உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش کرناٹک میں پُرامن طریقہ سے منایا گیا

     کرناٹک کی اسمبلی میں مجاہدآزادی حضرت ٹیپوسلطان کا جشن یوم پیدائش منایاگیا۔ ودھان سودھا کے بنکویٹ ہال میں وزیرآبپاشی ڈی کے شیوکمارنےتقریب کا افتتاح کیا۔

    کرناٹک کی اسمبلی میں مجاہدآزادی حضرت ٹیپوسلطان کا جشن یوم پیدائش منایاگیا۔ ودھان سودھا کے بنکویٹ ہال میں وزیرآبپاشی ڈی کے شیوکمارنےتقریب کا افتتاح کیا۔

    کرناٹک کی اسمبلی میں مجاہدآزادی حضرت ٹیپوسلطان کا جشن یوم پیدائش منایاگیا۔ ودھان سودھا کے بنکویٹ ہال میں وزیرآبپاشی ڈی کے شیوکمارنےتقریب کا افتتاح کیا۔

    • Share this:
      شیرمیسور حضرت ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش کرناٹک بھر میں آج پُرامن طریقہ سے منایاگیا۔ بنگلورو کے ودھان سودھا میں حکومت نے ٹیپوسلطان کوخراج عقیدت پیش کیا۔ لیکن اس مرکزی تقریب میں وزیراعلی اور نائب وزیراعلی نے شرکت نہیں کی۔ کرناٹک کی اسمبلی میں مجاہدآزادی حضرت ٹیپوسلطان کا جشن یوم پیدائش منایاگیا۔ ودھان سودھا کے بنکویٹ ہال میں وزیرآبپاشی ڈی کے شیوکمارنےتقریب کا افتتاح کیا۔ کرناٹک کے امیرشریعت مولانا صغیراحمد رشادی کی سرپرستی اور سابق وزیرآرروشن بیگ کی صدارت میں تقریب منعقد ہوئی۔ کابینہ وزیراور کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کےشیوکمارنے کہاکہ بی جے پی کی تنقید اور مخالفت ٹیپوسلطان کے کارناموں پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔اُنہوں نے کہ ملک کے آئین میں جھانسی کی رانی لکشمی بائی کے ساتھ ٹیپوسلطان کی بھی تصویر ہے۔

      ملک کے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کا بھی ڈی کے شیوکمار نے تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک کی اسمبلی کے تاریخی اجلاس میں رام ناتھ کووند نے تقریبا آدھے گھنٹہ تک خطاب۔ اس خطاب میں رام ناتھ کووند نے چار منٹ تک ٹیپوسلطان کی تعریف کی۔ کیا یہ تمام باتیں بی جے پی کو سمجھ میں نہیں آتیں ۔ ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ حکومت تمام طبقوں کی نمائندہ شخصیات کا یوم پیدائش مناتے آرہی ہے۔

      ٹیپوسلطان کے ہی یوم پیدائش پر بی جے پی کو کیوں اعتراض ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ اُنکی حکومت تمام طبقوں،مذہبوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی ہے۔ تقریب میں محکمہ کنڑا اینڈ کلچر کی وزیر جئے مالا نے ٹیپوسلطان کے کارناموں پر خطاب کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اراضی اصلاحات، زراعت کی ترقی، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے، چین سے ریشم کی صنعت متعارف کرنے راکیٹ ٹکنالوجی کوفروغ دینے اسطرح کے کئی فلاحی کام ٹیپوسلطان نے اپنے دور حکومت میں کئے ہیں۔
      آئین کے16ویں زمرے میں دوتصاویر ہیں ایک جھانسی کی رانی لکشمی بائی اوردوسری ٹیپوسلطان کی ہے۔ کیا وہ لوگ ناسمجھ تھے؟ یہاں صدر جمہوریہ آئےتھے۔ اپنے آدھے گھنٹے کے خطاب میں اُنہوں نے چار منٹ تک ٹیپوسلطان کی تعریف کی۔ٹیپوسلطان نے میسور کو ملک کی امیرریاست بنایا۔چین سے کرناٹک میں ریشم کی زراعت متعارف کی۔

      تقریب میں وزیراقلیتی بہبود ضمیراحمدخان نے کہاکہ ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش گزشتہ چار سالوں سے سرکاری سطح پر منایاجارہاہے۔ لیکن اس سے قبل کئی سالوں سے عوام ٹیپو جینتی منعقد کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ ٹیپوسلطان تمام مذہب کے ماننے والوں کے دل میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ ضمیراحمد خان نے سوال کیاکہ بی جے پی کے ریاستی صدر یڈیورپا نے جب اپنی ہی پارٹی کے جے پی بنائی تو کیوں انہوں نے ٹیپوجینتی کا جشن منایا۔ اب دوبارہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد کیوں ٹیپوجینتی کی مخالفت کررہے ہیں۔ سابق وزیرروشن بیگ نے کہاکہ بی جے پی کوسال2019کے انتخابات میں شکست نظر آرہی ہے۔ اس لئے بی جے پی کبھی رام مندر تو کبھی ٹیپوسلطان کا موضوع اُٹھا کرسیاست کررہی ہے۔ کئی شہروں کے ناموں کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم لیڈروں، علمائ کرام کی قربانیوں کوفراموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بی جے پی کی اس فرقہ پرست سیاست کا جواب آنے والے انتخابات میں عوام ضرور دیں گے۔

      اس اہم تقریب میں وزیراعلی کمارسوامی اور نائب وزیراعلی جی پرمیشور نے شرکت نہیں کی۔ لیکن تقریب میں ان کے تحریری پیغامات کو پڑھ کرسُنایاگیا۔ میسور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسرڈاکٹر سداشیو نےخصوصی لیکچر پیش کرتے ہوئے ٹیپوسلطان کوسیکیولرزم کا علمبردار،غریبوں کا مسیحیٰ،دلتوں اور کسانوں کاساتھی، راکیٹ ٹکنالوجی کا موجد قرار دیا۔ڈاکٹر شیوکمار نے تاریخ کے مختلف واقعات کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ ٹیپوسلطان نے سیاسی،تعلیمی،سماجی،معاشی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔

      حیدرعلی اور ٹیپوسلطان کی حکومت صرف38کی معیاد پر مشتمل تھی۔ لیکن اس دوران اُنہوں نے ریاست میسور مالی، تہذیبی اورثقافتی اعتبارسے ترقی یافتہ بنایا۔ پہلی مرتبہ لینڈ ریفارم کے ذریعہ غریب کسانوں،دلتوں کو زمیندار بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ ٹیپوسلطان نے مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں میں زمینات تقسیم کیں۔ کئی مندراور مٹھوں کومالی تعاون جاری کیا۔ڈاکٹر ساداشیو نے کہاکہ ٹیپوسلطان کی فوج میں ہرمذہب اور ہرطبقہ کو نمائندگی حاصل تھی۔ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو ٹیپوسلطان نے سزا دی چاہئےہوں ہندو ہوں یا مسلمان۔ انہوں نے کہاکہ تاریخی حقائق کے مطابق ٹیپوسلطان کے خلاف فرقہ پرستی اور لسانی تعصب کا الزام بے بنیاد ہے۔ اس تقریب میں بڑی تعداد میں ٹیپوسلطان کے شیدائیوں نے شرکت کی۔ تاہم وزیراعلی اور نائب وزیراعلی کی غیرموجودگی پر ناراضگی کا اظہار بھی ٹیپوسلطان کے مداحوں نے کیا۰۔
      First published: