ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ملک کا آئین خطرے میں ہے ، قومی یوم حقوق اقلیت کے موقع پر اظہار خیال

عیسائی مذہب کے رہنما فادر فرانس ڈیسوزا نے کہا کہ ملک کا آئین ہماری طاقت ہے۔ ہر ایک کو اس مقدس آئین کا دیباچہ ہر دن پڑھنا چاہئے۔ تاکہ اس کی اہمیت کو ہم سمجھ سکیں۔

  • Share this:
ملک کا آئین خطرے میں ہے ، قومی یوم حقوق اقلیت کے موقع پر اظہار خیال
ملک کا آئین خطرے میں ہے ، قومی یوم حقوق اقلیت کے موقع پر اظہار خیال

18 دسمبر کو نیشنل مائنارٹی رائٹس ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بنگلورو میں آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے تحت شہر کے اسلم پیلیس میں تقریب منعقد ہوئی۔ قومی یوم حقوق اقلیت کے اس جشن میں مختلف اقلیتی طبقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مسلم، جین، سکھ، عیسائی طبقوں کے رہنماؤں نے اجلاس سے خطاب کیا۔ موجودہ سیاسی، سماجی، معاشی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اجلاس میں یہ بات پرزور طریقہ سے کہی گئی کہ ملک کا دستور ان دنوں خطرے میں ہے۔ دستور کو بدلنے، ایک خاص نظریہ کے مطابق لانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔  مقررین نے کہا کہ ملک کا دستور اقلیتوں کی مذہبی آزادی، سماجی، تعلیمی، معاشی ترقی کا ضامن ہے۔ اقلیتوں کی مکمل حفاظت، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ لیکن چند طاقتیں اس دستور کو بدلنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ لہذا ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی اشد ضرورت ہے۔


عیسائی مذہب کے رہنما فادر فرانس ڈیسوزا نے کہا کہ ملک کا آئین ہماری طاقت ہے۔ ہر ایک کو اس مقدس آئین کا دیباچہ ہر دن پڑھنا چاہئے۔ تاکہ اس کی اہمیت کو ہم سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا  ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ایک بہترین کتاب ملک کے تمام باشندوں کیلئے دی ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے آئین کی اس عظیم کتاب میں تبدیلیاں لانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ عیسائی مذہب کے رہنما نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت کے کئی وزراء نے یہ بات کھلے طور پر کہی ہے کہ وہ دستور کو بدلنے کیلئے آئے ہیں جو افسوس ناک اور تشویش ناک بات ہے۔


سکھ مذہب کے رہنما ہرمن سنگھ نے کہا کہ ملک کا آئین سیکولرازم کا زبردست حامی ہے۔ لیکن ملک میں انتظامیہ کی جانب سے سیکولرازم کو نافذ نہیں کیا جارہا ہے۔ ملک میں گزشتہ 70 سالوں سبھی مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ آگے بھی سبھی مذاہب کے لوگ اپنے حقوق کے ساتھ کیوں مل جل کر نہیں رہ سکتے؟ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے آپس میں متحد رہنا ضروری ہے۔


مسلم، جین، سکھ، عیسائی طبقوں کے رہنماؤں نے اجلاس سے خطاب کیا۔
مسلم، جین، سکھ، عیسائی طبقوں کے رہنماؤں نے اجلاس سے خطاب کیا۔


جین مذہب کے نمائندے اور کرناٹک اقلیتی کمیشن کے سابق رکن مہیندر جین نے حال ہی میں کرناٹک اسمبلی میں منظور کئے گئے انسداد گئو کشی بل پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک جین ہیں لیکن جس طریقے سے اس بل کو منظور کرنے کی کوشش کی گئی وہ جمہوری نظام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تحت کئی اسکیمیں موجود ہیں۔ لیکن اقلیتوں میں کچھ خامیاں ہیں جس کی وجہ سے سرکاری اسکیموں حاصل کرنے میں ناکامی ہورہی ہے یا ان اسکیموں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا ہے۔

آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے  صدر مفتی سید باقر ارشد قاسمی نے کہا کہ تمام اقلیتوں کو متحد ہوکر اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب نے مل کر ملک کی آزادی کیلئے تحریک چلائی تھی۔ سبھوں کی کوشش سے ملک آزاد ہوا۔ اس وقت ایک ایسی سوچ بھی تھی جو ملک کو ایک نظریہ پر قائم رکھنا چاہتی تھی۔ مولانا سید باقر ارشد نے کہا کہ ایسی سوچ کے لوگ 70 سال کے بعد اقتدار میں آئے ہیں۔ ایک نظریہ کی جانب ملک کو لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ طاقتیں اقتدار کے ذریعہ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کررہی ہیں جو دستور ہند کے خلاف ہے۔

بزرگ عالم دین مولانا عبدالغفور باقوی کی سرپرستی میں یہ اجلاس منعقد ہوا۔ ایڈوکیٹ اروند نارائن، علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ فواد شاہین، کولکاتہ کے شارب علی نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور اقلیتوں کے مسائل، حقوق اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی ۔ مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے مل کر سی اے اے، این آر سی،  تبدیلی مذہب پر پابندی کی کوششوں، انسداد گئو کشی کے متنازع بل، لوجہاد اور دیگر متنازع فیصلوں کی مذمت اور مخالفت کی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 18, 2020 11:38 PM IST