உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Umesh Katti dies: کرناٹک کے وزیر امیش کٹی کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال، ’کرناٹک میں بی جے پی کا بڑا نقصان‘

    ریونیو منسٹر آر اشوکا نے کہا کہ ’’یہ بی جے پی، بیلگاوی اور کرناٹک کے لیے بڑا نقصان ہے‘‘۔

    ریونیو منسٹر آر اشوکا نے کہا کہ ’’یہ بی جے پی، بیلگاوی اور کرناٹک کے لیے بڑا نقصان ہے‘‘۔

    Umesh Katti dies: چیف منسٹر بسواراج بومائی نے ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ ’’ریاست نے ایک تجربہ کار سیاست دان کو کھو دیا ہے جو ایک سرگرم رہنما اور عوام کے خادم تھے‘‘۔ وہیں ریونیو منسٹر آر اشوکا نے کہا کہ ’’یہ بی جے پی، بیلگاوی اور کرناٹک کے لیے بڑا نقصان ہے‘‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      کرناٹک کے وزیر برائے جنگلات، خوراک اور شہری سپلائی امیش کٹی (Umesh Katti) کا منگل کی رات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے۔ 61 سالہ کٹی کو بنگلورو میں ان کی رہائش گاہ ڈالرز کالونی سے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ بیلگاوی کے ہکیری تعلقہ کے بیلڈباگے واڑی میں پیدا ہوئے کٹی 1985 میں اپنے والد وشواناتھ کٹی (Vishwanath Katti) کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاست میں آنے کے بعد ہکیری حلقہ کی نمائندگی کرنے والے آٹھ بار ایم ایل اے تھے۔

      ماضی میں کٹی نے جے ایچ پٹیل، بی ایس یدیورپا، ڈی وی سدانند گوڑا اور جگدیش شیٹر کی قیادت والی کابینہ میں بطور وزیر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے وزارت اعلیٰ کے عزائم کا اظہار کیا تھا۔ کٹی کے انتقال کے ساتھ بی جے پی نے بیلگاوی میں ایک بڑے لیڈر کو کھو دیا ہے، جو کہ کرناٹک کا سیاسی طور پر سب سے اہم ضلع ہے۔

      چیف منسٹر بسواراج بومائی نے ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ ’’ریاست نے ایک تجربہ کار سیاست دان کو کھو دیا ہے جو ایک سرگرم رہنما اور عوام کے خادم تھے‘‘۔ سال 2008 میں بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے کٹی جنتا پارٹی، جندا دل، جے ڈی (یو) اور جے ڈی (ایس) کے ساتھ وابستہ تھے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Congress لیڈران پر حملہ اور فاروق عبداللہ کی تعریف... آخر چاہتے کیا ہیں غلام نبی آزاد؟

      یہ بھی پڑھیں۔
       Ghulam Nabi Azad نے آخر کیوں 50 سال بعد کانگریس اور راہل گاندھی سے حاصل کی آزادی


      ریونیو منسٹر آر اشوکا نے کہا کہ ’’یہ بی جے پی، بیلگاوی اور کرناٹک کے لیے بڑا نقصان ہے‘‘۔ کٹی کے پسماندگان میں بیوی شیلا، بیٹا نکھل اور بیٹی سنیہا شامل ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: