ہوم » نیوز » No Category

کرناٹک میں فرقہ ورانہ فسادات کی روک تھام کیلئے جماعت اسلامی ہند کے تحت سدبھاؤنا منچ کا قیام

کرناٹک میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے جماعت اسلامی ہند نے ایک اہم پہل کی ہے۔ پہلی مرتبہ ہندو، مسلم، سکھ اورعیسائی مذہب کے نمائندوں پرمشتمل یونیٹی فورم قائم کیا ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Oct 27, 2016 08:58 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کرناٹک میں فرقہ ورانہ فسادات کی روک تھام کیلئے جماعت اسلامی ہند کے تحت سدبھاؤنا منچ کا قیام
کرناٹک میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے جماعت اسلامی ہند نے ایک اہم پہل کی ہے۔ پہلی مرتبہ ہندو، مسلم، سکھ اورعیسائی مذہب کے نمائندوں پرمشتمل یونیٹی فورم قائم کیا ہے۔

بنگلورو : کرناٹک میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے جماعت اسلامی ہند نے ایک اہم پہل کی ہے۔ پہلی مرتبہ ہندو، مسلم، سکھ اورعیسائی مذہب کے نمائندوں پرمشتمل یونیٹی فورم قائم کیا ہے۔ اس فورم کوسدبھاونا منچ کا نام دیا گیا ہے۔

ریاست کرناٹک میں وقت وقت پرپیش آنے والے فرقہ وارانہ فسادات تشویش کا سبب رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کےمعاملہ میں کرناٹک سرفہرست ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق2011 سے 2015 کے درمیان جنوب کی ریاستوں میں کرناٹک میں سب سےزیادہ فرقہ وارنہ جھڑپوں کےواقعات پیش آئے ہیں۔

ریاست کی اس صورتحال کے پیش نظر جماعت اسلامی ہند نے ریاستی سطح پر سدبھاونا منچ قائم کیا ہے۔ بنگلورو میں حال ہی میں اس منچ کا افتتاح عمل میں آیا ۔ منچ کے کنوینر اکبر علی نے کہا کہ فسادات کی روک تھام کے لئےعوام میں بیداری پیدا کی جائے گی ۔ انتظامیہ اورپولیس کے ساتھ مل کرضروری اقدامات بھی کئےجائیں گے ۔

جماعت اسلامی ہند کی نگرانی میں سرگرم رہنے والے سدبھاؤنا منچ کی شاخیں ہر ضلع اورتعلقہ میں قائم کی جائیں گی۔ کرناٹک میں عام طورپرفرقہ ورانہ فسادات کے بعد انتظامیہ کےتحت امن کمیٹیوں کی میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ لیکن جماعت اسلامی نے سدبھاونا منچ کے تحت ہر چھوٹے بڑے شہرمیں وقتا فوقتا اجلاس اور دیگرپروگرام منعقد کرنےکا فیصلہ کیا ۔ تاکہ ریاست میں ہمیشہ امن اوراتحاد کی فضا قائم رہے۔

First published: Oct 27, 2016 08:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading