ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مذہب اسلام کی تین شخصیات تمام خواتین کیلئے نمونہ ، صنعتکار اقبال احمد کا بیان

اے ڈبلیو ای نے اپنے قیام کے ایک سال مکمل ہونے پر جشن منایا۔ بنگلورو کے مضافات میں واقع جسوا ٹاؤن شپ میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اہم بات یہ رہی کہ ویمن ونگ کی اراکین نے شجرکاری کا پروگرام منعقد کرتے ہوئے اپنے شعبہ کی پہلی سالگرہ منائی۔

  • Share this:
مذہب اسلام کی تین شخصیات تمام خواتین کیلئے نمونہ ، صنعتکار اقبال احمد کا بیان
مذہب اسلام کی تین شخصیات تمام خواتین کیلئے نمونہ ، صنعتکار اقبال احمد کا بیان

ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں مسلم تاجروں اور صنعتکاروں کی تنظیم "مسلم Industrialists  ایسوسی ایشن" گزشتہ 16 سالوں سے خدمات انجام دیتی ہوئی آرہی ہے۔ اس تنظیم نے مسلم خواتین کی سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے گزشتہ سال خواتین کا علیحدہ شعبہ قائم کیا ہے۔ اس شعبہ کا نام اے ڈبلیو ای یعنی Association for Women Entrepreneurs ہے ۔


اے ڈبلیو ای نے اپنے قیام کے ایک سال مکمل ہونے پر جشن منایا۔ بنگلورو کے مضافات میں واقع جسوا ٹاؤن شپ میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اہم بات یہ رہی کہ ویمن ونگ کی اراکین نے شجرکاری کا پروگرام منعقد کرتے ہوئے اپنے شعبہ کی پہلی سالگرہ منائی۔ ماحولیات کے تئیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ان خواتین نے اپنے اپنے ہاتھوں سے پیڑ پودے لگائے۔تقریب میں شامل ہر خاتون نے ایک ایک پودا لگاتے ہوئے یہ عہد کیا کہ وہ اس کرہ ارض کی حفاظت، ماحولیات کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کرینگی۔محمد شفیع کی صدارت میں مسلم انڈسڑیلسٹ ایسوسی کے ارکان نے بھی شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور خواتین کے جذبہ کی ستائش کی۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف صنعتکار اور جسوا ٹاؤن شپ کے چیئرمین اقبال احمد نے کہا کہ مذہب اسلام کی تین شخصیات تمام خواتین کیلئے نمونہ ہیں۔ پہلی شخصیت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، دوسری شخصیت حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں اور تیسری شخصیت حضرت بی بی  خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔


صنعتکار اقبال احمد نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی دختر نیک اختر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی سے یہ درس ملتا ہے کہ ایک خاتون کس طرح گھریلو ذمہ داری کو ادا کرے، والد اور شوہر کے ساتھ کس طرح پیش آئے، کس طرح گھر اور پورے خاندان کو امن اور سکون کا گہوارہ بنائے۔ اقبال احمد نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویوں میں کئی خوبیاں تھیں۔ علم ، عمل، دانشمندی کے لحاظ سے خواتین کیلئے بہترین مثال حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ تجارت اور صنعت کے میدان میں حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شخصیت تمام خواتین کیلئےنمونہ ہیں ۔ اقبال احمد نے کہا کہ مذہب اسلام نے خواتین کو کسی ایک ذمہ داری تک محدود نہیں رکھا ہے۔ ہر میدان میں خواتین آگے بڑھ سکتی ہیں۔ ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ دنیا میں سب سے پہلے مذہب اسلام نے خواتین کو ان کے حقوق دئے ہیں۔ تعلیم اور دیگر شعبوں میں خواتین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اس کیلئے پردہ کے ساتھ آزادی دی ہے۔


اے ڈبلیو ای نے اپنے قیام کے ایک سال مکمل ہونے پر جشن منایا۔
اے ڈبلیو ای نے اپنے قیام کے ایک سال مکمل ہونے پر جشن منایا۔


اس موقع پر AWE کی صدر ردا فاطمہ نے کہا کہ تجارت اور صنعت کے میدان میں مسلم خواتین کی مدد اور رہنمائی کیلئے مسلم انڈسڑیلسٹ ایسوسی ایشن نے خواتین کا علاحدہ شعبہ قائم کیا ہے۔ پچھلے ایک سال میں 68 خواتین نے اس شعبہ کی رکنیت حاصل کی ہے اور وہ چھوٹے پیمانے پر اپنی اپنی کمپنیاں قائم کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہیں۔ صنعتکار اور ویمن ونگ کی رکن حفصہ جمیل نے کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کیلئے کئی مواقع موجود ہیں۔ یہاں تک کہ گھریلو خواتین گھر میں ہی رہ کر بزنس شروع کرسکتی ہیں۔ حفصہ جمیل نے کہا کہ مسلم خواتین کی معاشی سرگرمیوں  سے نہ صرف خاندانوں کی ترقی ہوگی بلکہ ملک اور ملت  کی بھی ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اے ڈبلیو ای تنظیم کی جانب سے خواتین کیلئے کیا کیا مواقع ہیں، گھر بیٹھے خواتین کس طرح اپنا بزنس شروع کرسکتی ہیں۔ کمپنی کا رجسٹریشن اور بزنس سے جوڑے تمام امور کی جانکاری فراہم کی جارہی ہے۔

سیدہ ایمن نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں کئی خواتین کو مفت رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ نہ صرف بنگلورو بلکہ دیگر شہروں کی خواتین نے AWE سے رابطہ کرتے ہوئے تجارت اور صنعت کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ ایک سال میں حاصل ہوئی کامیابی کا جشن منانے کیلئے تمام خواتین ایک جگہ جمع ہوئی ہیں۔ اس جشن کو ایک مقصد کے تحت منایا گیا ہے۔ وہ مقصد ہے کہ ہم ماحولیات کی حفاظت کیلئے کچھ کریں۔ اس لئے پہلی سالگرہ کے موقع پر شجرکاری کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس کام کو انجام دیتے ہوئے تمام خواتین کو بے حد خوشی حاصل ہوئی ہے۔

اہم بات یہ رہی کہ ویمن ونگ کی اراکین نے شجرکاری کا پروگرام منعقد کرتے ہوئے اپنے شعبہ کی پہلی سالگرہ منائی۔
اہم بات یہ رہی کہ ویمن ونگ کی اراکین نے شجرکاری کا پروگرام منعقد کرتے ہوئے اپنے شعبہ کی پہلی سالگرہ منائی۔


مسلم Industrialists  ایسوسی ایشن کے صدر محمد شفیع نے کہا کہ ان کا ادارہ سال 2004 میں قائم ہوا ہے۔ 500 کے قریب صنعتکار، تاجر اس ادارے سے وابستہ ہیں۔ جب یہ بات سامنے آئی کہ صنعتکاری میں دیگر طبقوں کی خواتین کے مقابلے مسلم خواتین نہ کے برابر ہیں تو ایسوسی ایشن نے خواتین کا علاحدہ شعبہ قائم کیا۔ اب اس شعبہ نے کامیابی کے ساتھ ایک سال مکمل کر لیا ہے۔ کورونا وبا کے باوجود کئی سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ ان میں فیلڈ سروے اور دیگر پروگرام شامل ہیں۔ محمد شفیع نے کہا کہ خواتین کا جوش و جذبہ قابل دید ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین میں کئی ہنر موجود ہیں۔ تجارت اور کمپنیاں قائم کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ لیکن انڈسٹری کے شعبہ میں مسلم خواتین کی رہنمائی کیلئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ اس کمی کو دور کرنے کیلئے مسلم انڈسڑیلسٹ ایسوسی ایشن نے گزشتہ سال جو قدم اٹھایا تھا اس کے اچھے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ startup کے طور چھوٹے پیمانے پر تجارت اور کمپنیاں شروع کرنے کیلئے خواہش مند خواتین مسلم انڈسڑیلسٹ ایسوسی کے شعبہ خواتین سے رجوع ہوکر مدد اور رہنمائی حاصل کررہی ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ اس پہل سے مسلم سماج میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 20, 2020 11:21 AM IST