ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: ڈی کے شیوکمار کی ٹیم نے کانگریس کی سنبھالی کمان، بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا کیا عہد

کانگریس پارٹی کے قدآور لیڈر ڈی کے شیوکمار نے تین کارگزار صدور کے ساتھ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک: ڈی کے شیوکمار کی ٹیم نے کانگریس کی سنبھالی کمان، بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا کیا عہد
ڈی کے شیوکمار کی ٹیم نے کانگریس کی سنبھالی کمان

بنگلورو۔ کانگریس پارٹی کے قدآور لیڈر ڈی کے شیوکمار نے تین کارگزار صدور کے ساتھ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ بنگلورو میں گزشتہ روز پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر میں "پرتگنا دن" یعنی یوم عہد تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں کانگریس کے سینئر لیڈروں کی موجودگی میں نئی ٹیم نے رسمی طور پر اپنے عہدوں کا جائزہ لیا۔ کے پی سی سی کے صدر کے عہدے سے فارغ ہونے والے دنیش گنڈو راو نے ڈی کے شیوکمار اور انکی ٹیم کو پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی۔ ڈی کے شیوکمار نے بحیثیت صدر، سلیم احمد، ایشور کھنڈرے اور ستیش جارکی ہولی نے بحیثیت کارگزار صدور اپنی ذمہ داری قبول کی۔


تقریب کا آغاز نئے کارگزار صدر سلیم احمد کی استقبالیہ تقریر سے ہوا۔ سلیم احمد نے کہا کہ آج ملک میں بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے گئے دستور کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور یہ کام کانگریس پارٹی کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ پارٹی کو زمینی سطح سے مضبوط کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچانا انکا ہدف ہوگا۔ انہوں نے کہا وہ سب کو ساتھ لیکر پارٹی کو آگے بڑھائیں گے۔ پارٹی میں گروہ بازی کو موقع نہیں دینگے۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بی جے پی نے انہیں سیاسی طور پر ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، انکے خلاف ای ڈی، سی بی آئی، انکم ٹیکس محکمہ کا استعمال کیا، یہاں تک کہ انہیں دہلی کی تہاڑ جیل بھی بھیج دیا۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ جب وہ تہاڑ جیل میں تھے، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جیل پہونچ کر ان سے ملاقات کی، ایک گھنٹہ تک بات چیت کی  اور انہیں حوصلہ دیا، اس مشکل گھڑی میں راہل گاندھی سمیت کانگریس کے کئی لیڈروں نے انکی ہمت باندھی۔


بنگلورو میں گزشتہ روز پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر میں "پرتگنا دن" یعنی یوم عہد تقریب منعقد ہوئی۔


واضح رہے کہ چند ماہ قبل ڈی کے شیوکمار کو حوالہ معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ وہ پارٹی کے لیڈروں کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کا سپاہی بن کر کام کرینگے۔ اس موقع پر اے آئی سی سی کے انچارج کے سی وینو گوپال نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کا تہنیتی پیغام تقریب میں پڑھ کر سنایا۔ تقریب کے دوران ہی راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بذریعہ فون ڈی کے شیوکمار اور نئے کارگزار صدور کو مبارکباد پیش کی۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور  سابق مرکزی وزیر ملیکارجن کھرگے نے اپنے خطاب میں مودی حکومت اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ ہند چین سرحد پر حال ہی میں ہمارے 20 فوجی جوان کیسے شہید ہوئے، سرحد پر کیا ہوا،  اس تعلق سے مرکزی حکومت نے اب تک عوام کو وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ ملیکارجن کھرگے نے الزام عائد کیا کہ پی ایم کئیر فنڈ کیلئے کئی چینی کمپنیوں نے پیسہ دیا ہے۔ چین کی ٹک ٹاک کمپنی نے 30 کروڑ روپئے دئے ہیں، اس پر کیوں حکومت خاموش ہے۔

ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ کورونا کی وبا سے نمٹنے میں مودی حکومت ناکام ہوئی ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں، ملک کا غریب اور مزدور طبقہ بے حد پریشان ہے۔ انہوں نے کانگریس کے لیڈروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ مودی حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے پیش کریں۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سدارامیا نے کہا کہ کورونا کی وبا کے درمیان بھی بی جے پی نے فرقہ پرستی کی سیاست کی ہے۔ کورونا کی وبا کیلئے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ آج کہیں بھی تبلیغی جماعت کا پروگرام نہیں ہے، لیکن ملک اور ریاست میں کیوں کورونا کی وبا تیزی سے پھیلتی ہوئی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے وبا کو روکنے کیلئے ٹھوس قدم اٹھانےکے بجائے تالی بجاو، تھالی بجاو، دیا جلاو اس طرح کے مشورے دے کر ملک کے عوام کو گمراہ کیا ہے۔

اس تقریب میں سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے دستور ہند کا دیباچہ پڑھاتے ہوئے تقریب میں شامل تمام افراد کو حلف دلوایا۔ کورونا وائرس کے سبب اس تقریب میں 150 مہمانوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن پارٹی نے ریاست بھر میں 14600 مقامات میں اس پروگرام کی راست نشریات پیش کیں۔ منتظمین کے مطابق 20 لاکھ لوگوں نے اپنے اپنے مقامات میں بیٹھ کر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس پروگرام میں شرکت کی۔ لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں کراری شکست کے بعد کرناٹک میں ان دنوں کانگریس کی حالت کمزور ہے۔ پارٹی میں اندرونی اختلافات بھی برقرار ہیں۔ ان  نازک حالات میں  پارٹی اعلی کمان نے ٹربل شوٹر، جوشیلے لیڈر ڈی کے شیوکمار کو تین کارگزار صدور کے ساتھ پارٹی کی قیادت سنوپی ہے۔
First published: Jul 03, 2020 03:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading