உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک اردو اکیڈمی کی صدرڈاکٹرفوزیہ چودھری کا انتقال

    بنگلورو : کرناٹک اردواکیڈمی کی صدر ڈاکٹرفوزیہ چودھری کا ایک پروگرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اردو اکیڈمی کے لائبریری میں منعقدہ پروگرام حاصل مطالعہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرفوزیہ چودھری کے انتقال کی خبرجوں ہی پھیلی باشندگان بنگلور میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔

    بنگلورو : کرناٹک اردواکیڈمی کی صدر ڈاکٹرفوزیہ چودھری کا ایک پروگرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اردو اکیڈمی کے لائبریری میں منعقدہ پروگرام حاصل مطالعہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرفوزیہ چودھری کے انتقال کی خبرجوں ہی پھیلی باشندگان بنگلور میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔

    بنگلورو : کرناٹک اردواکیڈمی کی صدر ڈاکٹرفوزیہ چودھری کا ایک پروگرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اردو اکیڈمی کے لائبریری میں منعقدہ پروگرام حاصل مطالعہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرفوزیہ چودھری کے انتقال کی خبرجوں ہی پھیلی باشندگان بنگلور میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بنگلورو : کرناٹک اردواکیڈمی کی صدر ڈاکٹرفوزیہ چودھری کا ایک پروگرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اردو اکیڈمی کے لائبریری میں منعقدہ پروگرام حاصل مطالعہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرفوزیہ چودھری کے انتقال کی خبرجوں ہی پھیلی باشندگان بنگلور میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔


      شہر کے فریزرٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ پرصبح سے ہی لوگوں کا تانتا لگ گیا اور ان کے آخری دیدار کیلئےرشتہ دار،دوست ، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، اسکولوں، کالجوں کےاساتذہ، طلبہ، شعرا،ادبا جوق درجوق آتے رہے۔ بعد نماز ظہر مسجد قادریہ میں فوزیہ چودھری کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جبکہ قدس صاحب قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔


      قابل ذکر ہے کہ جون 2014میں ڈاکٹر فوزیہ چودھری نے کرناٹک اردو اکیڈمی کی صدرارت سنبھالی تھی۔ اس سے قبل وہ مہارانی کالج میں شعبہ اردو کی صدر تھیں۔ ڈیڑھ سال کے مختصر عرصہ میں انہوں نے اکیڈمی کے بینر تلے وہ تعمیری کام انجام دئے ، جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی ہے۔


      ڈاکٹر فوزیہ نے گزشتہ سال نومبر میں اعلی سطح پر گلبرگہ میں ایک اجلاس منعقد کرکے کرناٹک اردو اکیڈمی کے چارٹر کو قطعیت دی تھی۔ اس سے قبل اردو اکیڈمی وزارت کنڑ اور ثقافت و کلچر کے زیرچارٹر پر کام کرتی تھی۔ بنگلور میں اردو ہال کی تعمیر بھی ان کا خواب تھا۔


      ان کی صدارت میں کنڑ، انگریزی اور اردو سہ لسانی لغت کا اجرا عمل میں آیا۔ اردو کے قارئین کے دروازے تک اردو کتابوں کو پہچانے کے لیےاردو موبائل وین کی انہوں نے شروعات کی۔ اردو کے بزرگ اور معاشی طور سے کمزور شاعر، ادیب، صحافیوں کے علاج ومعالجہ کے لیے بھی مدد کا انتظام کروایا ۔ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے انہوں نے بیت بازی، لطیفہ گوئی اور تقریری مقابلوں کا ریاستی سطح پر انعقاد کرایا۔


      ڈاکٹر فوزیہ چودھری کا تعلق کرناٹک کے شمالی شہر یادگیر کے چھوٹے سے قصبے تما پور سے تھا۔ انہوں نے گلبرگہ یونی ورسٹی سے 1985 میں ایم اے اردو میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد وہیں سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی شادی بنگلور کے ایک تاجر سے ہوئی تھی۔

      First published: