உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک : انسداد گئو کشی بل 2020 پاس ہوگا یا فیل ، پیر کو ہوسکتا ہے فیصلہ

    کرناٹک : انسداد گئو کشی بل 2020 پاس ہوگا یا فیل ، پیر کو ہوسکتا ہے فیصلہ

    کرناٹک : انسداد گئو کشی بل 2020 پاس ہوگا یا فیل ، پیر کو ہوسکتا ہے فیصلہ

    کرناٹک کی اسمبلی میں گئو کشی پر پابندی کا متنازع بل گزشتہ سال ہی منظور ہوچکا ہے۔ اب اس بل کو کونسل کی منظوری ملنی باقی ہے۔ 8 فروری بروز پیر کو ہونے والا کونسل کا اجلاس کافی اہم سمجھا جارہا ہے ۔

    • Share this:
    کرناٹک میں اب سب کی نگاہیں 8 فروری بروز پیر کو ہونے والے قانون ساز کونسل کے اجلاس پر مرکوز ہیں ۔ اس اجلاس میں انسداد گئو کشی بل 2020 پر گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سابق ریاستی وزیر اور کانگریس کے ایم ایل سی نصیر احمد نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں اس بل پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ سبھی پارٹیوں کے لیڈروں نے بحث میں حصہ لینے کیلئے اجازت طلب کی ہے۔ نصیر احمد نے کہا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس مل کر مخالفت کریں تو اس بل کو آسانی کے ساتھ شکست دی جاسکتی ہے۔

    کل 75 نشستوں پر مشتمل کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں فی الوقت حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کے ارکان کی تعداد 31 ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں کانگریس کے 29 اور جے ڈی ایس کے 13 ارکان ہیں ۔ ایک آزاد رکن اور ایک نشست خالی ہے ۔ انسداد گئو کشی بل پر بحث کے بعد اگر ووٹنگ ہوئی تو اس بل کو آسانی کے ساتھ شکست دی جاسکتی ۔ واضح رہے کہ کانگرس کے ساتھ جے ڈی ایس نے بھی اس بل کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

    کانگریس کے رکن کونسل نصیر احمد نے کہا کہ پیر کا دن کافی اہم ہے ۔ بل کو شکست دینے کیلئے جے ڈی ایس کی تائید ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں انسداد گئو کشی بل 2020 منظور ہوچکا ہے۔ اس وقت کونسل میں منظوری نہ ملنے کے سبب بی جے پی حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ بل کو نافذ کیا ہے۔  ایک عارضی قانون کے طور پر نافذ کئے گئے اس بل کے بعد کسان اور اقلیتی طبقہ پریشان ہے ۔ نصیر احمد نے کہا کہ ریاست میں چند ایک مقامات پر اس قانون کے تحت مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں ۔  گرفتاریاں بھی عمل میں آچکی ہیں ۔ نصیر احمد نے کہا کہ بی جے پی ہندوتو ایجنڈے کو نافذ کرنے کیلئے اس طرح کا قانون بنا رہی ہے ۔ عوام بالخصوص اقلیتوں کو پریشان کرنا حکومت کا مقصد ہے۔

    انسداد گئو کشی بل 2020 میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ گائے، بیل، سانڈ، بچھڑا، گائے کی نسل سے جوڑے تمام جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کے ذبیحہ کیلئے اجازت دی گئی ہے۔ اس نئے بل میں کم سے کم تین سال کی سزا اور زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے ۔ جرمانہ کے لحاظ سے پہلی  مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 50 ہزار سے 5  لاکھ روپے تک کا جرمانہ اور دوسری مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔

    رکن کونسل نصیر احمد نے کہا کہ اگر قانون ساز کونسل میں یہ بل نامنظور ہوتا ہے تو ریاست میں نافذ کیا گیا آرڈیننس بھی کالعدم قرار پائے گا۔ اقلیتوں اور کسانوں کو راحت ملے گی ۔ دو دن قبل کونسل کے اجلاس میں سوال جواب کے دوران سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے موجودہ رکن کونسل سی ایم ابراہیم نے کہا کہ عمر دراز جانوروں کی دیکھ ریکھ آخر کون کرے گا۔ موجودہ دور میں بچے ماں باپ کو دیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ ایسے میں جانوروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عمر دراز جانوروں کی دیکھ بھالی کیلئے کیا بجٹ میں رقم مختص کی ہے؟۔ سی ایم ابراہیم نے کہا کہ گئو کشی پر پابندی کا آرڈیننس نافذ کئے جانے کے بعد کسان اپنے جانوروں کو فروخت نہیں کر پارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انسداد گئو کشی بل سے کسانوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ، حکومت نے یہ جواب دیا ۔ اس جواب پر ہنسیں یا روئیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔

    سی ایم ابراہیم کے اس اعتراض پر وزیر مویشی پالن پربھو چوہان نے کہا کہ وہ کسان سمیت سبھی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ کونسل میں بل کی منظوری کے بعد کئی منصوبے بنائے گئے ہیں ۔ جانوروں کی حفاظت اور کسانوں کی مدد کیلئے حکومت تیار ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: