உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پٹرول پمپ ملازمین کسٹمر کے ساتھ کر رہے ہیں دھوکہ دہی، جانئے کس طرح جھونک رہے آنکھوں میں دھول

    Cheating at Petrol Pump:  ایک رپورٹ کے مطابق جب کوئی کسٹمر اپنی گاڑی میں پٹرول بھروانے آتا ہے تو پمپ کا ملازم ایندھن بھرنے کے دوران پیٹرول کا بہاؤ روک دیتا ہے۔ آپ اسے اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی کسٹمر 1000 روپے کا پٹرول مانگتا ہے تو پمپ کا ملازم پہلے 400 روپے کا پیٹرول ڈالتا ہے۔

    Cheating at Petrol Pump: ایک رپورٹ کے مطابق جب کوئی کسٹمر اپنی گاڑی میں پٹرول بھروانے آتا ہے تو پمپ کا ملازم ایندھن بھرنے کے دوران پیٹرول کا بہاؤ روک دیتا ہے۔ آپ اسے اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی کسٹمر 1000 روپے کا پٹرول مانگتا ہے تو پمپ کا ملازم پہلے 400 روپے کا پیٹرول ڈالتا ہے۔

    Cheating at Petrol Pump: ایک رپورٹ کے مطابق جب کوئی کسٹمر اپنی گاڑی میں پٹرول بھروانے آتا ہے تو پمپ کا ملازم ایندھن بھرنے کے دوران پیٹرول کا بہاؤ روک دیتا ہے۔ آپ اسے اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی کسٹمر 1000 روپے کا پٹرول مانگتا ہے تو پمپ کا ملازم پہلے 400 روپے کا پیٹرول ڈالتا ہے۔

    • Share this:
      عام لوگ پہلے ہی پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ پٹرول پمپوں پر اس کے ساتھ ہونے والا فراڈ ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ کچھ پٹرول پمپ ملازمین مختلف طریقوں سے صارفین کو بے وقوف بنا کر اپنی جیبیں گرم کر رہے ہیں۔ اگر ہم کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو کی بات کریں تو یہاں کے پٹرول پمپ ملازمین نے دھوکہ دہی کا ایک الگ طریقہ نکالا ہے۔ صارفین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یہ ملازمین بڑی آسانی سے انہیں لوٹ رہے ہیں۔ دھاندلی والے میٹر (Rigged Meters) ایک ایسا ہی طریقہ ہے جس کی مدد سے پٹرول پمپ کے ملازمین لوگوں کو دھوکہ دینے کا کام کر رہے ہیں۔

      دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق جب کوئی کسٹمر اپنی گاڑی میں پٹرول بھروانے آتا ہے تو پمپ کا ملازم ایندھن بھرنے کے دوران پیٹرول کا بہاؤ روک دیتا ہے۔ آپ اسے اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی کسٹمر 1000 روپے کا پٹرول مانگتا ہے تو پمپ کا ملازم پہلے 400 روپے کا پیٹرول ڈالتا ہے۔ پھر اس دوران وہ گاہک کو بتاتا ہے کہ بجلی چلی گئی ہے یا کوئی اور مسئلہ آ گیا ہے۔ اس لیے پٹرول گاڑی کی ٹنکی میں نہیں جا رہا ہے۔ پھر کچھ دیر بعد وہ وہاں سے دوبارہ پٹرول ڈالنا شروع کر دیتا ہے اور 600 روپے پر رک جاتا ہے، جب کہ اسے زیرو سے شروع کرنا چاہیے تھا۔ اس کے بدلے وہ کسٹمر سے 1000 روپے لیتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ صرف 600 روپے کا پٹرول ڈالتا ہے۔ باقی 400 روپے پیٹرول پمپ کا ملازم اپنی جیب میں رکھتا ہے۔

      خام تیل  10ڈالر سستا، کیا  Petrol۔Diesel کی قیمتیں بھی ہوئیں کم، جانئے آج کے نئے دام

      چانچ ہوئی تیز
      ایک حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے دو سالوں میں ریاست میں پٹرول پمپس پر دھوکہ دہی کے معاملات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ افسر کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران پیٹرول پمپ کے معائنہ کے کام میں کمی آئی تھی جس کا فائدہ پمپ کے ملازمین نے اٹھایا تاہم اب دوبارہ تحقیقات تیز کردی گئی ہیں۔

      بچہ پیدا ہونے کے بعد ماں اور نومولود بچی کو تیل کی جگہ تیزاب سے کیا صاف اور پھر۔۔۔

      پمپ آپریٹر نے کیا کہا؟
      وہیں پیٹرول پمپ آپریٹرز petrol pump operators کا کہنا ہے کہ ملازمین کی دھوکہ دہی کی وجہ سے ان پر اکثر جرمانے لگائے گئے ہیں۔ آل کرناٹک فیڈریشن آف پٹرولیم ٹریڈرس کے صدر کے ایم۔ بسوے گوڑا کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک میٹر کی وجہ سے دھوکہ دہی کا امکان بہت کم ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پیرول پمپ چلانے والوں نے 25 ملی لیٹر پلس یا مائنس کا غلط استعمال کیا ہے تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن حکام صرف 10 ملی لیٹر کی کمی پر ہی مقدمہ درج کرلیتے ہیں۔ پٹرول پمپ آپریٹرز نے گزشتہ سال بھی اس کی مخالفت کی تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: