ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: آخرکار بی جے پی کو کسی مسلم مجاہد آزادی کی آئی یاد

بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدر مزمل احمد بابو نے کہا کہ ان کی پارٹی عظیم شخصیت اشفاق اللہ خان کی بہادری، جواں مردی، دلیری، وطن کیلئے انکی قربانی کو یاد کریگی۔ انہوں نے کہا کہ اشفاق اللہ خان نے دیگر مجاہدین جیسے رام پرساد بسمل، راجیندر لہری، ٹھاکر روشن سنگھ، چندر شیکھر آزاد کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی۔ ان کی شخصیت وطن سے محبت، ہندو مسلم اتحاد کی ایک عظیم مثال بنی ہوئی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک: آخرکار بی جے پی کو کسی مسلم مجاہد آزادی کی آئی یاد
علامتی تصویر

کرناٹک میں پہلی مرتبہ بی جے پی کسی مسلم شخصیت کی یاد میں تقریب منعقد کرنے جارہی ہے۔ جی ہاں بی جے پی کو آخر کار کسی مسلم مجاہد آزادی کی یاد آہی گئی ہے۔ 19 دسمبر 2020 کو بی جی پی اقلیتی مورچہ مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کا یوم شہادت منائے گا۔ اس موقع پر بی جے پی کی جانب سے شہید اشفاق اللہ خان کو رسمی طور پر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔


بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدر مزمل احمد بابو نے کہا کہ ان کی پارٹی عظیم شخصیت اشفاق اللہ خان کی بہادری، جواں مردی، دلیری، وطن کیلئے انکی قربانی کو یاد کریگی۔ انہوں نے کہا کہ اشفاق اللہ خان نے دیگر مجاہدین جیسے رام پرساد بسمل، راجیندر لہری، ٹھاکر روشن سنگھ، چندر شیکھر آزاد کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی۔ ان کی شخصیت وطن سے محبت، ہندو مسلم اتحاد کی ایک عظیم مثال بنی ہوئی ہے۔


بنگلورو کے ہبال روڈ پر واقع پیالیس کنونشن سینٹر میں اشفاق اللہ خان کا یوم شہادت پروگرام منعقد ہونےجارہا ہے جس میں بی جے پی کے ریاستی لیڈران شرکت کرینگے۔ چند ریاستی وزراء کی بھی شرکت متوقع ہے۔ مزمل احمد بابو نے کہا کہ اس پروگرام میں سرحد پر شہید ہونے والے دو فوجی جوانوں کے اہل خانہ کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ شہید فوجی جوانوں کے اہل خانہ کو تہنیت پیش کی جائے گی۔ 19 دسمبر 1927 کو انقلابی شخصیت اشفاق اللہ خان کو فیض آباد کی جیل میں انگریزوں نے پھانسی کے پھندے پر لٹکایا تھا اور اس طرح وطن عزیز کیلئے انکی شہادت عمل میں آئی تھی۔


کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کو سرکاری سطح پر منائے جانے کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ یعنی ٹیپو جینتی کو یدی یورپا حکومت نے رد کردیا ہے۔


ایک جانب بی جے پی اشفاق اللہ خان کا یوم شہادت مناتے ہوئے انہیں یاد کر رہی ہے تو دوسری طرف یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ بی جے پی کو حضرت ٹیپو سلطان شہید کے نام سے کیوں اعتراض ہے؟ ٹیپو سلطان اور ان کے والد نواب حیدر علی خان نے انگریزوں کے خلاف 4 جنگیں لڑیں۔ میسور کی چوتھی جنگ میں سری رنگ پٹن میں ٹیپو سلطان انگریزوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس عظیم مرد مجاہد کو نظر انداز کرنا کہاں تک درست ہے، یہ سوال بار بار اٹھتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کو سرکاری سطح پر منائے جانے کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ یعنی ٹیپو جینتی کو یدی یورپا حکومت نے رد کردیا ہے۔  ریاست کے ہی سپوت ٹیپو سلطان شہید  پر آخر کیوں سیاست ہوتی ہے؟ کیوں بی جے پی واویلا مچاتی ہے؟ اس پر خوب بحث ہوتی ہوئی آرہی ہے۔ اس دوران یہ سوال ہمیشہ اٹھتا رہا ہے کہ آخر کس مسلم مجاہد آزادی کو بی جے پی تسلیم کرتی ہے۔ اب بی جے پی نے پہلی مرتبہ ریاست میں اشفاق اللہ خان کا یوم شہادت منانے کا فیصلہ لیتے ہوئے اپنے ناقدین کو جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس پروگرام کے اعلان کے بعد بی جے پی اقلیتی مورچہ میں جوش و خروش کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 18, 2020 08:30 AM IST