ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک : ملک کی عظیم شخصیت دیوان سر مرزا اسمعیل کے متعلق اہم انکشاف

سر مرزا اسمعیل کے یوم پیدائش کی مناسبت سے 24 اکتوبر 2020، بروز سنیچر کی شام، میسور کے نجی ہوٹل میں یہ یادگار تقریب منعقد ہوئی ۔

  • Share this:
کرناٹک : ملک کی عظیم شخصیت دیوان سر مرزا اسمعیل کے متعلق اہم انکشاف
کرناٹک : ملک کی عظیم شخصیت دیوان سر مرزا اسمعیل کے متعلق اہم انکشاف

ریاست کرناٹک کے تاریخی شہر میسور میں انجمن حدیقتہ الادب کے تحت ملک کی عظیم شخصیت دیوان سر مرزا اسمعیل پر ویبینار منعقد ہوا ۔ سر مرزا اسمعیل کے یوم پیدائش کی مناسبت سے  24 اکتوبر 2020، بروز سنیچر کی شام، میسور کے نجی ہوٹل میں یہ یادگار تقریب منعقد ہوئی ۔ اس ویبینار کا عنوان تھا "سر مرزا اسمعیل کا پوشیدہ پہلو"۔ اس موقع پر انگریزی کے معروف صحافی، محقق این نرنجن نکم نے اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ نرنجن نکم روزنامہ ڈکن ہیرالڈ کے چیف آف بیورو رہے ہیں ۔ اپنے خطاب میں نرنجن نکم نے سر مرزا اسمعیل کی شخصیت کے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے ۔ نرنجن نکم نے کہا کہ 15 سال تک میسور کے دیوان رہے سر مرزا اسمعیل نے اپنی خدمات اور بیش بہا کارناموں کی وجہ سے عوام کے دل میں جگہ بنائی تھی ۔ آپ کے چاہنے والوں میں ہندو، مسلمان عیسائی سبھی مذاہب کے لوگ شامل تھے ۔ انتظامی امور کے ماہر سر مرزا اسمعیل ایک عظیم سیکولر حکمراں تھے۔ نرنجن نکم نے کہا کہ سر مرزا اسمعیل پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آپ نے اپنی سوانح حیات My Public Life میں  سب سے زیادہ توجہ بحیثیت دیوان اپنے کام کاج، انتظامی سرگرمیوں پر دی ہے۔


نرنجن نکم  نے کہا کہ انہوں نے مختلف کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد سر مرزا اسمعیل کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان کے اہل خانہ سے گفتگو کی۔ اس دوران سر مرزا اسمعیل کے متعلق ایک ایسی حقیقت کا انہیں پتہ چلا جو کسی بھی کتاب میں درج نہیں ہے ۔نرنجن نکم نے کہا کہ 1959 میں جب سرمرزا اسمعیل کا انتقال ہوا تو پوری ریاست میں رنج و الم کا ماحول تھا۔ کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا عیسائی سبھی غمگین تھے۔ انکے آخری دیدار کیلئے دور دراز سے لوگ بنگلورو پہنچنے لگے۔ جب ان کی تدفین عمل میں آئی، اس کے بعد بھی لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا ۔ تدفین کے بعد ایک بڑا ہجوم اکھٹا ہوا۔ سرمرزا اسمعیل کے آخری دیدار سے محروم لوگوں کی آہ و بکا کو دیکھتے ہوئے سرمرزا اسمعیل کی لاش دوبارہ قبر کے باہر نکالی گئی ۔ ایک بار پھر ان کا آخری دیدار کروایا گیا۔ اور اس کے بعد دوبارہ تدفین عمل میں آئی۔ نرنجن نکم نے کہا کہ سرمرزا اسمعیل کے نواسے اکبر خلیلی نے انہیں اس حقیقت سے واقف کروایا جو اب تک عوام سے مخفی تھی اور کسی محقق نے اسے منظر عام پر نہیں لایا ہے۔


ویبینار میں موجود میسور کے نامور صحافی ڈاکٹر کے جاوید نعیم نے کہا کہ اس ایک واقعہ سے دیوان سر مرزا اسمعیل کی عوام میں مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جاوید نعیم نے کہا کہ نرنجن نکم کی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔ ایک سیکولر اور کشادہ ذہن رکھنے والے صحافی نرنجن نے سرمرزا اسمعیل کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے موجودہ دور میں اس عظیم  تاریخی شخصیت کی معنویت سے عوام کو واقف کروایا ہے۔ ورنہ اس طرح کے حقائق تاریخ کے اوراق میں یا پھر وقت کی دھول میں چھپ کر رہ جاتے۔


 ویبینار کا عنوان تھا "سر مرزا اسمعیل کا پوشیدہ پہلو"۔
ویبینار کا عنوان تھا "سر مرزا اسمعیل کا پوشیدہ پہلو"۔


انجمن حدیقتہ الادب کے صدر سید شفیع احمد نے سرمرزا اسمعیل کی حیات اور خدمات پر تفصیلی مقالہ پیش۔ سید شفیع احمد نے کہا کہ امین الملک سر مرزا اسمعیل نے  ریاست کرناٹک کی ترقی و ترویج، اس کے بنانے اور سنوارنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ سرمرزا اسمعیل کے آباء و اجداد کا تعلق ایران سے تھا۔ آپ کے دادا علی عسکر ایران سے آئے اور یہیں سکونت پذیر ہوئے۔ آپ عرب سے گھوڑے لاتے، برٹش اور مہاراجہ کے اصطبل کو فراہم کرتے تھے۔ اس طرح سر مرزا اسمعیل کے خاندان کے میسور  وڈیر راجاؤں اور برٹش حکمرانوں سے گہرے تعلقات قائم ہوئے۔ جب مہاراجہ نالوڈی کرشن راج وڈیر کی تعلیم کیلئے ایک  خصوصی شاہی اسکول قائم کیا گیا تو سر مرزا اسمعیل کو نالوڈی کرشن راج وڈیر کا ہم جماعت چنا گیا۔ اس طرح تین پیڑییوں تک میسور کے راجاؤں اور مرزا اسمعیل کے خاندان کے درمیان گہرے تعلقات رہے۔ مرزا اسمعیل کی گرائجویشن کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپکی ذہانت اور مختلف امور میں مہارت کو دیکھتے ہوئے مہاراجہ نے آپ کو اپنا حضور سکریٹری مقرر کیا۔ 1926 میں آپ ریاست میسور کے دیوان مقرر ہوئے۔ 15 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد مختصر وقفے کیلئے وہ جے پور اور حیدر آباد کے بھی دیوان مقرر ہوئے۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک کی تعمیر اور ترقی کیلئے نمایاں کوششیں کیں۔ زراعت، صنعت، تجارت، تعلیم کی ترقی کیلئے کئی نئے منصوبے نافذ کئے۔

انجمن حدیقتہ الادب کے رکن اسداللہ خان نے کہا کہ موجودہ دور میں ملک کی تعمیر اور ترقی میں  مسلم حکمرانوں کی قربانیوں اور کارناموں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں اس طرح کے سمینار اور ویبینار زیادہ سے زیادہ منعقد کئے جائیں ۔ تاکہ نئی نسل اپنے اسلاف کے کارناموں، شاندار ماضی کو ہمیشہ یاد کرتی رہے۔اس خصوصی اجلاس کو ڈاکٹر صلاح الدین نے انٹرنیٹ کے ذریعہ راست طور پر نشر کیا۔ کورونا وبا کی وجہ سے صرف مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ بڑی تعداد میں ناظرین نے انٹرنیٹ کے ذریعہ گھر بیٹھے اس اہم اجلاس کا مشاہدہ کیا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 25, 2020 11:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading