உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مندر کے فیسٹیول میں مسلم آفیسر کے رول کی مخالفت والے قانون کو کرناٹک حکومت کرے گی منسوخ

    بنگلورو۔ پٹر مندر کے فیسٹیول میں دکشن کنڑ ضلع کے مسلم ڈی ایم کے رول کی وی ایچ پی کے ذریعہ مخالفت کئے جانے کے بعد کرناٹک حکومت نے اب انیس سو ستانوے کے اس قانون کو ہی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر وی ایچ پی نے مندر کے فیسٹیول میں مسلم آفیسر کے رول کی مخالفت کی تھی۔

    بنگلورو۔ پٹر مندر کے فیسٹیول میں دکشن کنڑ ضلع کے مسلم ڈی ایم کے رول کی وی ایچ پی کے ذریعہ مخالفت کئے جانے کے بعد کرناٹک حکومت نے اب انیس سو ستانوے کے اس قانون کو ہی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر وی ایچ پی نے مندر کے فیسٹیول میں مسلم آفیسر کے رول کی مخالفت کی تھی۔

    بنگلورو۔ پٹر مندر کے فیسٹیول میں دکشن کنڑ ضلع کے مسلم ڈی ایم کے رول کی وی ایچ پی کے ذریعہ مخالفت کئے جانے کے بعد کرناٹک حکومت نے اب انیس سو ستانوے کے اس قانون کو ہی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر وی ایچ پی نے مندر کے فیسٹیول میں مسلم آفیسر کے رول کی مخالفت کی تھی۔

    • Share this:
      بنگلورو۔ پٹر مندر کے فیسٹیول میں دکشن کنڑ ضلع کے مسلم ڈی ایم کے رول کی وی ایچ پی کے ذریعہ مخالفت کئے جانے کے بعد کرناٹک حکومت نے اب انیس سو ستانوے کے اس قانون کو ہی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر وی ایچ پی نے مندر کے فیسٹیول میں مسلم آفیسر کے رول کی مخالفت کی تھی۔ ریاستی حکومت کے مطابق، آئین کے سیکولر ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کے لئے اس پرانے قانون کو منسوخ کیا جا رہا ہے۔

      واضح رہے کہ منگل کو کرناٹک اسمبلی میں اس مسئلہ پر زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ بی جے پی نے قانون منسوخ کرنے سے متعلق حکومت کے فیصلہ کی مخالفت کی لیکن اسپیکر نے حکومت کو یہ مشورہ دیتے ہوئے ڈی ایم کی حمایت کی کہ مندر کے فیسٹیول کی صدارت کے لئے آئی اے ایس آفیسر کو قانونی مدد فراہم کرنے کی غرض سے وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر قانون میں ترمیم کر سکتی ہے۔ منگلورو کے قریب مہالنگیشور مندر کی ایک سالانہ تقریب سے متعلق دعوت نامہ میں مسلم آئی اے ایس آفیسر اے بی ابراہیم کے نام کی وی ایچ پی اور بجرنگ دل نے شدید مخالفت کی تھی۔

      مسلم آفیسر نے بلا وجہ تنازعہ میں اپنا نام گھسیٹے جانے پر برہمی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ کئی بار اس طرح کے فیسٹول میں شرکت کر چکے ہیں اور مقامی مندروں کی مینجمنٹ کمیٹی کے ساتھ انہوں نے متعدد بار ملاقاتیں کی ہیں۔ اے بی ابراہیم نے کہا کہ پہلی بار دعوت نامہ میں میرا نام چھپا نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل دو مواقع پر بھی میرا نام دعوت نامہ میں چھپا تھا۔ میں گزشتہ دو برسوں سے مندروں کی انتظامی سرگرمیوں میں بحیثیت آفیسر شامل رہا ہوں۔ ماضی میں کسی نے بھی اس طرح کا کوئی تنازعہ پیدا نہیں کیا۔

      دوسری طرٖف، ریاستی حکومت بھی مسلم آفیسر کے دفاع میں سامنے آ گئی ہے۔ منگلور کے وزیر یوٹی کھدر نے کہا ہے کہ یہ کوئی ذات پات یا نسل کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ڈی سی کا عہدہ ہے۔ ڈی سی کی حیثیت سے وہ اے گریڈ کے مندروں کے انچارج ہیں۔ ریاستی وزیر جی پرمیشور کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس طرح کے ایشوز اچھالنے کا مقصد نا اتفاقی اور عدم رواداری پیدا کرنا ہے۔

      خیال رہے کہ کرناٹک میں پچاس ہزار سے زائد ایسے مندر ہیں جن کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہے۔ یہ مندر مزرئی یا مذہبی امور کے محکمہ کے تحت آتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اور ضلع مجسٹریٹ مزرئی محکمہ کے تحت آنے والے تمام مندروں کے سربراہ ہوتے ہیں۔ وہ انتظامیہ کے انچارج ہوتے ہیں ، تاہم مندر سے متعلق کسی کام میں وہ مقامی مندروں کی انتظامیہ سے صلاح ومشورے کرتے ہیں۔

       
      First published: