اجلاس منعقد کیا گیا ۔


مولانا شبیر احمد ندوی نے کہا کہ اس طرح کی مہم شروع کرنے سے قبل مسلمان آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا مطالعہ کریں اور آپ کی تعلیمات کو بخوبی سمجھیں ۔ فیڈریشن آف مساجد (ایسٹ) کے صدر ضیاء اللہ خان نے کہا کہ پورے بنگلورو کے  مختلف علاقوں میں 16 مساجد فیڈریشن قائم ہیں ۔ ان فیڈریشن کے تحت 700 مساجد آتی ہیں ۔ یہ تمام فیڈریشن آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب جو نیا پروگرام مرتب کیا گیا ہے، اسے فیڈریشنز آف مساجد کے ذریعہ پورے شہر میں نافذ کیا جائے گا ۔ مسجد ام الحسنین کے سکریٹری محمد ابراہیم شفیق نے کہا کہ بنگلورو کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی کے تشدد کے واقعہ کے بعد پورے مسلمانوں میں تشویش ہے ۔ اس ایک واقعہ کی آڑ میں 400 سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ آئندہ اس طرح کے معاملات پیش نہ آئیں اس لئے یہ اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

بنگلورو کے معروف عالم دین مفتی محمد اسلم رشادی نے کہا کہ اس طرح کا پروگرام مذہب اسلام کے تئیں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ میں مدد گار ثابت ہوگا ۔ وظیفہ یاب آئی اے ایس افسر ثناء اللہ نے کہا کہ مساجد کی کمیٹیاں اپنے اپنے علاقوں میں کنڑ اور انگریزی زبانوں میں  اسلام کی بنیادی معلومات کا لٹریچر تقسیم کریں ۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پروگرام منعقد کریں ۔ اس مہم کیلئے اگر ضرورت پڑے تو جمعہ کے دن اپنی اپنی مسجدوں میں خصوصی طور پر چندہ اکٹھا کریں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 08, 2020 11:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading