ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک : غذا کے حق پر بی جے پی حکومت نے حملہ کیا ، بنگلورو میں ایس ڈی پی آئی کا الزام

ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ 9 فروری 2021 کو ریاست کی قانون ساز کونسل میں انسداد گئو کشی بل منظور ہوا ہے۔ لیکن اس بل کو غیر قانونی، غیر جمہوری طریقے سے منظوری دی گئی ہے

  • Share this:
کرناٹک : غذا کے حق پر بی جے پی حکومت نے حملہ کیا ، بنگلورو میں ایس ڈی پی آئی کا الزام
کرناٹک : غذا کے حق پر بی جے پی حکومت نے حملہ کیا ہے ، بنگلورو میں ایس ڈی پی آئی کا الزام

کرناٹک میں انسداد گئو کشی بل 2020 اب مستقل قانون بننے جارہا ہے۔  اسمبلی میں منظوری کے بعد یہ بل کونسل میں بھی منظور ہوچکا ہے۔ کونسل میں اس بل کی منظوری کے طریقے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے ریاست کے گورنر کو یادداشت پیش کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ریاستی جنرل سیکرٹری مجاہد پاشاہ، بنگلورو ضلع کے نائب صدر ایس ایم گنگپا، ضلعی جنرل سیکرٹری سلیم احمد اور دیگر نے راج بھون پہنچ کر ریاست کے گورنر واجو بھائی والا کو تحریری یادداشت پیش کی۔


ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ 9 فروری 2021 کو ریاست کی قانون ساز کونسل میں انسداد گئو کشی بل منظور ہوا ہے۔ لیکن اس بل کو غیر قانونی، غیر جمہوری طریقے سے منظوری دی گئی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے کہا کہ انسداد گئو کشی بل کی منظوری کے وقت کونسل کے ایوان میں اختیار کئے گئے  طریقہ اور  ہنگامہ آرائی سے ایوان بالا کی توہین ہوئی ہے ۔ قانون ساز کونسل کی عظمت اور وقار کو بی جے پی کی ریاستی حکومت نے پامال کیا ہے۔


ایس ڈی پی آئی نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ قانون ساز کونسل میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان کی تعداد 41 ہے جبکہ بی جے پی کے ارکان کی تعداد صرف 28 ہے ۔ متنازع بل کی منظوری کے وقت ایوان میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے 31 ارکان موجود تھے، ان دونوں پارٹیوں کے 10 ارکان غیر حاضر تھے۔ وہیں حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کے تمام 28 ارکان موجود تھے۔ اس کے باوجود  بل کی منظوری کے وقت حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کے ارکان کی تعداد اپوزیشن جماعتیں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان سے کم تھی ۔  لیکن متنازعہ بل آخر کیسے منظور ہوا؟، اس کا جواب بی جے پی حکومت ریاست کے ساڑھے چھ کروڑ عوام کو دے۔


ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ انسداد گئو کشی بل پر بحث کے بعد ووٹنگ کے ذریعہ فیصلہ کیا جانا چاہئے تھا ۔ لیکن ایوان کے اس طریقہ کار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، جمہوری اقدار کا قتل کرتے ہوئے بی جے پی حکومت نے بل کو منظور کیا ہے۔ اس طرح ایک جانب کسان برادری تو دوسری طرف آدیواسی، پسماندہ طبقات، دلتوں، اقلیتوں اور چند دیگر طبقات کے غذا کے حق پر بی جے پی حکومت نے وار کیا ہے۔

ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ کرناٹک اسمبلی میں منظور کیا گیا انسداد گئو کشی بل 2020 دستور ہند کی دفعہ 21 کے مطابق مناسب فیصلہ نہیں ہے۔ حکومت کے اس قدم سے دستور ہند میں شہریوں کو دئے گئےحقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ریاستی  جنرل سکریٹری مجاہد پاشاہ نے کہا کہ پارٹی نے گورنر واجو بھائی والا سے درخواست کی ہے کہ وہ اس متنازع بل پر ہرگز اپنا دستخط نہ کریں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 14, 2021 08:36 AM IST