ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو : برادران وطن کے تعلیمی ادارے میں ایک مسلم خاتون اعلی عہدے پر فائز

نجیب النساء نے اپنی صلاحیتوں سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ مسلمان صرف مسلم تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ برادران وطن کے اداروں میں بھی اعلی سے اعلی مقام پر فائز ہوسکتے ہیں ۔

  • Share this:
بنگلورو : برادران وطن کے تعلیمی ادارے میں ایک مسلم خاتون اعلی عہدے پر فائز
بی ای ایس کالج آف لاء کے پرنسپل کے عہدے پر ڈاکٹر نجیب النساء گزشتہ 7 سال سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

مسلم خواتین تعلیم کے شعبہ میں اعلی سے اعلی مقام پر فائز ہوسکتی ہیں ۔ بنگلورو کی ڈاکٹر نجیب النساء اس کی ایک عمدہ مثال ہیں ۔ آپ گزشتہ 16 سالوں سے قانون کے شعبہ میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ بھارت ایجوکیشن سوسائٹی بنگلورو کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے ۔ اس ادارہ کے تحت قائم بی ای ایس کالج آف لاء کے پرنسپل کے عہدے پر ڈاکٹر نجیب النساء گزشتہ 7 سال سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ نجیب النساء نے اپنی صلاحیتوں سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ مسلمان صرف مسلم تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ برادران وطن کے اداروں میں بھی اعلی سے اعلی مقام پر فائز ہوسکتے ہیں ۔ نجیب النساء نے کہا کہ پرنسپل کے عہدے کیلئے کئی امیدوار تھے لیکن کالج کی انتظامیہ نے ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب قابلیت کی بات آتی ہے تو کوئی آپ کے مذہب اور ذات پات کو نہیں دیکھتا۔


نجیب النساء نے اپنی تدریسی ذمہ داری کو انجام دیتے ہوئے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم حاصل کی ۔ 20 نومبر 2020 کو  گلبرگہ یونیورسٹی نے انہیں قانون ماحولیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔ نجیب النساء نے ایل ایل بی کی تعلیم بنگلورو کے وی وی پورم کالج میں مکمل کی۔ اس کے بعد سٹی سول کورٹ، کنزیومر کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی وکالت کرتے ہوئے شیومگہ کے کویمپو یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد سال 2014 سے تدریسی پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔ نجیب النساء کی رہنمائی میں ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کرنے والے پانچ طلبہ جج کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں اور کئی طلبہ ہائی کورٹ میں وکالت کررہے ہیں ۔


نجیب النساء نے کہا کہ انہیں بچپن سے ہی وکیل بننے کا شوق تھا ۔ والدین نے ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں کی۔ گھر والوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ شادی کے بعد بھی انہوں نے تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا۔ شوہر کا بھی بھرپور تعاون رہا۔  نجیب النساء نے کہا کہ وہ ایک بیٹی کی ماں ہوتے ہوئے گھریلو ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان اور معاشرے کی ترقی کیلئے خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔  ڈاکٹر نجیب النساء نے کہا کہ خواتین شادی کے بعد بھی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھیں۔ اس سے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔ خواتین ملازمت کریں یا نہ کریں یہ ان کا اختیار ہے لیکن ایک خاتون کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔


نجیب النساء نے کہا مذہب اسلام نے سب سے زیادہ اہمیت  تعلیم کو دی ہے۔ تعلیم کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی  تفریق نہیں کی ہے۔ نجیب النساء کہتی ہیں کہ قانون کی کم سے کم جانکاری رکھنا ہر شخص کیلئے ضروری ہے۔ اس سے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 03, 2021 11:02 AM IST