உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک کے میڈیکل کالج میں کورونا دھماکہ ، 66 طلبہ کورونا پازیٹیو ، دو اسپتال سیل

    کرناٹک کے میڈیکل کالج میں کورونا دھماکہ ، 66 طلبہ کورونا پازیٹیو ، دو اسپتال سیل

    کرناٹک کے میڈیکل کالج میں کورونا دھماکہ ، 66 طلبہ کورونا پازیٹیو ، دو اسپتال سیل

    Karnataka SDM Medical College Corona Infection : کرناٹک کے ایس ڈی ایم میڈیکل کالج میں کورونا دھماکہ ہوا ہے ۔ کالج کے 66 طلبہ کورونا ٹیسٹ میں پازیٹیو پائے گئے ہیں ۔ ایک ساتھ اتنے لوگوں کے متاثر ہونے کی خبر ملتے ہی انتظامیہ میں افراتفری مچ گئی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کورونا انفیکشن کی رفتار میں گراوٹ کے بعد اب کئی ریاستوں سے انفیکشن کے معاملات بڑھنے کی خبر سامنے آرہی ہے ۔ اس درمیان کرناٹک کے ایس ڈی ایم میڈیکل کالج میں کورونا دھماکہ ہوا ہے ۔ کالج کے 66 طلبہ کورونا ٹیسٹ میں پازیٹیو پائے گئے ہیں ۔ ایک ساتھ اتنے لوگوں کے متاثر ہونے کی خبر ملتے ہی انتظامیہ میں افراتفری مچ گئی ۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے فورا ایکشن لیتے ہوئے دو اسپتال کو پوری طرح سے سیل کریا گیا ہے ۔ کرناٹک کے ایس ڈی ایم کالج میں تقریبا 400 طلبہ پڑھائی کرتے ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ جتنے بھی طلبہ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں ، وہ فرسٹ ایئر کے طلبہ ہیں ۔

      جانکاری کے مطابق کالج میں جب کچھ طلبہ کورونا وائرس کی زد میں آئے تو اس کے بعد انتظامیہ نے سبھی طلبہ کا کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ۔ ابھی تک کل 300 طلبہ کو ٹیسٹ ہوچکا ہے ، جس میں 66 لوگ کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں ۔ ابھی بھی تقریبا 100 لوگوں کا کووڈ ٹیسٹ باقی ہے ۔ ان لوگوں کا ٹیسٹ ہونے کے بعد ہوسکتا ہے کہ متاثرین افراد کی تعداد بھی بڑھ جائے ۔

      بتادیں کہ جہاں گزشتہ کچھ مہینوں میں کورونا انفیکشن کی رفتار دھیمی ہوئی ہے وہیں اب نومبر کے مہینے میں کئی ریاستوں میں کورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس سے پہلے راجستھان کے ادے پور کے ایک اسکول میں گیارہ طلبہ کے کورونا سے متاثر ہونے کی خبر سامنے آئی تھی ۔

      نیز کچھ دنوں پہلے تلنگانہ کے ایک اسکول میں 28 طالبات کورونا سے متاثر پائی گئی تھیں ۔ اس وقت اسکولوں میں کورونا انفیکشن کے معاملات سب سے زیادہ سامنے آرہے ہیں ۔ اوڈیشہ میں بھی کورونا کے معاملات تیزی سے بڑھے ہیں ۔ یہاں 53 اسکولی طلبہ جبکہ 22 میڈیکل کالج کے طلبہ کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: