உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیدرکےتاریخی مدرسہ محمودگاواں میں گھس کرپوجاکی گئی، مسلمانوں میں بےچینی اورعلاقہ میں کشیدگی

    تصویر بشکریہ انڈین مسلم ہسٹری

    تصویر بشکریہ انڈین مسلم ہسٹری

    انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعے کے مبینہ ویڈیو کلپس کے وائرل ہونے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ نے تاریخی مدرسہ محمود گاواں کی بے حرمتی اور آثا قدیمہ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے لیے نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی گرفتاری ابھی باقی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka, India
    • Share this:
      کرناٹک کے ضلع بیدر میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب دسہرہ کے جلوس میں شرکت کرنے والے ایک ہجوم نے مبینہ طور پر بیدر کے مشہور و تاریخی مدرسہ محمود گاواں (Madrasa Mahmud Gawan) کے احاطے میں گھس کر جمعرات کی صبح پوجا کی۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب سیکورٹی تعینات کر دی ہے۔

      انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعے کے مبینہ ویڈیو کلپس کے وائرل ہونے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ نے تاریخی مدرسہ محمود گاواں کی بے حرمتی اور آثا قدیمہ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے لیے نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی گرفتاری ابھی باقی ہے۔ اس واقعہ کے بعد مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا اور مدرسہ میں گھسنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

      آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اس واقعہ کو لے کر وزیر اعلیٰ بسواراج بومائی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے واقعات کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیدر میں مدرسہ محمود گاواں 1460 کی دہائی میں بنایا گیا تھا اور اسے قومی اہمیت کی یادگاروں میں درج کیا گیا ہے۔ یہ مدرسہ بہمنی سلطنت کے وزیر اور عالم محمود گاواں نے 1460 میں تعمیر کیا تھا۔



      کرناٹک محکمہ سیاحت کی ویب سائٹ کے مطابق مدرسہ محمود گاواں یا مدرسہ محمد گاوان بیدر کا ایک قدیم اسلامی ادارہ ہے۔ خواجہ محمد گیلانی (محمود گاواں) نے 1472ء میں بیدر کے مقام پر یہ مدرسہ (کالج) بنایا تھا۔ یہ ایک شاندار تین منزلہ عمارت ہے۔ مدرسہ سیکھنے کا ایک مشہور مرکز تھا جس کی اپنی لائبریری، لیکچر ہال، پروفیسرز/طلبہ کے کوارٹرز اور ایک مسجد تھی۔ اس ادارے میں عربی اور فارسی زبان، دینیات، فلسفہ، ریاضی وغیرہ کا علم سیکھانے کے لیے اسکالرز موجود تھے۔ عمارت کا اگلا حصہ مختلف رنگوں کی ٹائلوں سے مزین ہے اور ہر طرف دو شاندار مینار ہیں۔ دیواروں کے کچھ حصوں پر قرآن پاک کی آیات کندہ کیے گئے ہیں جن کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔

      مذکورہ ویب سائٹ میں محمود گاواں مدرسہ کی جھلکیاں یہ بتایئی گئی ہیں:

      ۔ یہ 62.53 بائی 54.9 مربع میٹر کا ایک اونچا تہہ خانہ ہے۔

      ۔ اس میں داخل ہونے کے لیے ایک بڑا دروازہ ہے۔

      ۔ دو اونچے مینار (تقریباً 50.5 میٹر اونچا) ہیں۔

      ۔ رنگین ٹائلوں سے بنا ہوا صحن، سبز، پیلے اور سفید رنگوں میں پھولوں کی نقش و نگار نمایاں ہے۔

      ۔ اس مدرسہ میں 36 کلاس رومز ہیں۔

      ۔ مخطوطات کی 3000 جلدوں کے ساتھ بڑی اور متاثر کن لائبریری بھی یہاں موجود ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      یو جی نیٹ کونسلنگ 2022 دس اکتوبر سے شروع ہونے کی توقع، میڈیکل کونسلنگ کمیٹی کی نوٹس جاری

      ۔ یہاں ایک تجربہ گاہ (لیبارٹری) بھی تھی، جس میں تحقیقات کی جاتی تھی۔

      ۔ طلبہ اور عملے کے لیے بورڈنگ کی سہولیات بھی فراہم تھی۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      امت شاہ کے جموں وکشمیر دورے کے کیا رہے مثبت نتائج، جانئے دفاعی اور سیاسی ماہرین کی رائے



      ۔ آرٹ ورک اور آرکیٹیکچرل خصوصیات کے ساتھ قرآنی آیات نمایاں نظر آتی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: